اسلام میں تعلیم نسواں کی اہمیت
حصول علم تمام مسلمانوں پر(بلا تفریق مرد و زن) فرض ہے‘‘ (ابن ماجہ) جس کے ہاں لڑکی پیدا ہو اور وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی اس پر بارش کرے اور تعلیم و تربیت سے بہرہ ور کرے تو میں خود ایسے شخص کیلئے جہنم کی آڑ بن جاؤں گا (بخاری شریف)
اسلام نے عورتوں کودینی ودنیوی تعلیم کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ ان کی تعلیم و تربیت کو بھی اتنا ہی اہم قرار دیا ہے، جتنا مردوں کی تعلیم و تربیت کو ضروری قرار دیا ہے۔ نبی کریمﷺ سے جس طرح دین کی تعلیم مرد حاصل کرتے تھے،اسی طرح عورتیں بھی حاصل کرتی تھیں۔ آپ ﷺ خواتین کی تعلیم کا بڑا خیال کرتے تھے، اس کیلئے آپ ﷺنے الگ وقت متعین کر رکھا تھا۔ ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں: عورتوں نے نبیﷺ سے درخواست کی کہ آپﷺ کے پاس مردوں کی بھیڑرہتی ہے اس لیے ہم عورتوں کیلئے ایک دن مختص فرما دیجئے، اس پر آپﷺ نے ایک دن ان عورتوں کیلئے مقرر کر دیا۔
مردوعورت کی تفریق کئے بغیر تعلیم سب پر ضروری ہے ،اس حوالے سے یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا ’’حصول علم تمام مسلمانوں پر(بلا تفریق مرد و زن) فرض ہے‘‘ (ابن ماجہ: 664) ۔سب پڑھیں ،سب بڑھیں یہی مذہب اسلام کا اوّلین حکم ہے۔اللہ کے رسولﷺ پر جو سب سے پہلی وحی نازل ہوتی ہے، پڑھو اور وحی نبوت کی زبان سے یہ فرمان بھی جاری ہوتاہے کہ ’’ علم کا حاصل کرناہرمسلمان پر فرض ہے‘‘۔ خود خالق کائنات نے ایک جگہ ارشاد فرمایاہے: ’’ان سے پوچھو کیاجاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں برابرہوسکتے ہیں‘‘۔
مذہب اسلام جس کی بنیاد ہی تعلیم ہے، افسوس کی بات ہے کہ اسی مذہب کے ماننے والے تعلیمی اعتبارسے سب سے پیچھے ہیں۔ آج بھی ایسے خاندان و قبیلے موجود ہیں جو بچوں کو تو تعلیم دیتے ہیں ان پہ پیسہ خرچ کرتے ہیں لیکن بچیوں کو تعلیم نہیں دلاتے ۔ وہ اس وجہ سے کہ یہ تو کسی اور کے گھر جائیں گی،انہیں تعلیم دے کر کیا فائدہ۔یاد رکھیے کہ قوموں کی تعلیم ،ماں کی تعلیم پر موقوف ہے، ماں تعلیم یافتہ ہوگی تو بچے کو بھی تعلیم سے آشناکرے گی۔ اگر ماں کے دلوں میں تعلیمی رغبت موجود ہو تو بچے بھی اس رغبت سے فیضیاب ہوں گے۔
ماں کی گود کو انسان کی پہلی درسگاہ کہا جاتا ہے اور ظاہر ہے مدرسہ میں تعلیم بہتر اسی وقت ہو سکتی ہے جب کہ معلم اچھے ہوں، اور جس گھر میں مائیں معلمہ ہوتی ہیں، یعنی وہ پڑھی لکھی تعلیم و تربیت سے معمور ہوتی ہیں، ایک دینی و تعلیمی ماحول دیکھنے کو ملتا ہے اور جہاں پر مائیں تعلیم و تربیت سے عاری اوربداخلاق ہوتی ہیں،بچے بھی اس کے اثرات قبول کرتے ہیں۔
ہماری عورتوں کو بھی اکثریہ خلجان و شبہ رہتا ہے کہ ترقی اور علم وفضل کا میدان صرف مردوں کیلئے ہے ، عورتیں گھر میں بیٹھنے والی اور کچن سنبھالنے کیلئے ہیں،اسے علم سے کیا واسطہ؟ مگر سچائی اور مذہب اسلام کی تعلیمات اس کے بالکل برعکس ہے ۔رسول اللہﷺنے لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں فرمایا ہے: ’’جس کے پاس تین بیٹیاں،یابہنیں ہوں،یادو بیٹیاں یا بہنیں ہوں، اس نے ان کی تربیت کی،ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا اور ان کی شادی کرا دی تواس کیلئے جنت ہے‘‘ (ابو داؤد)۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ رسول ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ’’جس شخص کے ہاں لڑکی پیدا ہو اور وہ خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی اس پر بارش کرے اور تعلیم و تربیت اور حسن ادب سے بہرہ ور کرے تو میں خود ایسے شخص کیلئے جہنم کی آڑ بن جاؤں گا‘‘ (بخاری شریف)
رسول اللہ ﷺ نے باندیوں اورخادماؤں کو علم وادب سکھانے کی ترغیب دلائی ہے،ارشاد فرمایاہے: ’’جس شخص کے پاس کوئی باندی ہو اور وہ اس کوعمدہ تہذیب وشائستگی سکھائے اوراچھی تعلیم دلائے اور پھر اس کو آزاد کر کے شادی کر لے تو اس کیلئے دوہرا اجر ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا انصارکی عورتوں کی تعریف کرتے ہوئے فرماتی ہیں:انصارکی عورتیں بھی خوب تھیں کہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں حیا وشرم ان کیلئے مانع نہیں بنتی تھی۔(بخاری شریف)
ان ارشادات کی وجہ سے قرون اولیٰ میں خواتین کے درمیان بے پناہ تعلیمی بیداری آئی اور خواتین نے بھی علمی میدانوں میں غیرمعمولی کارنامے انجام دیئے۔ابتدائے اسلام میں پانچ خواتین اُم کلثومؓ ،عائشہ بنت سعدؓ،مریم بنت مقدادؓ، شفا بنت عبد اللہؓ ،عائشہ بنت ابی ابکرؓپڑھی لکھی تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بہت بڑی عالمہ تھیں، دوہزار دوسو دس روایتیں ان کی طرف سے ہیں۔بڑے بڑے صحابہ کرامؓ جب کسی مسئلے میں حل نہیں نکال پاتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے رجوع کرتے۔ اُم المؤمنین حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی فقاہت کی وجہ سے صحابہ کرامؓ کیلئے مرجع کی حیثیت رکھتی تھیں۔
عورتیں معاشرے کا نصف حصہ ہیں ،ظاہر ہے کہ ان کی تعلیم کے بغیر قوم اور معاشرے کی ترقی ناگزیرہے ۔ وہ دنیاوی اور دینی دونوں علوم سے آراستہ ہوں۔آج معاشرے کو پڑھی لکھی خواتین کی ا شد ضرورت ہے۔ صاحب منصب کو ان کی تربیت کیلئے عمدہ نظام قائم کرناچاہیے تاکہ وہ صاف ،ستھری اور اسلامی طریقے کے مطابق پاکیزہ زندگی بسر کر سکیں۔اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کی مائوں، بہنوں، بیٹیوں کی حفاظت فرمائے، (آمین)