جاپانی کہاوتوں میں محنت کرنے کا سبق

تحریر : سروش فاطمہ


ہر ملک میں الگ الگ کہاوتیں مشہور ہیں جو وہاں کے رہن سہن کی عکاسی کرتی ہیں۔ جدوجہد کرنے اورعلم حاصل کرنے کی تلقین کرنے والی جاپانی کہاوتیں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

انہیں پڑھ کر جاپانی بچوں نے زندگی میں خوب محنت کرنا سیکھاہے۔ ہم آج ان میں سے چند کہاوتوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔

کہاوت: ’’ ایک ہزار میل کا سفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے‘‘۔ اس میں جاپانی کہتے ہیں کہ خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجئے اور جب کوئی فیصلہ کر لیں تو اس پر ڈٹ جائیں۔ پھر سوچنا چھوڑ دیں۔

کہاوت ’’اپنی پوری کوشش کرو اور باقی کو تقدیر پر چھوڑ دو‘‘۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم لوگ سب سے زیادہ محنتی ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ انسان کو نتائج سے بے فکر ہو کر دیانت داری سے محنت کرنی چاہیے۔اسی طرح آپ کو بھی سکول اور کالج میں پوری محنت کرنے کے بعدنتائج اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔بے شک وہی سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔

کہاوت ’’دوسروں کے ساتھ مہربانی کرو‘‘۔ ہمارے دین کی طرح جاپانی باشندے بھی دوسروں سے محبت اور بھلائی کا سبق دیتے ہیں، ان کی بہت سے رسومات میں دوسروں کیلئے احترام اور ان کے تحفظ کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ کہاوت بھی جاپانی بچوں کو ہی نہیں بلکہ بڑوں کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کرنے اور محبت سے پیش آنے کا درس دیتی ہے۔  

کہاوت’’ خوش قسمت شخص ہنستا ہوا گھر میں آئے گا‘‘۔ کتنی اچھی بات انہوں نے ہمیں بھئی سکھائی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ خوش رہنے والا اچھی قسمت بنا سکتا ہے۔ ہنسی خوشی سے جینے والوں کی قسمت بھی اچھی ہوتی ہے۔ 

کہاوت’’ اگر آپ سوال کریں گے تو ایک منٹ کیلئے شرم محسوس ہوگی ، اگر سوال نہیں کریں گے تو زندگی بھر شرمندگی محسوس ہو گی۔ اس کہاوت میں یہ سبق ہے کہ بہت سے بچے سکول میں سوال کرنے سے گھبراتے ہیں کہ دوسرے بچے تعلیم میں کمزور سمجھیں گے۔ لیکن جاپانی کہتے ہیں کہ سوال کیجئے ورنہ تعلیمی کمزوری سے آپ پیچھے رہ جائیں گے ا ور زندگی بھر پچھتانا پڑے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔