درخواست کی کلاس!

تحریر : ملک محمد احسن ( راولپنڈی )


سکول کے صحن میں ہلکی سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور بچے اپنی اپنی کلاسوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔

ساتویں جماعت کا کمرہ آج خاص طور پر پرسکون تھا، جیسے کسی نئے سبق کے انتظار میں ہو۔ کچھ ہی دیر میں اُردو کے استاد فرحان صاحب، کمرے میں داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھ میں چند کاغذتھے، جنھیں دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ آج کا سبق عملی نوعیت کا ہوگا۔ 

السلام علیکم بچو!اُنھوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ 

وعلیکم السلام! سب نے یک زبان ہو کر جواب دیا۔ 

فرحان صاحب نے کہا: آج ہم درخواست لکھنے کے موضوع کو آگے بڑھائیں گے۔ پچھلی بار ہم نے درخواست کی اہمیت اور طریقہ کار سیکھا تھا، لیکن آج ہم اس کی اقسام پر بات کریں گے، اور یہ سمجھیں گے کہ کونسی درخواست کب اور کیسے لکھی جاتی ہے۔ 

عاصم نے ہاتھ اُٹھایا، سر کیا درخواستوں کی بھی مختلف اقسام ہوتی ہیں؟‘‘ 

استاد نے سنجیدگی سے سر ہلاتے ہوئے کہا جی ہاں اور یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں۔

حنا نے کہا: سر، سب سے پہلے کون سی قسم ہے؟

استاد نے کہا:سب سے عام قسم رخصت کی درخواست ہے۔ جو آپ اسکول یا دفتر سے چھٹی لینے کیلئے لکھتے ہیں۔ اس میں آپ کو اپنی غیر حاضری کی وجہ واضح اور سچی بیان کرنی ہوتی ہے، جیسے بیماری، گھریلو مصروفیات یا کوئی اہم کام۔ اُنھوں نے میز پر رکھے کاغذوں میں سے ایک اُٹھایا اور پڑھتے ہوئے کہاکہ مثلاً اگر آپ بیمار ہیں تو لکھیں کہ ڈاکٹر نے آرام کا مشورہ دیا ہے ۔  

قاسم نے پوچھا: سر، اگر ہم وجہ نہ بتائیں تو؟ استاد نے ہلکی مسکراہٹ کیساتھ جواب دیا، پھر درخواست ادھوری سمجھی جائے گی۔  

 اُنھوں نے اگلی قسم کی طرف اشارہ کیا، دوسری اہم قسم فیس میں رعایت کی درخواست ہے۔ یہ ان طلبا کیلئے ہوتی ہے جن کے گھر کے حالات کمزور ہوں۔ اس میں ادب اور سچائی کے ساتھ اپنے حالات بیان کیے جاتے ہیں۔ 

ثناء نے پوچھا: سر، کیا اس میں تفصیل دینا ضروری ہے؟ ، استاد نے جواب دیا، ’’ہاں، لیکن حد سے زیادہ نہیں۔ آپ کو اپنے حالات اس انداز میں بیان کرنے ہیں کہ پڑھنے والا آپ کی مشکل کو سمجھ سکے، مگر تحریر لمبی اور بوجھل نہ ہو۔ 

استاد نے پھر کہا، تیسری قسم درخواست برائے تصحیح غلطی ہے۔ فرض کریں کہ آپ کے امتحانی نمبر غلط درج ہوگئے ہیں یا آپ کے نام میں کوئی غلطی ہو گئی ہے تو آپ اس کیلئے درخواست لکھتے ہیں۔ 

اعظم نے فوراً پوچھا: سر، کیا اس میں ثبوت بھی دینا ہوتا ہے؟۔استاد نے اثبات میں سر ہلایا، بالکل! ایسی درخواستوں میں ثبوت یا حوالہ دینا بہت ضروری ہوتا ہے، جیسے رول نمبر، تاریخ یا کوئی دستاویز۔ اس سے آپ کی درخواست مضبوط ہوجاتی ہے۔ 

پھر اُنھوں نے چاک سے ایک اور عنوان لکھا، درخواست برائے داخلہ ۔ جب آپ کسی اسکول، کالج یا ادارے میں داخلہ لینا چاہتے ہیں تو یہ درخواست لکھی جاتی ہے۔ اس میں آپ اپنی تعلیمی قابلیت ، دلچسپی اور مقصد بیان کرتے ہیں۔ 

نعیم نے دلچسپی سے پوچھا، سر، کیا اس میں اپنی خوبیوں کا ذکر کرنا چاہیے؟، استاد نے مسکرا کر کہا، ضرور، لیکن عاجزی کے ساتھ۔ 

کچھ لمحوں کیلئے کلاس میں خاموشی چھا گئی، جیسے بچے ہر بات کو ذہن نشین کر رہے ہوں۔ 

استاد نے کہا، ایک اور اہم قسم درخواست برائے مسئلہ حل ہے۔ یہ وہ درخواست ہوتی ہے جس میں آپ کسی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں، جیسے اسکول میں پانی کی کمی، صفائی کا مسئلہ یا کسی سہولت کی کمی۔ 

حنا نے تجسس سے پوچھا، سر،کیا اس میں حل بھی بتانا چاہیے؟ 

استاد نے خوش ہوکر کہا، جی ہاں، اگر ممکن ہو تو مسئلے کے ساتھ حل بھی تجویز کریں۔ 

استاد نے ایک گہری سانس لی اور کہا، بچو! درخواست کی ہر قسم کا اپنا انداز اور مقصد ہوتا ہے ، لیکن کچھ باتیں ہر درخواست میں مشترک ہوتی ہیں۔ اُنھوں نے انگلیوں پر گناتے ہوئے کہا ادب، سچائی، وضاحت اور اختصار۔ یہ چار اصول ہر درخواست میں ہونے چاہئیں۔ 

 پھر اُنھوں نے ایک عملی مثال دینے کا فیصلہ کیا، چلو، ایک صورت حال لیتے ہیں۔ فرض کرو کہ اسکول میں پینے کے پانی کا مسئلہ ہے، اور تمہیں پرنسپل صاحب کو درخواست لکھنی ہے۔ 

عاصم نے تجسس سے پوچھا، سر، کیا ہم اس میں مسئلہ اور حل دونوں لکھیں گے؟،استاد نے کہا، بالکل، اور یہی ایک اچھی درخواست کی پہچان ہے۔ اُنھوں نے تختہ سیاہ پر لکھنا شروع کیا۔

جناب پرنسپل صاحب 

ا ب پ اسکول 

السلام علیکم! 

موضوع: درخواست برائے فراہمی پانی !

عرض ہے کہ ہمارے اسکول میں پینے کے صاف پانی کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر گرمی کے دنوں میں یہ مسئلہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ گزارش ہے کہ پانی کے مناسب انتظامات کیے جائیں، جیسے واٹر کولر کی تنصیب یا ٹینک کی صفائی۔ 

آپ کی توجہ کا شکریہ 

آپ کے فرمانبردار طلبہ 

 تاریخ۔۔۔۔۔۔۔                                                                                                                                                          

کلاس ختم ہوئی، مگر اس دن کے بعد بچوں کیلئے درخواست صرف ایک مضمون نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی مہارت بن گئی جس کے ذریعے وہ اپنی بات موثر انداز میں پیش کرسکتے تھے۔ اور یہی اس سبق کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

عشرہ ذوالحجہ:رحمتوں و برکتوں والے دن

اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینے ذوالحج کے پہلے عشرہ کو برکت و عظمت عطا فرمائی اس عشرہ میں کیے جانے والے نیک اعمال کا اجر باقی ایام کے مقابلے کئی گنا زیادہ ہے(صحیح بخاری) رسول اللہ ﷺ ماہ ذوالحج کے (پہلے) نو دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے ( ابو دائود)

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام:جلیل القدر پیغمبر

حج و عمرہ کی اکثر عبادات کا تعلق سنت ابراہیمی سے ہے

جانوروں کے حقوق اور ہماری ذمہ داریاں

’’جانور کو کھلانا پلانا باعث اجر ہے‘‘(ابن ماجہ)

مسائل اور ان کا حل

حالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبودار مشروبات پینا سوال: کیاحالت احرام میں مختلف ذائقوں والے خوشبو دار مشروبات پینا جائز ہے،کیا اس کے پینے سے دم لازم ہوگا؟(تنویر خان، بہاولپور)

سفارتی کامیابیاں مگر معاشی محاذ پر مشکلات

پاکستان نے حالیہ مہینوں میں سفارتی محاذ پر غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ خطے میں بڑھتی کشیدگی خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ کے دوران پاکستان نے نہ صرف متوازن سفارتکاری کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے کردار کو بھی نمایاں کیا۔

مجوزہ 28ویں ترمیم اوراپوزیشن کی سیاست

ملک کے سیاسی حلقوں میں سرگوشیاں ہیں کہ حکومت آنے والے دنوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 28 ویں ترمیم کی منظوری کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔