ایران کی تہذیبی قوت اور اقبالؒ کی بصیرت

تحریر : ڈاکٹر زاہد منیر عامر


تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیواشاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے:امم را ازشہان پایندہ ترداننمی بینی کہ ایران ماندوجم رفت

تاریخ قدیم میں جو سلطنتیں دنیاکی تقدیرکی تشکیل کرتی تھیں ایران ان میں سے ایک تھا۔وقت کے ساتھ باقی قوتیں رفتہ رفتہ ماضی ہوتی چلی گئیں لیکن ہزاروں سال گزرجانے کے باوجودایران آج بھی دنیامیں ایک زندہ و تابندہ قوت کے طورپر موجود ہے۔اقبالؒ، ایران اور اس کی غیرمعمولی تہذیب و تمدن یہاں کی شیریں زبان اور ایرانی قوم کی صلابت و  توانائی کا مداح اور قائل ہے۔ اس نے اپنے کلام میں مختلف حوالوں سے ایران، ایرانی قوم، ایرانی تہذیب اور ایرانی ادبیات کا ذکرکیاہے۔وہ جب تاریخ عالم پرنظرڈالتاہے تو اس امرکو عنایاتِ خدامیں شمارکرتاہے کہ تاریخ کے بے شمار انقلابات کے باوصف ایران آج بھی زندہ و تابندہ ہے اور عالمی منظر نامے میں اپنی الگ شناخت اور اپنی تہذیبی روایت کے باعث نمایاں ہے اورمستکبرین آج بھی اس کے نام سے لرزہ براندام ہیں۔ا قبالؒ نے اس حقیقت کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ!

این چنین حشرازعنایات خداست

پارس باقی روم الکبریٰ کجاست

(یہ شان اورعظمت ، خداکی عنایات میں سے ہے کہ ایران آج بھی باقی ہے روم الکبریٰ آج کہاں ہے)۔ یونان کو اسکندرسے اور روم کو قیصر سے پہچاناجاتاتھا، اسی طرح ایران کی پہچان دارا اور جمشید اور خسرو کو سمجھاجاتاتھا۔ اقبالؒ اس تصور سے اختلاف کرتے ہوئے کہتاہے کہ قوموں کی اپنی پہچان ہوتی ہے انھیں افرادیا حکمرانوں کی بجائے ان کے قومی تشخص سے پہچانا جانا چاہیے۔ کار زارِ ہستی میں افراد آتے جاتے رہتے ہیں، قومیں اپنی قوت عمل اور عزم پیہم سے بقائے دوام کے دربار میں جگہ پاتی ہیں ۔

امم را ازشہان پایندہ تردان

نمی بینی کہ ایران ماندوجم رفت

(قوموں کو بادشاہوں سے زیادہ پایندہ تر سمجھو، کیاتم نہیں دیکھتے کہ ایران آج بھی باقی ہے اور جمشیدجیسے بادشاہ قصہ ماضی بن گئے)فکر اقبالؒ کے ارتقاسے واقفیت رکھنے والے اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ اقبالؒ نے نیشنلزم کے مغربی تصورپر کاری ضرب لگائی تھی۔ ان کے نزدیک قومیں اوطان کی بنیادپر نہیں تصورحیات کی اساس پر بناکرتی ہیں اور اقبالؒ اس تصور حیات کے داعی اور مبلغ ہیں جو انھیں قرآن سے حاصل ہواہے ،قرآن جس امت کی تشکیل کرتاہے وہ شرقی ہے نہ غربی شمالی ہے نہ جنوبی۔ وہ کسی خطے یا افرادکی بناپر استوار نہیں ہے بلکہ اس کی اساس توحید ہے اقبالؒ نے زندگی بھر اس تصورکیلئے جہادکیا اور انھیں جو تصوربھی اس نظریے سے ٹکراتا دکھائی دیااسے انھوں نے آڑے ہاتھوں لیا۔ وہ مسلم قومیت کے تصور کو پیامبراکرم کی ہجرت  سے اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں: 

عقدئہ قومیت ِمسلم کشود

ازوطن آقایِ ما ہجرت نمود

(ہمارے آقا ﷺ نے اپنے وطن سے ہجرت کر کے مسلم قومیت کے تصور کو عملاًکھول کر دکھادیا)اس لیے وہ ہر اس تصورکو قومیت اسلام کی جڑ کاٹنے والا بتاتے ہیں جوجغرافیائی وطنیت پر استوار ہوتادکھائی دے۔چنانچہ وہ ایران کو بھی اسی آئینے  میں دیکھتے ہیں اور اپنے اشعار میں قومیت کے اس تصور کی جانب متوجہ کرتے ہیں، جس کی جانب پیامبراکرم ﷺ نے راہنمائی فرمائی تھی چنانچہ وہ کہتے ہیں 

باوطن پیوست واز خود در گزشت

دل بہ رستم داد واز حیدر گزشت 

(وہ وطن کے ساتھ جڑ گیا اور اپنی اصل (خودی) کو چھوڑ بیٹھا،اس نے دل رستم کو دے دیا اور حیدر سے منہ موڑ لیا)۔ اقبالؒ کے نزدیک’’ ملک است تن خاکی و دین روح روان است،تن زندہ و جان زندہ زربط تن وجان است‘‘ ملک مٹی کا جسم ہے اور دین اس میں روح کی طرح ہے، جسم کی زندگی اور جان کی حیات، جسم اور جان کے باہمی تعلق سے ہے۔ اس تصورقومیت میں جب ایران شامل ہوتاہے تو انھیں وہ ایک برتر اور بلندتر حیثیت کاحامل دکھائی دیتاہے۔وہ ایران کو مسلم قومیت کے ایک مرکز کے طورپر دیکھتے ہیں۔ بیسویں صدی میں جب جنیوا میں لیگ آف نیشنزکا قیام عمل میں آیا تو اقبالؒ نے اس تنظیم کے بنیادی تصور کو نشانہ تنقید بنایا تھا اور جمعیت اقوام کے مقابلے میں جمعیت آدم کا نظریہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ 

مکے نے دیاخاک جنیواکو یہ پیغام 

جمعیت اقوام کہ جمعیت آدم 

وہ مغرب کی جمعیت اقوام کے مقابلے میں مسلم قومیت کا تصوررکھنے والے ممالک کو جمعیت آدم کی تشکیل کا پیغام دیتے ہیں اور اس جمعیت آدم کی مرکزیت کیلئے ایران کاخواب دیکھتے ہیں۔وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگرایساہوجائے تو ایران میں جنم لینے والی جمعیت آدم کرہ ارض کی تقدیربدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ چنانچہ وہ برملاکہتے ہیں: 

تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا 

 شاید کرہ ارض کی تقدیربدل جائے

یہ شعران کی نظم’’ جمعیت اقوام مشرق‘‘ کا ہے جو ان کے اردوشعری مجموعے’’ضرب کلیم‘‘میں شامل ہے۔ ضرب کلیم 1936ء میں شائع ہوئی لیکن  یہ نظم اس سے بھی ایک سال قبل 1935ء میں اس وقت کہی گئی جب وہ علاج کے سلسلے میں بھوپال گئے ہوئے تھے۔ وہ’’ سطوت ِایران وافغان ودکن‘‘کے مقابلے میں ایک ملت کی تشکیل کی بات کرتے ہیں اور اس ملت کی تشکیل کی راہ میں حائل استعمارکو اپنی تنقیدکانشانہ بناتے ہیں۔وہ جب مقامی قومیت کے تصور میں فرنگ کی استعماری دسیسہ کاری کو دیکھتے ہیں وہ جس وسیع عالمگیر معاشرے کا تصور رکھتے ہیں وہ عشق کی بنیاد پر استوارہوگااور اس میں شامل خطے مقامی شناختوں سے بلندہوکر ایک عالمگیروحدت کی تشکیل کریں گے چنانچہ وہ کہتے ہیں :

عشق ورزی ازنسب باید گزشت

ھم زایران وعرب بایدگزشت 

(عشق کی راہ میں خاندان اور رنگ ونسل کی نسبتوں کو چھوڑ کر ایران و عرب (کی نسبتوں) سے بھی آگے بڑھ جانا چاہیے)اس عالمی وحدت میں مختلف جغرافیائی اکائیاں ایک ہی صبح خنداں کی شبنم ہیں ،اوروہ صبح خنداں ساقی بطحاکی چشم مست ہے جیساکہ انھوں نے وضاحت کی ہے :

مست چشم ساقی بطحاستیم

درجہان مثل می ومیناستیم

ہم بطحا کے ساقی کی مست نگاہ کے اسیر ہیں،اور اس جہان میں ہم مے اور مینا (شراب اور پیالہ) کی طرح ہیں۔تاریخی اورسیاسی حوالے کے علاوہ ایران کے ساتھ اقبالؒ کی دلچسپی کااظہارتہذیبی، تمدنی اور ادبی حوالوں سے بھی ہواہے۔ اقبالؒ کے نزدیک فارسی زبان، مسلم تہذیبی ورثے کی امین ہے۔ وہ فارسی اور اس کے بزرگ شعراکے ساتھ اپنی دلچسپی اور وابستگی کااظہارکرتے ہیں۔اقبالؒ کے کلام میں فارسی کے جلیل القدرشعرا اپنے اشعارکی تضمین یا اقبالؒ کے خراج تحسین کی صورت میں موجود ہیں۔صرف یہی نہیں اقبالؒنے ایران کو بہ طورملک اور تہذیب کے بھی اپناموضوع سخن بنایاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے کلام میں مختلف ایرانی شہروں کا ذکربھی ملتا ہے۔ یوں تو ایران سے اقبالؒ کی دلچسپی کا بڑامظہر ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جس کاعنوان ہی ’’ایران میں فلسفہ مابعد الطبیعیات کاارتقا‘‘ہے لیکن اقبالؒ نے اس درسی مقالے سے بڑھ کر خطہ ایران اور ایران کے مختلف شہروں ،دریائوں، پہاڑوں کو بھی اپنا موضوع بنایاہے۔

پیامِ صبح

(ماخوذ از لانگ فیلو)

اُجالا جب ہوا رخصت جبین شب کی افشاں کا

نسیم زندگی پیغام لائی صبح خنداں کا

جگایا بلبل رنگیں نوا کو آشیانے میں

کنارے کھیت کے شانہ ہلایا کس نے دہقاں کا

طلسم ظلمت شب سورۂ والنور سے توڑا

اندھیرے میں اڑایا تاج زر شمع شبستاں کا

پڑھا خوابیدگان دیر پر افسونِ بیداری

برہمن کو دیا پیغام خورشید دُرخشاں کا

ہوئی بام حرم پر آ کے یوں گویا مؤذن سے

نہیں کھٹکا ترے دل میں نمود مہر تاباں کا

پکاری اس طرح دیوارِ گلشن پر کھڑے ہو کر

 چٹک او غنچہ، گل! تُو مؤذن ہے گلستاں کا

دنیا یہ حکم صحرا میں  چلو اے قافلے والو!

چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذرہ بیاباں کا

سُوئے گور غریباں جب گئی زندوں کی بستی سے

تو یوں بولی نظارہ دیکھ کر شہر خموشاں کا

ابھی آرام سے لیٹے ہو، میں پھر بھی آئوں گی

سلا دوں گی جہاں کو، خواب سے تم کو جگائوں گی

چند اشعار

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکمِ اذاں لا الہ الا اللہ

٭٭٭

 خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں میری انتہا کیا ہے

٭٭٭

نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو

ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیے

٭٭٭

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ

سُرمہ ہے میری آنکھ کا خاک ِ مدینہ و نجف

٭٭٭

 جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

٭٭٭

دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب

تو سمجھتا ہے جسے آزادی کی نیلم پری

٭٭٭

کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے

مومِن کی یہ پہچان کہ گم اِس میں ہیں آفاق

٭٭٭

شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر

اب تو ہی بتا تیرا مسلماں کدھر جائے

٭٭٭

وہ قوم نہیں لائق ہنگامہ فردا

جس قوم کی تقدیریں امروز نہیں ہے

٭٭٭

تری حریف ہے یا رب سیاستِ افرنگ

گھر ہیں اس کے پجاری فقط اسیر درپیش

٭٭٭

مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

٭٭٭

 بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نو میدی

مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے

٭٭٭

یہاں(مشرق) مرض کا سبب ہے غلامی و تقلید

وہاں(مغرب) مرض کا سبب ہے نظامِ جمہوری

٭٭٭

خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب

خودی ہو زندہ تو کہسار پرنیان و حریر

٭٭٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

علامہ محمداقبالؒ کا کلام :عشقِ بلاخیز کا قافلہ سخت جاں!

علامہ اقبالؒ کا کلام خودی، عشق اور فقر کی جس طِلائی مثلث پر استوار ہے،عشق اس کا مرکزی زاویہ ہے

پاکستان سپرلیگ(پی ایس ایل) 11:پشاور زلمی کی حکمرانی برقرار

پشاور زلمی کے کوشل مینڈس بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ دونوں شعبوں میں سرفہرست، بائولنگ میں سفیان مقیم سب سے آگے، آل رائونڈ کاردگی کے لحاظ سے شاداب خان پہلے نمبرپر:بابراعظم نے پی ایس ایل میں 4ہزار رنز جبکہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 100نصف سنچریوں کا سنگ میل عبور کر لیا، رائلی روسو پی ایس ایل میں 100 میچ کھیلنے والے پہلے غیرملکی کھلاڑی بن گئے

ایشین بیچ گیمز: پاکستانی دستے کا اعلان

22 سے 30 اپریل تک ہونیوالی گیمز میں 45ممالک کے 1790کھلاڑی قسمت آزمائیں گے:پاکستان کا40رکنی قومی دستہ چین کے شہر سانیا میں شیڈول 6 ویں ایشین بیچ گیمزمیں اتھلیٹکس، ہینڈبال، جوجتسو، کبڈی ،ٹرائی تھلون اور ریسلنگ میں حصہ لے گا

درخواست کی کلاس!

سکول کے صحن میں ہلکی سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور بچے اپنی اپنی کلاسوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔

ہوا کا سفر

ایک سہانی صبح کو سورج کی پہلی کرن زمین پر پڑی تو اس کی ملاقات بارش کی ننھی سی بوند سے ہوئی۔ ہوا آج بہت خوش تھی، وہ کبھی درختوں کے پتوں سے ٹکراتی تو کبھی پھولوں کو چھیڑتی۔

جاپانی کہاوتوں میں محنت کرنے کا سبق

ہر ملک میں الگ الگ کہاوتیں مشہور ہیں جو وہاں کے رہن سہن کی عکاسی کرتی ہیں۔ جدوجہد کرنے اورعلم حاصل کرنے کی تلقین کرنے والی جاپانی کہاوتیں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔