تعلیم کے موضو ع پر ہونے والی کانفرنسوں میں اکثر یہ بحث کی جاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں کتب بینی کی روایت زوال پذیر ہے۔ حال ہی میں Learning Poverty کے حوالے سے ورلڈ بینک کی ایک ہوشربا رپورٹ سامنے آئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زوال اچانک رونما نہیں ہوا بلکہ یہ دہائیوں سے ہمارے معاشرے میں ترجیحات اور سماجی اقدار میں آنے والی بتدریج تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ وہ جو کہتے ہیں:
وقت کرتا ہے پرورش برسوں ؍ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
کتاب بینی جو کبھی فکری نشوونما کا لازمی جز وسمجھی جاتی تھی‘ اب ایک غیر اہم سرگرمی بن کر رہ گئی ہے۔ طلبہ کی مطالعہ کی عادت میں کمی کیوں آئی ہے؟ اس زوال کے اسباب کیا ہیں؟ اس زوال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اس صورتحال میں بہتری کیسے لائی جا سکتی ہے؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کے جوابات ہمارے لیے اہم ہیں۔ آئیے ان سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہیں۔
سب سے پہلے طالب علموں میں کتب بینی کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اکثر طلبہ نصاب کے علاوہ بہت کم کتابیں پڑھتے ہیں۔ ان کی تمام تعلیمی زندگی امتحانات‘ نمبروں اور گریڈز کے گرد گھومتی ہے۔ ایسے میں نصاب سے باہر کتابوں کا مطالعہ ایک ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ طلبہ کا واحد مقصد امتحان میں نمبر حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جب کامیابی کا معیار صرف اچھے گریڈز تک محدود ہو جائے تو طلبہ اپنے مطالعے میں بھی شارٹ کٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ نصاب کی کتابوں کو پڑھنے کے بجائے خلاصوں‘ گائیڈز اور مختصر نوٹس سے مدد لیتے ہیں۔ لیکن اس صورتحال کی ساری ذمہ داری محض طلبہ پر عائد نہیں ہوتی کیونکہ وہ جس معاشرے میں سانس لے رہے ہیں‘ وہی معاشرہ ان کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔
کیا کتب بینی کے زوال میں اساتذہ کا کردار ہے؟ اساتذہ کی ایک اہم ذمہ داری طلبہ میں کتابوں کی محبت پیدا کرنا بھی ہے۔ مگر جو استاد خود مطالعہ نہیں کرتے وہ مطالعہ کے کلچر کو کیسے فروغ دے سکتے ہیں۔ بہت سے تعلیمی اداروں میں تدریس محض نصابی مواد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ تدریس اکثر امتحانی نظام کے تقاضوں کے تابع ہوتی ہے۔ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کیلئے مطالعہ کا مرکزی کردار ہوتا ہے لیکن اساتذہ میں بھی مطالعے کی روایت ماند پڑ گئی ہے۔ اکثر اساتذہ خود کو صرف نصابی کتابوں تک محدود رکھتے ہیں۔ یوں طلبہ کو اپنے اساتذہ سے ایک غیر محسوس پیغام ملتا ہے کہ نصاب سے باہر مطالعہ غیر ضروری ہے۔ اس طرح اساتذہ کی مطالعہ سے دوری طلبہ میں کتب بینی کے زوال کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے۔کتب بینی کے زوال میں کچھ حصہ پبلشرز اور کتب فروشوں کا بھی ہے۔ آج کل معیاری کتابیں یا تو مہنگی ہیں یا آسانی سے دستیاب نہیں۔ کتابوں کی قیمتیں زیادہ ہونے سے وہ محدود طبقے تک محدود رہتی ہیں۔ بہت سے پبلشرز نے خود کو صرف درسی کتب کی اشاعت تک محدود کر دیا ہے کیونکہ اس میں پیسہ زیادہ ہے۔ یہ پبلشرز مارکیٹ کی طلب کے مطابق کام کرتے ہیں‘ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ قارئین کی طلب کو تشکیل دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
کتب بینی کی روایت کے زوال میں ریاست کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیمی پالیسیاں عموماً بامعنی تعلیم کے بجائے Measureable ٹا رگٹس کو ترجیح دیتی ہیں۔ یوں امتحانات اور سلیبس کی پابندیوں میں نصاب سے باہر کی کتب کے مطالعہ کی ضرورت اور گنجائش کم رہ جاتی ہے۔ کسی زمانے میں ملک میں پبلک لائبریریوں کا رواج تھا۔ یہ لائبریریاں رفتہ رفتہ معدوم ہو گئی ہیں۔ جو اکا دکا لائبریریاں موجود ہیں وہ وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔ ان لائبریریوں کا خاتمہ ہمارا مشترکہ ثقافتی نقصان ہے۔ یوں جب مطالعہ کیلئے مناسب جگہیں میسر نہ ہوں تو اس کا منفی اثر مطالعہ کی روایت پر پڑتا ہے۔ کسی گھر میں کتابوں کی موجودگی بچوں پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔ عام مشاہدہ ہے کہ جن طلبہ کے گھروں میں کتابیں موجود ہوتی ہیں ان میں مطالعے کی عادت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔
اساتذہ‘ پبلشرز‘ والدین اور ریاست کے علاوہ ہمارا معاشرہ بھی کتب بینی کے زوال کے عمل میں شریک ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں زندگی کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت نے معلومات کے حصول کے طریقے بدل دیے ہیں۔ یوں معلومات تک ہماری رسائی آسان تو ہو گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمارے طالب علموں میں توجہ کا دورانیہ بہت کم ہو گیا ہے اور بامعنی مطالعے کیلئے جس توجہ اور انہماک کی ضرورت ہے وہ ناپید ہے۔ سوشل میڈیا نے نوجونوں کو جس سہولت اور تن آسانی کا عادی بنا دیا ہے‘ اب انہیں سنجیدہ مطالعہ ایک محنت طلب اور مشکل کام محسوس ہوتا ہے۔ بہت سے گھروں میں مطالعہ کی روایت دم توڑ رہی ہے اور اس کی جگہ موبائل فون اور سکرین نے لے لی ہے۔ جب بچے روزمرہ زندگی میں اپنے گھروں میں کتابوں کو نہیں دیکھتے تو کتاب سے ان کا تعلق مضبوط نہیں ہو پاتا۔ یوں مطالعہ کی عادت میں کمی کا ذمہ دار کوئی ایک طبقہ نہیں بلکہ اس میں بہت سے تعلیمی‘ سماجی اور معاشی عوامل کا ہاتھ ہے۔ کتب بینی کے زوال کے اسباب کا ذکر کرنے کے بعد آئیے دیکھتے ہیں کتب بینی کے احیا اور فروغ کیلئے کیا اقدامت کرنے چاہئیں۔
1: تعلیمی اداروں میں مطالعہ کیلئے باقاعدہ وقت مختص کرنا چاہیے جس میں طلبہ اپنی پسند کی کتابیں پڑھیں۔ یوں تعلیمی ادارے طلبہ میں مطالعے کی عادت کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اس کیلئے تعلیمی اداروں کو زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں‘ صرف ترجیحات میں تبدیلی درکار ہے۔ 2: اساتذ ہ بھی اس سلسلے میں اہم کردار اداکر سکتے ہیں۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ تربیتِ اساتذہ کے پروگراموں میں مطالعہ کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ مطالعاتی حلقے‘ ورکشاپس اور پیشہ ورانہ سیکھنے کی کمیونٹیز اساتذہ کو دوبارہ کتابوں سے جوڑ سکتی ہیں۔ جب اساتذہ خود مطالعے کے عادی ہوں تو وہ طلبہ کے سامنے عملی نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔ 3: تعلیمی ادارے بہت کم اخراجات سے مطالعے کے فروغ کیلئے اقدامات کر سکتے ہیں۔ سکولوں میں کلاس روم لائبریریاں بنائی جا سکتی ہیں‘ جو ایک شیلف بھی ہو سکتی ہے۔ سکول میں کتابی مباحثے‘ رِیڈنگ کلب اور مصنفین سے ملاقاتیں بھی کتابوں میں دلچسپی پیدا کر سکتی ہیں۔ 4: خاندان بھی کتب بینی کے عمل کا اہم حصہ ہیں۔ گھروں میں مطالعہ کی حوصلہ افزائی کیلئے بڑے وسائل کی ضرورت نہیں۔ روزانہ کچھ وقت مطالعہ کیلئے مختص کرنا‘ کتابوں پر گفتگو کرنا یا بچوں کو بلند آواز سے کتاب پڑھ کر سنانا دیرپا اثر ڈال سکتا ہے۔ 5: پبلشرز اور کتب فروش کتابوں کے سستے ایڈیشن‘ مقامی زبانوں میں تراجم شائع کر کے مطالعہ کے دائرے کو وسیع کر سکتے ہیں۔ 6: ریاست کی سطع پر بھی کتب بینی کے فروغ کے ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ ان اقدامات میں پبلک لائبریریوں کی بحالی‘ کتابوں پر سبسڈی اور مطالے کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنانا شامل ہیں۔ تعلیمی پالیسیوں کا محور صرف امتحانات میں کامیابی نہ ہو بلکہ ان کا ایک اہم مقصد طلبہ میں تنقیدی سوچ اور مطالعہ کا فروغ ہو۔
کتب بینی کا احیاء اور فروغ ایک بڑی معاشرتی تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس تبدیلی کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر عائد نہیں جا سکتی۔ قومی سطح پر یہ تبدیلی تمام فریقوں کی مشترکہ کوششوں ہی سے ممکن ہے۔ آج کے دور میں جہاں مصنوعی ذہانت کی بدولت معلومات کی فراوانی ہے‘ تنقیدی سوچ اور سنجیدہ فکری مکالمے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ کم ہو گئی ہے‘ ایسے میں کتب بینی کی روایت کا احیا اور فروغ ہماری اہم سماجی ضرورت ہے۔