"SSC" (space) message & send to 7575

اب انہیں ڈ ھو نڈ چراغِ رُخِ زیبا لے کر

بعض دفعہ چشمِ تصور بھی کیا کیا منظر دکھاتی ہے۔ کبھی بیابانوں میں مہکتے گلاب‘ کبھی صحراؤں میں میٹھے پانی کے چشمے اور کبھی گھپ اندھیرے میں جگمگ کرتے سنہری دن۔ اُس روز بھی ایسے ہی ہوا تھا۔ ایک مدت بعد میرا گزر راولپنڈی کی تمیز الدین روڈ سے ہوا‘ جہاں سے بائیں طرف مڑیں تو سڑک لال کُرتی کی طرف جاتی ہے۔ اسی موڑ پر ایک بڑی عمارت واقع ہے‘ جسے کبھی ایوب ہال کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہیں پر کبھی قومی اسمبلی کے پُرشور اجلاس ہوا کرتے تھے۔ اجلاس میں سپیکر کے فرائض مولوی تمیز الدین ادا کرتے تھے۔ اُن کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا۔ یہ 1962-63ء کا ذکر ہے۔ مولوی تمیز الدین کے انتقال کے کئی برس بعد اس سڑک کا نام تمیز الدین روڈ رکھا گیا۔ میں ایوب ہال سے لال کُرتی کی طرف مڑا تو اچانک دائیں ہاتھ ایک بوسیدہ عمارت پر نظر پڑی۔ میں نے گاڑی کو سڑک کے کنارے روکا اور نیچے اُتر آیا۔ وہ اکتوبر کے مہینے کی ایک چمکیلی صبح تھی اور اتوار کا دن۔ سڑک پر ٹریفک معمول سے بہت کم تھی۔ میں گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ میرے سامنے ایک ٹینٹ سروس کے زیر استعمال ایک عمارت تھی‘ جو دیکھتے دیکھتے ہوا میں تحلیل ہونے لگی اور اس کی جگہ وہی مانوس عمارت آ گئی‘ جس کے چار ستون تھے‘ جو میرا پرائمری سکول تھا۔ مجھے یاد ہے‘ میں تیسری جماعت میں اس سکول میں آیا تھا تو سب کچھ اجنبی تھا۔ میں دوسروں کی نظروں سے بچنے کیلئے ان ستونوں کی اوٹ ڈھونڈتا رہتا تھا۔
سکول کے کل تین کمرے تھے۔ دو تو عام سائز کے اور ایک بڑا ہال۔ سکول میں ایک کمرہ خاص تھا۔اس کمرے میں سکول کے ہیڈ ماسٹر صاحب کا دفتر بھی تھا اور پانچویں درجے کی کلاس بھی یہیں ہوتی تھی۔ اس کے بعد میرا بہت سکولوں سے واسطہ رہا لیکن کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کسی ہیڈ ماسٹر کا دفتر اور کلاس ایک ہی کمرے میں ہوں۔ اس کمرے کا دروازہ ساتواں در تھا‘ جسے کھولنے سے ہم سب ہچکچاتے تھے۔ پانچویں جماعت کے انچارج اور سکول کے ہیڈ ماسٹر‘ ماسٹر فضل صاحب تھے۔ دراز قد‘ سفید رنگ اور سرمئی آنکھیں‘ چہرے پر جلالی کیفیت ہر وقت طاری رہتی۔ آواز میں ایک خاص کڑک۔ سکول کے اساتذہ‘ چپڑاسی اور طلبہ ان کی آواز سن کر سہم جاتے۔ پورے سکول میں ایک چپڑاسی ہوتا تھا جس کا نام اسماعیل تھا‘ اسے میں نے ہر وقت کام کرتے دیکھا‘ شاید وہ بولتا بھی ہو گا لیکن میں نے اسے کبھی بولتے نہیں سنا۔ اسی طرح سکول کی صفائی کرنے والی ایک ہی مہترانی تھی‘ جس کا نام گجری تھا‘ اس کی ناک کا ایک بڑا سا کوکا اس کی خاص پہچان تھا۔
ماسٹر فضل صاحب کی زندگی کا واحد مقصد ہمیں حساب میں طاق کرنا تھا۔ ذرا سی غلطی پر وہ غضبناک ہو جاتے اور پھر سزا کے دوران وہ حدود کا تعین نہ کرتے۔ اُس زمانے میں پانچویں جماعت میں وظیفے (سکالر شپ) کا امتحان علیحدہ سے ہوتا تھا۔ سکولوں میں اس بات پر مقابلہ ہوتا کہ کس سکول کے بچوں نے زیادہ سکالر شپ لیے ہیں۔ ماسٹر فضل صاحب نے تو اس مقابلے کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ سکول شروع ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے اور چھٹی کے ایک گھنٹہ بعد ہمیں ایکسٹرا پڑھایا جاتا تھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ اس کی کوئی فیس نہیں تھی۔ ماسٹر فضل صاحب ویسٹریج میں رہتے تھے۔ میرا خیال ہے فجر کی نماز کے بعد وہ آرام نہیں کرتے تھے۔ چائے کا ایک کپ پیتے اور اپنی سائیکل پر سکول کی راہ لیتے۔ سردیوں کی تیز یخ بستہ ہواؤں میں وہ تیز تیز پیڈل چلاتے تاکہ کلاس سے لیٹ نہ ہوں۔ اُدھر ہم ہر روز دعائیں کرتے کہ کاش کچھ انہونی ہو جائے اور ماسٹر فضل سکول نہ آئیں‘ لیکن افسوس ہماری دعائیں کبھی قبول نہ ہوتیں۔ ہم ایوب ہال کے سامنے اس موڑ کی طرف نظریں جمائے کھڑے ہوتے جہاں سے ماسٹر فضل صاحب نے نمودار ہونا ہوتا اور پھر اچانک ہمیں دور سے وہی مانوس منظر دکھائی دیتا۔ ماسٹر فضل صاحب چیک کوٹ زیب تن کیے‘ سر پر ٹوپی‘ کانوں پر مفلر اور شلوار کے پا ئنچوں پر کلپ لگائے‘ ہال کا موڑ کاٹتے تو ہم بھاگ کر اپنی کلاس میں چلے جاتے۔ سکول کے سامنے شہتوت کا ایک درخت بھی تھا۔ اس کا ایک خاص مقصد ماسٹر فضل صاحب نے یہ دریافت کیا تھا کہ اس کی لچکیلی شاخوں سے چھڑیاں بنائی جائیں۔ ماسٹر فضل کے حکم پر اسماعیل شہتوت کے درخت سے شاخیں اتارتا اور انہیں چھڑیوں کی شکل دیتا۔
ماسٹر فضل صاحب نے ہمیں حساب میں اتنی پریکٹس کرائی کہ ہمارے لیے حساب کے مشکل سے مشکل سوال ایک عام سی بات تھی۔ وظیفے کے امتحان میں ایک حصہ مینٹل میتھ کا بھی ہوتا ہے‘ جس میں ایک سوال کیا جاتا اور پھر چند سیکنڈ میں آپ نے اس کا جواب پرچے پر درج کرنا ہوتا۔ ماسٹر فضل صاحب کی زندگی اس ایک خواب میں سمٹ آئی تھی کہ ان کے سکول میں سکالر شپس ہولڈرز کی تعداد سب سے زیادہ ہو۔ اس ایک خواب کی تکمیل میں ان کی صبح ہوتی اور رات ڈھل جاتی۔ ماسٹر فضل صاحب کا اپنا ایک بیٹا خلیق بھی ہماری کلاس میں پڑھتا تھا۔ میں اور خلیق پہلی قطار میں بیٹھتے تھے اور یہ حکم ماسٹر فضل صاحب کا تھا۔ مجھے یاد ہے ایک بار خلیق نے حساب کے ایک سوال میں غلطی کی تو انہوں نے اسے اٹھا کر دیوار سے دے مارا۔ اس غصے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اتنا آسان سوال تم نے غلط کیسے کر دیا۔ مجھے سردیوں کی وہ صبحیں اچھی طرح یاد ہیں‘ جب ہم اپنے ٹاٹ اٹھائے ماسٹر فضل صاحب کے ساتھ قریبی میدان میں جاتے جہاں دھوپ ہوتی‘ ٹاٹوں کو پہلے جھاڑا جاتا اور پھر ترتیب سے بچھایا جاتا۔ ہماری کوشش ہوتی کہ ٹاٹوں میں جہاں سوراخ ہیں ان سے ہٹ کر بیٹھا جائے۔ ماسٹر فضل صاحب سامنے کین کی کرسی پر بیٹھتے اور پھر سوالات کی نہ ختم ہونے والی مشق شروع ہو جاتی۔ ان دنوں مجھے خوابوں میں بھی سولات آتے اور جوابات دیتے دیتے میری آنکھ کھل جاتی۔ ماسٹر فضل صاحب کا پہاڑوں پر بڑا زور تھا‘ ہر روز پریکٹس کی جاتی۔
آخر وہ دن آ گیا جس کیلئے ماسٹر فضل صاحب نے اپنی تمام توانائیاں صرف کر دی تھیں۔ ہم سب ایک قطار میں امتحان گاہ کی طرف روانہ تھے‘ جو لوکو شیڈ کے ہال میں تھا۔ اُس روز ماسٹر فضل صاحب کی حالت دیدنی تھی۔ وہ ہر ایک کو نصیحت کر رہے تھے۔ دھیان سے پرچہ حل کرنا‘ کوئی مشکل نہیں ہو گی۔ ہم نے سارے سوالوں کی پریکٹس کی ہوئی ہے‘ گھبرانا نہیں۔ اس دوران ان کے سرخ و سفید چہرے پر کبھی تشویش کی پرچھائیں لہراتی کبھی مسکرایٹ کی لہر پھیلتی۔ اُس روز امتحان دیتے ہوئے ہمیں یوں لگ رہا تھا کہ ماسٹر فضل صاحب کی نگاہیں ہمیں دیکھ رہی ہیں۔ دھیان سے پرچہ حل کرنا‘ گھبرانا نہیں۔ مجھے یوں لگا کہ یہ تو بڑا آسان سا امتحان تھا۔ جب پانچویں جماعت کے سکالر شپ کا نتیجہ آیا تو راولپنڈی میں ہمارے سکول کی پہلی پوزیشن تھی‘ جس کے سکالر شپس کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ مجھے وہ سارے دن رات یاد آنے لگے؛ سردیوں کی صبح سے شاموں تک کلاس‘ بوسیدہ سوراخوں والے ٹاٹ‘ صبح سے لے کر شام تک سوالوں کی گردان اور ایسے میں ماسٹر فضل صاحب کا چہرہ‘ جس پر یہ نتیجہ سن کر ایک اطمینان کی کیفیت تھی کہ ان کی محنت ٹھکانے لگی تھی۔ کیا بے لوث لوگ تھے جن کی زندگی کا محور صرف علم کی ترسیل تھا۔ اچانک مجھے خیال آیا میں کب سے گاڑی سے ٹیک لگائے اس عمارت کو دیکھ رہا ہوں‘ جو کبھی میرا سکول تھا لیکن اب جہاں ٹینٹ سروس کا کاروبار ہے۔ بعض دفعہ چشمِ تصور بھی کیا کیا منظر دکھاتی ہے؛ کبھی بیابانوں میں مہکتے گلاب‘ کبھی صحراؤں میں میٹھے پانی کے چشمے اور کبھی گھپ اندھیرے میں جگمگ کرتے سنہری دن۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں