تعلیم کے قدامت پسند تصور کے مطابق علم ایک جامد اور طے شدہ شے ہے جسے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرنا ہی تعلیم کا بنیادی مقصد ہے۔ اس تصور کے پیچھے یہ مفروضہ کارفرما ہے کہ طلبہ ایک خالی تختی یا خالی برتن کی مانند ہوتے ہیں اور استاد کا کام ان خالی ذہنوں پر معلومات نقش کرنا اور انہیں پہلے سے طے شدہ علم سے بھر دینا ہے۔ اس نظریے میں طالبعلم کا کردار نہایت محدود اور غیر فعال ہوتا ہے۔ کلاس روم میں جو معلومات اسے فراہم کی جاتی ہیں وہ انہیں یاد کرکے امتحان میں دہرا دیتا اور اچھے نمبر حاصل کر لیتا ہے۔ اس پورے عمل میں سوال کرنے‘ تنقیدی انداز میں سوچنے یا علم کو اپنی زندگی سے جوڑنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی۔ معروف ماہر تعلیم پاؤلو فریرے (Paulo Freire) نے اس تصور کو ''بینکاری طرزِ تعلیم‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس نظام میں استاد Depositor (جمع کرنیوالے) اور طلبہ محض Repositories (ذخیرہ کرنیوالے) بن جاتے ہیں۔ طلبہ کا کام صرف معلومات وصول کرنا‘ انہیں محفوظ رکھنا اور وقت آنے پر دہرا دینا رہ جاتا ہے۔ اس قدامت پسند نظامِ تعلیم میں سکول تین بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اول یہ کہ وہ معاشرے میں ایسے تصورات اور دقیانوسی خیالات پیدا کرتے ہیں جو طاقتور اور غالب طبقات کے مفادات کے مطابق ہوں۔ دوم‘ ان خیالات کو نئی نسل تک منتقل کرتے ہیں تاکہ وہ معاشرتی ڈھانچے کا حصہ بن جائیں۔ سوم‘ ان تصورات کو جائز اور فطری ثابت کرتے ہیں تاکہ لوگ انہیں بغیر سوال کیے قبول کر لیں۔ ترقی پذیر ممالک کے بیشتر تعلیمی اداروں میں یہی قدامت پسند نظام غالب نظر آتا ہے جہاں امتحانی نظام یادداشت اور رٹے پر مبنی ہوتا ہے۔ چونکہ امتحانات میں صرف معلومات دہرانے کو اہمیت دی جاتی ہے اس لیے تدریسی عمل اسی طرز میں ڈھل جاتا ہے۔ نتیجتاً تعلیم ایک غیر سیاسی‘ غیر متحرک اور محض معلومات کی ترسیل کا عمل بن کر رہ جاتی ہے۔
کیا تعلیم واقعی ایک غیر جانبدار اور غیر سیاسی عمل ہے؟ کیا تعلیمی ادارے محض علم کی منتقلی کا کام کرتے ہیں؟ اطالوی مفکر انتونیو گرامچی نے اپنی مشہور کتاب The Prison Notebooks میں اس تصور کو چیلنج کیا ہے۔ گرامچی کے مطابق تعلیم ایک نہایت متحرک‘ سیاسی اور مسلسل بدلنے والا عمل ہے۔ وہ بالادستی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ معاشرے کے طاقتور طبقات صرف طاقت کے زور پر نہیں بلکہ تعلیمی اداروں‘ ذرائع ابلاغ اور ثقافتی اداروں کے ذریعے بھی اپنی برتری قائم رکھتے ہیں۔ گرامچی کے مطابق تعلیمی ادارے صرف معلومات فراہم نہیں کرتے بلکہ وہ مخصوص شناختیں بھی تشکیل دیتے ہیں۔ ان اداروں کے ذریعے افراد کے سوچنے کے انداز‘ ترجیحات‘ اقدار اور رویوں کو ایک خاص رخ دیا جاتا ہے۔ یوں تعلیم ذہنوں کو تشکیل دینے اور طاقتور طبقات کے مفادات کو برقرار رکھنے کا ایک اہم ذریعہ بن جاتی ہے۔ فرانسیسی مفکر فوکو (Foucault) طاقت‘ بیانیے اور سماجی حقیقت کے درمیان تعلق کو واضح کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ طاقتور طبقات مخصوص بیانیے تشکیل دیتے ہیں‘ پھر ان بیانیوں کو جائز اور مقبول بنایا جاتا ہے‘ جس کے نتیجے میں ایک خاص قسم کی سماجی حقیقت وجود میں آتی ہے۔ یہ سماجی حقیقت طاقتور طبقات کے افعال اور مفادات کو درست ثابت کرتی ہے۔ تعلیم کے میدان میں بھی یہی عمل دکھائی دیتا ہے۔ طاقتور گروہ ایسا تعلیمی نظام تشکیل دیتے ہیں جو ان کی اقدار‘ نظریات اور مفادات کو تقویت دے۔ نصاب‘ زبان‘ تدریسی طریقوں اور امتحانی نظام کے ذریعے ایک مخصوص سوچ کو فروغ دیا جاتا ہے جبکہ متبادل خیالات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
نیل پوسٹ مین اپنے مضمون Politics of Reading میں لکھتا ہے کہ تمام تعلیمی سرگرمیاں دراصل سیاسی نوعیت رکھتی ہیں کیونکہ ان کا مقصد ایک خاص قسم کے انسان پیدا کرنا ہوتا ہے۔ بعض معاشروں میں خواندگی کا مقصد ایسے افراد تیار کرنا ہوتا ہے جو محض احکامات پر عمل کریں‘ سوال نہ اٹھائیں اور طاقتور طبقات کے ایجنڈے کو مضبوط بنائیں۔ اس قسم کے نظام میں تنقیدی سوچ کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی‘ اس لیے اسے فروغ بھی نہیں دیا جاتا۔ تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً تمام سامراجی طاقتوں نے تعلیم کو اپنے تسلط کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ انہوں نے صرف فوجی طاقت پر انحصار نہیں کیا بلکہ مقبوضہ اقوام کے ذہنوں اور سوچ کو بدلنے کے لیے تعلیمی نظام کو بھی استعمال کیا۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ فکری اور بیانیے کا غلبہ بعض اوقات جبر اور طاقت سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ ایڈورڈ سعید اپنی معروف کتاب Orientalism میں تفصیل سے بتاتا ہے کہ مغرب نے مشرق کو کس طرح اپنے تعصبات اور مفروضات کی بنیاد پر پیش کیا۔ یہ عمل بیانیے کے ذریعے ہی انجام دیا گیا۔ سامراجی طاقتیں اپنے آپ کو مہذب‘ ترقی یافتہ اور برتر ثابت کرتی رہیں جبکہ مشرقی اقوام کو پسماندہ‘ غیر مہذب اور کمتر قرار دیا گیا۔ اسی ''احساسِ برتری‘‘ نے طاقتور قوموں کو یہ یقین دلایا کہ ان کی زبان‘ ان کا ادب‘ ان کی تہذیب اور ان کا نظامِ تعلیم دوسروں سے بہتر ہے۔
ایوان ایلیچ اپنی کتاب Deschooling Society میں رسمی تعلیمی اداروں پر شدید تنقید کرتا ہے۔ اس کے مطابق یہ ادارے انسانوں کو آزاد اور تخلیقی بنانے کے بجائے ایک ''سکول زدہ معاشرہ‘‘ پیدا کرتے ہیں جہاں انسان صرف طے شدہ اصولوں کے مطابق سوچنے کا عادی بن جاتا ہے۔ اس نظام میں تخلیقی اور تنقیدی سوچ کیلئے بہت کم گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔اسی طرح مائیکل ایپل اپنی کتاب Curriculum and Ideology میں سکولوں کو معاشرتی عدم مساوات کو برقرار رکھنے والے مراکز قرار دیتا ہے۔ اسکے مطابق تعلیمی ادارے صرف طلبہ کے رویوں کو کنٹرول نہیں کرتے بلکہ وہ ''معنی‘‘ کو بھی کنٹرول کرتے ہیں‘ یعنی وہی طے کرتے ہیں کہ کونسا علم اہم ہے‘ کون سی زبان معتبر ہے‘ کون سی تاریخ پڑھائی جائے گی اور کن آوازوں کو خاموش رکھا جائے گا۔ تنقیدی نظریہ رکھنے والے ماہرینِ تعلیم تعلیم کو ایک زندہ‘ متحرک اور طاقت وسیاست سے جڑا ہوا عمل سمجھتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر میں تعلیم کا بنیادی مقصد تبدیلی ہے‘ یہ تبدیلی صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی اصلاح سے بھی وابستہ ہے۔ اس تصور میں ترقی کا مطلب صرف معاشی خوشحالی نہیں بلکہ آزادیوں کا فروغ بھی ہے۔
معروف ماہر معاشیات اور فلسفی امرتیا سین کے مطابق حقیقی ترقی وہ ہے جو انسان کو سوچنے‘ اظہار کرنے اور انتخاب کرنے کی آزادی فراہم کرے۔ اگر تعلیم انسان کی بنیادی آزادیوں کو فروغ نہیں دیتی تو وہ محض معلومات کی منتقلی بن کر رہ جاتی ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے ہمیں تعلیم کو ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھنا ہوگا جو انسان اور معاشرے‘ دونوں میں مثبت تبدیلی لا سکے۔ اگر ہم واقعی ایسی تعلیم چاہتے ہیں جو فرد اور معاشرے کو بہتر بنا سکے تو ہمیں تدریس کے روایتی اور یکطرفہ انداز سے نکلنا ہو گا۔ ہمیں تنقیدی تدریس یا Critical Pedagogy کی طرف بڑھنا ہو گا۔ اس تصورِ تعلیم میں استاد اور شاگرد دونوں علم کی تشکیل کے عمل میں شریک ہوتے ہیں۔ علم کو زندگی‘ معاشرتی مسائل اور انسانی فلاح سے جوڑا جاتا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہمارا امتحانی اور جائزے کا نظام بھی تبدیل ہو۔ ایسا نظام جو یادداشت کے بجائے تنقیدی سوچ‘ تجزیاتی صلاحیت اور تخلیقی اظہار کی حوصلہ افزائی کرے۔ جب تک امتحانات رٹے اور یادداشت پر مبنی رہیں گے تدریسی عمل میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ ہمیں ایسے تعلیمی نظام کی ضرورت ہے جو صرف معاشرے میں موجود slots کو بھرنے کیلئے افراد تیار نہ کرے بلکہ ایسے باشعور انسان پیدا کرے جو وقت آنے پر معاشرتی ناانصافیوں‘ تعصبات اور فرسودہ روایات کو چیلنج کر سکیں۔ یہی تعلیم کا حقیقی مقصد ہے اور یہی نظام ایک زندہ‘ متحرک اور انسانی معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔