ایشین بیچ گیمز: پاکستانی دستے کا اعلان
22 سے 30 اپریل تک ہونیوالی گیمز میں 45ممالک کے 1790کھلاڑی قسمت آزمائیں گے:پاکستان کا40رکنی قومی دستہ چین کے شہر سانیا میں شیڈول 6 ویں ایشین بیچ گیمزمیں اتھلیٹکس، ہینڈبال، جوجتسو، کبڈی ،ٹرائی تھلون اور ریسلنگ میں حصہ لے گا
چھٹے ایشین بیچ گیمز، جسے عام طور پر ’’سانیا 2026 ء‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، چین کے شہر سانیا میں 22 سے 30 اپریل 2026 ء تک منعقد ہورہے ہیں۔ سانیا 2012 ء میں ہائیانگ کے بعد ایشین بیچ گیمز کی میزبانی کرنے والا دوسرا چینی شہر ہوگا۔یہ گیمزاصل میں 28 نومبر سے 6 دسمبر 2020 ء تک منعقد ہونے تھے۔ 10 اگست 2020 ء کو، اولمپک کونسل آف ایشیا نے اعلان کیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے گیمز کو اپریل 2021 ء تک ملتوی کر دیا جائے گا، لیکن 31 دسمبر کو او سی اے نے ایک اور التوا کا اعلان کیا،بعد میں کھیلوں کی نئی تاریخوں کا اعلان کرنے کیلئے مشاورت کی جائے گی۔ 18 مئی 2025 ء کو اولمپک کونسل آف ایشیانے اعلان کیا کہ چھٹے ایشین بیچ گیمز اب 22 سے 30 اپریل 2026 ء تک ہوں گے۔
اس ایونٹ دا نانگ، ویتنام میں 2016 ء کے ایڈیشن کے بعد 10 سال کے وقفے کے بعد ایشین بیچ گیمز کی واپسی ہو رہی ہے۔ ابتدائی طور پر11 اپریل 2019 ء کو اولمپک کونسل آف ایشیا نے ابتدائی طور پر اعلان کیا تھا کہ چھٹی ایشین بیچ گیمز میں 19 کھیلوں (22 ڈسپلن) کے 93 ایونٹس ہوں گے، حالانکہ تین کھیل جوجِتسو، ٹیک بال اور بیچ ووڈ بال بعد میں شامل کیے گئے تھے۔ ستمبر 2025ء میں 14 کھیلوں(15ڈسپلن)میں ایونٹس کی تعداد کم کر کے 63 کر دی گئی۔ بیچ ووڈ بال، پاور بوٹ، پاورڈ پیراگلائیڈنگ اور سرفنگ کو چھوڑ دیا گیا۔ 23 مارچ 2026 ء کو منتظمین نے اعلان کیا کہ خواتین کے بیچ ساکر ایونٹ کو کم انٹریز کی وجہ سے پروگرام سے خارج کر دیا گیا ہے۔اب ان کھیلوں میں 45ممالک کے 1790کھلاڑی مختلف کھیلوں میں اپنے اپنے قومی پرچموں کی نمائندگی کرتے ہوئے قسمت آزمائیں گے۔ افتتاحی تقریب 22جبکہ اختتامی تقریب 30 اپریل کو منعقد ہوگی۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن(پی او اے)نے چین کے شہر سانیا میں شیڈول 6 ویں ایشین بیچ گیمز کیلئے40رکنی قومی دستے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس میگا ایونٹ میں پاکستان کے باصلاحیت اتھلیٹس مختلف کھیلوں میں سبز ہلالی پرچم کی سربلندی کیلئے میدان میں اتریں گے۔ پی او اے کے مطابق، دستے کی روانگی کا مقصد بین الاقوامی سطح پر پاکستانی ٹیلنٹ کو نکھارنا اور ملک کیلئے تمغے جیتنا ہے۔پاکستان اس بار چھ مختلف کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے۔
اتھلیٹکس میں فائقہ ریاض، ثمین خان اور سمیع اللہ اپنی رفتار کا جادو جگائیں گے، جن کے ساتھ رفیق احمد بطور کوچ ہوں گے۔ ہینڈ بال کے میدان میں پاکستان ایک مضبوط ٹیم اتار رہا ہے جس میں مدثر شہزاد، کاشف علی، آصف علی(سینئر)، آصف علی(جونیئر)، عمران خان، حضرت حسین، محمد شاہد بشیر، معاذ علی، احمد حسن بیگ اور محمد صائم شامل ہیں، جبکہ اظہر الحق ٹیم کے کوچ ہوں گے۔
جوجتسو کے مقابلوں میں شاہ زیب اور عنبرین طارق ایکشن میں نظر آئیں گے جن کے ساتھ لیاقت علی بطور کوچ فرائض انجام دیں گے۔ روایتی کھیل کبڈی میں کاشف رزاق، فرحان علی، عثمان احمد، محمد زوہیب نیاز، محمد جمشید اور وقار علی ملک کی نمائندگی کریں گے، ٹیم کی رہنمائی کوچ راحت مقصود علی اور بادشاہ گل کریں گے۔ ٹرائیتھلون میں حمزہ آصف اور عائشہ وقاص اپنی مہارت دکھائیں گے جن کے ساتھ عبدالغفار گجر بطور کوچ موجود ہوں گے۔
ریسلنگ(کشتی)کے مقابلوں میں محمد عبداللہ، محمد اسد اللہ،بیچ ریسلنگ کے ورلڈچیمپین اور گزشتہ ایشین بیچ گیمز کے گولڈمیڈلسٹ محمد انعام اور محمد گلزار تمغوں کی دوڑ میں شامل ہوں گے، جبکہ نوید افضل ٹیم آفیشل کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔ کھلاڑیوں کی سہولت اور انتظامی امور کیلئے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے ایک تجربہ کار ٹیم بھی ترتیب دی ہے۔ محمد ابوبکر علی دستے کے پریس اتاشی ہوں گے، جبکہ عمران احمد خان اور ثنا علی ہیڈ کوارٹر آفیشلز کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ کھلاڑیوں کی فٹنس اور طبی امداد کیلئے ڈاکٹر میاں قاسم رحمان اور فزیو تھراپسٹ محمد ہاشم دستے کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی سفارت خانے سے مقیت عاصم محمد شاہ بطور این او سی اتاشی ٹیم کی معاونت کریں گے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل خالد محمودنے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ یہ دستہ نہ صرف بہترین کھیل پیش کرے گا بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی اجاگر کرے گا۔ پی او اے نے تمام کھلاڑیوں اور آفیشلز کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور سپورٹس فیڈریشنز کی مشترکہ کوششوں سے قومی اتھلیٹس بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔