مذاکرات کے حوالے سے پوری دنیا میں پاکستان کا ڈنکا خوب بجا ہے اور فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی پذیرائی ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ تو اچھے لفظوں میں ذکر کرتے ہی ہیں‘ اوروں نے بھی کیا ہے۔ یہ ہمارے لیے باعث ِفخر ہے اور پاکستان کی سفارتی کارکردگی دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ باقی مسائل اپنی جگہ ہیں اور رہیں گے۔ بجلی کی کمی ستائے گی‘ مہنگائی کا بوجھ اٹھانا پڑے گا‘ نالائقیاں جو ہماری اجتماعی زندگی کا حصہ ہیں وہ جاری رہیں گی کیونکہ ہم نے اصلاحِ احوال تو کرنی نہیں۔ لیکن فی الحال پاکستان کا نام جو عالمی اعتبار سے لیا جا رہا ہے اُسی پر خوش ہونا چاہیے۔ جیسے عرض کیا جو مسائل ہیں وہ تو رہیں گے۔ اور یاد آیا ہمارا کشکول نہیں ٹوٹے گا‘ وہ اجتماعی زندگی کا اٹوٹ اَنگ بن چکا ہے۔
ایران امریکہ جنگ کے تناظر میں ایک بات بڑی شدت سے سمجھ آتی ہے کہ مضبوط فوج اور مضبوط دفاعی اداروں کے بغیر آج کل کی دنیا میں جینا مشکل ہے۔ خاص کر کے اس خطے میں جہاں ہمارا وجود ہے۔ ہم جیسے کئی سمجھتے تھے کہ گو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا اچھی بات ہے لیکن ایٹمی دھماکے نہیں کرنے چاہیے تھے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ رائے غلط تھی‘ اور اُس وقت دھماکے کرنا ہی مناسب تھا۔ ہم جیسے یہ رائے بھی رکھتے تھے کہ دفاعی امور پر زیادہ خرچہ نہیں ہونا چاہیے لیکن حالات بتاتے ہیں کہ پاکستان جیسا ملک جس میں اور بہت کمزوریاں ہیں اس کیلئے مضبوط دفاعی نظام ناگزیر ضرورت ہے۔ دورِ جدید کی جنگوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ بغیر طاقتور ایئر فورس کے پاکستان جیسے ملکوں کا جینا محال ہے۔ شکر ہے کہ ہمارے پاس ایک مضبوط ایئر فورس ہے اور ہمارے پائلٹ اپنی صلاحیتوں کے حوالے سے کسی ایئر فورس سے کم نہیں۔
یہ اور بات ہے کہ جب دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط رکھنا ہو اور ایٹمی صلاحیت پر بھی قادر ہونا ضروری سمجھا جائے تو جس ملک کے مالی وسائل محدود ہوں اسے دیگر اللے تللوں سے پرہیز کرنی چاہیے۔ دیگر عیاشیوں پر کنٹرول کرنا چاہیے۔ لیکن پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ دفاعی صلاحیت پر تو ہم نے پیسے خرچنے ہیں کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں‘ لیکن ساتھ ہی ہم نے دیگر اللے تللے بھی جاری رکھنے ہیں۔ امورِ ریاست میں جو کفایت شعاری کا تصور ہونا چاہیے وہ ہماری سمجھ اور پہنچ سے باہر لگتا ہے۔ انڈسٹریل صلاحیت ہماری ویسے ہی بہت محدود ہے‘ زراعت ہماری پیچھے ہے‘ اتنی آبادی ہونے کے باوجود ہماری معیشت کی وہ پروڈکٹو کیپسٹی نہیں جو کہ ہونی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ امورِ ریاست میں فضول خرچی ضرور کرنی ہے اور ریاست کی فضول عیاشیوں میں کوئی کمی نہیں لانی۔ یہ بھی تہیہ ہمارا لگتا ہے کہ صحتِ عامہ اور تعلیمِ عامہ کو ملکی امور میں ترجیح نہیں دینی۔
ایران کی مثال لے لیں‘ ان کا تعلیمی نظام اور اس نظام کی بدولت ان کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ ہم سے کہیں آگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سالہا سال امریکی پابندیوں کے باوجود وہ اتنا مؤثر میزائل اور ڈرون نظام قائم کر سکے۔ ان کے سارے میزائل سسٹم اپنے ہیں۔ کہاں پہاڑوں کے نیچے انہوں نے میزائل اور ڈرون تنصیبات قائم کیں‘ اتنے مضبوط اور گہرے کہ وحشیانہ اسرائیلی اور امریکی بمباری وہاں تک اثر نہ دکھا سکی۔ ایران کی تباہی بہت ہوئی ہے اس سے تو کوئی انکار نہیں لیکن کھڑے تو ہیں‘ جیسے اسرائیلی اور امریکی توقع رکھ رہے تھے ٹوٹے تو نہیں۔ اور جو مذاکرات ہو رہے ہیں وہ برابری کی سطح پر کر رہے ہیں اور کوشش ان کی یہی ہے کہ ان مذاکرات میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ ہم نے ایٹم بم بنا لیا اور گزرے وقتوں سے زیادہ اب سمجھ آتی ہے کہ یہ کوئی چھوٹا کارنامہ نہ تھا۔ ایئر فورس اور فوج بھی ہماری مضبوط ہے۔ لیکن ہر کوئی مانے گا کہ ملکی ترقی کے حوالے سے جو ہماری ترجیحات ہونی چاہئیں اور جو زور ہمیں تعلیم اور صحت عامہ پر لگانا چاہیے‘ ایسا ہم نہیں کر سکے۔ ہماری اجتماعی زندگی میں رشوت‘ بددیانتی اور اقربا پروری جیسی لعنتیں ہیں ان پر جو توجہ دینی چاہیے کبھی نہ دی اور نہ دیں گے۔ بہرحال ایسی باتیں ہوتی رہیں گی‘ ابھی تو دعا کرنی چاہیے کہ ہماری کوششیں رنگ لائیں اور اس کمبخت بے مقصد جنگ کا کوئی دیرپا حل نکل آئے۔ حالات وہاں خراب رہے تو ہماری معیشت کا کام پورا ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے ماری جھک ہے اور باقی دنیا کو تو چھوڑیے ہم جو باہر کے تیل اور باہر کی گیس پر گزارا کرتے ہیں ہمیں بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔
جنگ کے ڈھول ابھی پِٹنے ہی شروع ہوئے تھے کہ سمجھ آ گئی کہ تیل اور گیس کی قلت کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ شدت سے شروع ہو جائے گی۔ جلدی سے گاؤں کے بنگلے پر سولر لگوا لیے اور پھر چکوال میں بھی ایسا ہی کیا۔ ہمارا دوست جو یہ کام کرتا ہے‘ اس نے بل تو کچھ لمبا ہی دے دیا لیکن سوچا کہ جہاں ساری ریاست قرض کی مے کے فلسفے پر چل رہی ہے ہم بھی اسی فلسفے کو سامنے رکھیں۔ کچھ ادائیگی کر دی ہے اور کچھ کو جیسا کہ ہم سعودی پیسوں سے کرتے ہیں‘ رول اوور کیا ہے۔ ادائیگی ظاہر ہے ہو جائے گی لیکن اتنے میں لوڈ شیڈنگ سے مکمل نجات پا چکے ہیں۔ اب آس پاس پوچھنا پڑتا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کتنی ہو رہی ہے اور تب سمجھ آتی ہے کہ ایران پر جھک کا اثر ہم پر کتنا پڑ رہا ہے۔ بجلی کی قلت کا جہاں بندوبست ہو گیا ہے باقی کی اشیائے ضروریہ کا بندوبست ہمارے پاس رہتا ہی ہے۔ اس ضمن میں ہمارے گلاسکو اور لندن کے دوست شاد رہیں‘ ہم فقیروں کا خیال رکھ لیتے ہیں۔ چکوال میں بھلا ہو نزدیک چھپڑ بازار میں مدینہ ہوٹل کا‘ بڑی عمدہ دال اور سبزی پکتی ہے۔ غریب خانے میں کچھ پکا نہ ہو تو وہاں سے معقول داموں کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے۔ عیاشی کا موڈ آئے تو ناشتہ نثار ہوٹل سے آ جاتا ہے۔ نئے ہوٹل بھی یہاں بن گئے لیکن ہمارا تکیہ انہی دو جگہوں پر ہوتا ہے۔ رزق کا وعدہ تو ویسے بھی اوپر والے کا ہے اور رزق کے علاوہ جیسے عرض کیا ادھر اُدھر سے کام ہو جاتا ہے اور یہ بھی ہے کہ کبھی ہمت کرکے خود بھی خرچہ کر لیتے ہیں تاکہ سپلائی اور ڈیمانڈ کے تقاضے پورے رہیں۔
روزمرہ کے استعمال میں ہمارے پاس ہنڈا سٹی ہے جو کہ دیکھا جائے تو چھوٹی گاڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ کئی خیرخواہ پوچھتے ہیں کہ بڑی گاڑی کیوں نہیں رکھتے‘ آپ کو زیادہ جچے گی۔ ان سے کہتے تو کچھ نہیں پر دل میں جواب اٹھتا ہے کہ بڑی گاڑی تمہارے دادا ہمیں لے کر دیں گے؟ پٹرول کی مہنگائی کے ان دنوں میں چھوٹی گاڑی ہی فٹ رہتی ہے۔ کچھ اور دھندا جیسا کہ رئیل اسٹیٹ یا ٹھیکیداری کرتے اور ان کاموں کا کچھ ہنر ہوتا تو اللے تللوں میں ہم بھی بڑی شان سے پڑتے۔ لیکن دال ساگ مل جائے اور شبِ غم کا علاج بھی ہو جائے تو اوپر والے سے اور کیا مانگنا۔ سچ پوچھیے تو ریاست بھی ہماری جیسی سادگی کے اصولوں پر اپنے آپ کو استوار کرے تو جسے ہم مملکتِ خداداد کہتے ہیں اس کے حالات زیادہ نہیں تو کچھ سنور جائیں۔ اور یہ جو کشکول پر کام چلانے کیلئے انحصار کرنا پڑتا ہے اس سے چھٹکارا حاصل ہو جائے۔ لیکن صحیح عیاشی کیلئے کچھ ذوق بھی چاہیے ہوتا ہے۔ جس بلا کا یہ نام ہے وہ کہاں سے میسر ہو گی؟