"AYA" (space) message & send to 7575

ثالثی اور سفارتکاری کے نئے تقاضے

ایک بات ہم پاکستانیوں کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ ایرانیوں نے جو مذاکرات بھی کرنے ہیں اپنی مرضی سے کریں گے‘ کسی کے ورغلانے میں نہیں آئیں گے۔ جو نئی تجویز وہ پیش کر رہے ہیں اُس کے تحت جنگ بندی مستقل بنیادوں پر پہلے ہو ‘ امن قائم رکھنے کی ضمانت ہو اور جوہری مسئلے پر مذاکرات بعد میں ہوں جب جنگ کا خطرہ ٹل جائے۔ اس سب کے عوض آبنائے ہرمز کھل جائے گا اور جہازوں کی آمدورفت شروع ہو جائے گی۔ امریکہ کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے کہ وہ ایران کو اپنے ارادوں سے ہٹا سکے۔ امریکہ تو اس حالت میں پہنچ چکا ہے کہ اپنے مندوب اسلام آباد بھیجنے پڑے اور دوسرے راؤنڈ میں تو ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی سفارت کاروں کا انتظار بھی نہیں کیا اور عمان کی طرف چل دیے۔ باامر مجبوری صدر ٹرمپ کو بڑھک مارنی پڑی کہ میں نے اپنے سفارت کاروں کو اسلام آباد جانے سے روکا ہے کیونکہ بے سود کی اٹھارہ گھنٹے کی فلائٹ جب کچھ حاصل بھی نہ ہو بے مقصد کی کارروائی ہوگی۔
پاکستا ن کا کردار اچھا رہا لیکن سفارتکاری اب ایک نئے مرحلے میں جا چکی ہے جس میں ہماری عملداری ذرا کم ہو گئی ہے۔ اس میں کوئی افسوس کی بات نہیں ہونی چاہیے ‘ ہم نے جو کرنا تھا کر دیا اور اس کیلئے داد بھی وصول کی لیکن اب جب سفارتی عمل ایک اور سطح پر جا رہا ہے ہمیں اگر ضرورت پڑے کچھ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے لیکن یہ احساس بھی رہے کہ پیغام رسانی تو ہم کر سکتے ہیں امریکہ کو امن اور شانتی کی راہ پر نہیں ڈال سکتے۔ یہ امریکہ نے خود فیصلہ کرنا ہے۔ جہاں تک ایران کا تعلق ہے اُس نے تو ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی قسم کا غیر ضروری دباؤ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ لہٰذاپاکستان کو اب یہ دیکھنا چاہیے کہ حالات کس طرف کروٹ لیتے ہیں۔
اس جنگ نے ساری دنیا کو مشکل میں ڈال دیا ہے اور پاکستان پر جو مہنگائی کا نیا بوجھ پڑا ہے وہ بھی اس امریکی حماقت کی وجہ سے ہے۔ اب تو گاڑی کی ٹینکی میں تیل ڈلواتے وقت ڈر لگتا ہے کہ نرخ کہاں تک پہنچ جائے گا۔ ہم تو چلیں صرف مہنگائی کا ٹیکس دے رہے ہیں‘ برادر عرب ممالک کے حالات کا جائزہ لیا جائے اُن کو تو امریکہ نے مصیبت میں ڈال دیا ہے کیونکہ اُن کا سارا معاشی ماڈل تہس نہس ہو گیا ہے۔ تیل نکل رہا ہے نہ اُس کی ترسیل ہو رہی ہے‘ ہرمز بند ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں ٹینکر وہاں لنگرانداز ہیں۔ ان کے تو بڑے تعلقات تھے امریکہ کے ساتھ‘ کوئی تحفتاً ٹرمپ کو ہوائی جہاز دے رہا ہے اور ٹرمپ کے پہلے دور میں ایک برادر ملک کی طرف سے سونے کے بڑے تحائف دیے جا رہے تھے۔ کہاں گئے وہ سارے تحائف اور اُن سے برادر ملکوں کو حاصل کیا ہوا؟
اتنا تو پوچھیں اپنے امریکی مہربانوں سے کہ کچھ ہم سے صلاح کر لی ہوتی کچھ ہمیں پیشگی اطلاع دی ہوتی۔ سارے مشورے اسرائیل سے ہی کرنے تھے تو پھر تحفے کے جہاز اور سونے کے تحائف بھی اسرائیل سے لینے چاہئیں تھے۔ امریکہ اسرائیل یاری نے برادر ملکوں کا حشر کر دیا ہے اور حالت یہ ہے کہ سب کچھ سہہ کر اونچی آواز میں کچھ کہہ بھی نہیں سکتے۔ سب سے زیادہ دانشمندی سعودی برادر دکھا رہے ہیں‘ اندر سے جتنا بھی غصہ ہو لبوں پر زیادہ کچھ نہیں لا رہے۔ ایک یو اے ای ہے جس کا غصہ قابو میں نہیں آ رہا۔ برا بھلا ایران کو کہہ رہے ہیں لیکن اس بات سے مکمل اجتناب کر رہے ہیں کہ یہ سارا جھمیلا یہ سارا غدر شروع کس نے کیا۔ ایرانی حملے تو جواباً آئے‘ مسئلے کا آغاز تو امریکہ اور اسرائیلی حملوں سے ہوا لیکن یو اے ای والے ہیں کہ اُس طرف جاتے ہی نہیں سارا غصہ ایران کیلئے بچا کے رکھا ہوا ہے ۔ یو اے ای کچھ امریکہ سے پوچھے کہ پنگا لینا تھا تو ہم سے بات تو کی ہوتی۔ یو اے ای والے اسرائیل سے پوچھ سکتے ہیں کیونکہ اسرائیل سے اُن کے بڑے زبردست تعلقات استوار ہیں۔ یو اے ای کا سارا معاشی ماڈل اس بات پہ چل رہا تھا کہ تاقیامت یہاں پر امن اور استحکام رہے گا۔ اگر یہ مفروضہ بنایا ہوا تھا تو امریکہ اور اسرائیل پر زور دیتے کہ کسی ایڈونچر میں نہ پڑو‘ ایڈونچر تم کرو گے مارے ہم جائیں گے۔ لیکن دولت کا گھمنڈ برج الخلیفہ جتنا اونچا تھا اور احتیاط کی بات ہمارے یو اے ای کے دوستو ںکو سوجھ ہی نہیں رہی تھی۔ نتیجہ اب سامنے ہے‘ ایئرپورٹ خالی‘ فلائٹیں کینسل‘ ہوٹل ویران‘ ٹورسٹ اور سیرسپاٹا کرنے والے غائب۔ بلڈنگوں کا نقصان پورا ہو جائے گا لیکن اعتماد کو جو دھچکا پہنچا ہے اُس کا علاج سالوں پر محیط ہوگا۔
ہمارے برادر ملک اسی پر ناز کرتے تھے کہ واشنگٹن میں ہمارا بڑا اثر ہے اور ہماری بات بڑی سنی اور مانی جاتی ہے۔ لیکن پچھلے سال جون میں جو ایران پر حملے ہوئے اُس کے بعد بھی برادر ملک یہ نہ سمجھ سکے کہ امریکہ اور اسرائیل حملے پھر کرسکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو مجبوراً ایران کو بھی کچھ کرنا پڑے گا۔ لیکن یہ سب ممالک پتا نہیں کون سی نیند میں ڈوبے ہوئے تھے اور امریکہ کا بھی یہی حال تھاکہ حملے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ خیال خاطر میں نہ لائے کہ جب ہم اتنے میزائل اور بم ایران پر گرائیں گے تو ایران بھی کچھ کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اور ایسا کرنے میں آبنائے ہرمز کا بند ہونا بھی شامل ہو سکتا ہے۔ لیکن بڑا مفروضہ تو اور تھا کہ بمباری ہوگی‘ ایرانی قیادت مٹ جائے گی اور ایران کا اسلامی نظام زمین بوس ہو جائے گا۔ وہ ہوا نہیں اور امریکہ کو وختہ پڑ گیا اور ایسا وختہ کہ اُس میں اب تک پھنسا ہو اہے اور باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔
یہ جنگ امریکہ میں خود بہت غیر مقبول ہے۔ بڑھکیں مارنا آسان ہے کہ ایران کا انفراسٹرکچر تباہ کردیں گے لیکن حملے پھر سے شروع کرنا صدر ٹرمپ کیلئے اتنا آسان نہیں۔ پانچ چھ ہفتوں کی جنگ میں امریکہ اور اسرائیل ویسے ہی اپنا بہت سارا مہنگا اور مہلک ترین اسلحہ پھونک چکے ہیں۔پیٹریا ٹ میزائل‘ ٹاماہا ک میزائل اور دوسروں کی تعداد میں حیرت انگیز کمی واقع ہوئی ہے اور کئی سال لگ جائیں گے ذخیرے کی اس کمی کو پورا کرتے ہوئے۔ ایرانیوں نے امریکی اڈوں کو اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ اُن کی مرمت کیلئے ایک نیا خزانہ چاہیے ہوگا۔ اس صورتحال میں یہ کوئی آسان بات نہیں کہ صدر ٹرمپ ایک صبح اٹھیں اور ٹویٹ کر دیں کہ ہم حملے پھر سے شروع کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مؤقرتجزیہ کاروں کی بھاری اکثریت یہ کہہ رہی ہے کہ سارے پتے ایران کے ہاتھ میں ہیں امریکہ کے ہاتھ میں نہیں۔ اور تو اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے دو روز پہلے ایک بم پھینکا یہ کہہ کر کہ امریکہ ایرانی قیادت کے ہاتھوں بے عزت ہو رہا ے اور امریکہ کو مجبور ہو کر اپنے سفارتکار اتنے دور بھیجنے پڑ رہے ہیں۔ اب تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ امریکہ ایران سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا کہہ رہا ہے اور ایرانی کہہ رہے ہیں کہ جنگ کا پہلے مکمل خاتمہ ہو اور جو پیچیدہ مسائل ہیں اُن پر مذاکرات ہوتے رہیں گے۔ حماقت اور غرور کے اس مربے نے امریکہ کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔
پاکستان نے جو کرنا تھا کیا اور خوب کیا۔ اب معاملات کہیں اور جا رہے ہیں اور ایسے میں پاکستان کو اپنے حالات پر توجہ دینی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں