وہ پارسائی کون سی تھی جو ضیا الحق کے دور میں اس بدقسمت معاشرے پر ٹھونسی گئی؟ جنرل صاحب کو گئے 38سال ہو گئے لیکن ان کی زبردستی کی پارسائی کے اثرات پاکستان سے نہ مٹ سکے۔ یہاں نیکی نہیں پھیلی نہ انصاف کا بول بالا ہوا بس فرضی اور ظاہری اعتبار سے پارسائی کا ڈھنڈورا۔ جس کا سب سے بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ انسانی معاشرے کی کمزوریاں باپردہ ہو گئیں یا زیر زمین چلی گئیں۔ اور جنہیں ہم قانون نافذ کرنے والے ادارے کہتے ہیں‘ جو قانون کم اور رشوت اور کرپشن کو زیادہ نافذ کرتے ہیں‘ ان کی زور زبردستی بڑھ گئی۔ سانس سونگھنا اور کوئی غریب اور لاچار جوڑا ہتھے چڑھا تو نکاح نامہ طلب کر لیا۔ پارسائی کے نام پر بہت ہو چکا‘ اب مزید پارسائی کا بوجھ یہ معاشرہ نہیں اٹھا سکتا۔
ویسے بھی ایران جنگ کی وجہ سے دبئی کے معمولات پر گہرا اثر پڑا ہے۔ وہاں کی رعنائیاں تو ختم نہیں ہوئیں لیکن سیر سپاٹے کی غرض سے لوگوں کا آنا جانا کم ہو جائے اور دبئی ایئرپورٹ جو دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹوں میں شمار ہوتا تھا‘ تقریباً خالی پڑا ہو تو رعنائیوں کی آماجگاہوں پر اثر تو پڑنا ہے۔ پاکستان نے دبئی جیسی سرزمین کو کیا بھیجنا تھا‘ مزدور بھیجے اور ثقافت کے شعبے کو بے پناہ فروغ دیا۔ جہاں دبئی میں دنیا بھر کے ثقافت کے علمبرداروں نے اپنے ڈیرے جمائے‘ لاطینی امریکہ سے لے کر روس اور مشرقی یورپ تک‘ پاکستان سے بھی شعبۂ ثقافت سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے روزگار کی غرض سے دبئی کا رخ کیا۔ لاہور جیسے شہر میں ثقافت کے اعتبار سے جو تاریخی محلے ہوا کرتے تھے وہ ویران پڑ گئے۔ کچھ ہجرت تو اندرونی رہی یعنی ان پرانے محلوں سے لوگ جنہیں پوش علاقے کہتے ہیں وہاں چلے گئے لیکن بہت سے ایسے تھے جنہوں نے دبئی کا رخ کیا۔ اب جب ایران جنگ سے پیدا شدہ صورتحال کی وجہ سے دبئی کے حالات تھوڑے بدلے ہیں تو کوشش ہونی چاہیے کہ یہ جو بے پناہ ثقافتی ورثہ یہاں کے گلی کوچے چھوڑ کر اپنی قسمت آزمانے پردیس چلا گیا وہ واپس آئے۔
یہ واپسی کی ہجرت تب ہی ہو سکتی ہے جب یہاں کا معاشرہ کچھ بدلے۔ ڈھولک اور سازندوں کی ذرا سی آواز بھی اٹھے اور پولیس کے چھاپے پڑ جائیں یا چھاپوں کا اندیشہ ہو تو ایسے ماحول میں نہ کسی ثقافتی فنکار نے واپس آنا ہے نہ یہاں کا ماحول بدل سکتا ہے۔ ویسے تو پولیس گردی ہمارے معاشرے کا ایک حصہ ہے لیکن یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کسی گاؤں میں کسی نے مرغے یا بٹیر لڑا لیے تو ہماری پولیس کو کون سی ایسی تکلیف ہوتی ہے کہ وہاں ضرور چھاپہ مارنا ہے۔ بڑے لوگ اور بڑے وہی ہوتے ہیں جن کی جیبوں میں کچھ مال ہو وہ جوا کھیلیں تو ٹھیک ہے‘ جو تھوڑے بہت کلب اس ملک میں رہ گئے ہیں وہاں مخصوص کمروں میں جوا چلتا ہے لیکن وہاں تو کوئی چھاپے نہیں پڑتے۔ چھاپے ہمارے معاشرے میں لاچار طبقات کیلئے وقف ہوتے ہیں۔ کوئی بھولے سے شادی بیاہ کے فنکشن میں خواجہ سراؤں کو بلا لے اور پولیس کے ہاتھ پہلے سے رنگے نہ گئے ہوں تو چھاپہ پڑ جائے گا۔ فنکارائیں جو عموماً لاہور یا چنیوٹ جیسے مقامات سے بلائی جاتی ہیں‘ وہ کسی شادی بیاہ کے فنکشن میں آئیں تو پولیس سے پہلے بات طے نہ ہو تو چھاپہ ضرور پڑنا ہے۔ ان باتوں پر کیوں نہیں کوئی سوچ بچار ہوتی؟ مہنگائی اور بے روزگاری سے مارے لوگوں کو کوئی تفریح کا موقع مل جائے تو اچھی بات سمجھنی چاہیے۔ کرپشن کے زمرے میں کون سی لعنت ہے جو ہمارے معاشرے میں روا نہیں۔ لیکن پولیس کی نظریں بے راہ روی کی چھوٹی چھوٹی وارداتوں پر پڑتی ہیں کیونکہ ایک تو نچلے طبقات کے لوگ ہوتے ہیں اور کچھ مال پانی بن جاتا ہے۔ ہمارے حکمران اللہ‘ ان کا بھلا کرے‘ بڑے محدود ذہنی آؤٹ لُک کے مالک ہوتے ہیں۔ پڑھائی وغیرہ بھی ان کی واجبی ہوتی ہے۔ لیکن اقتدار کی پوزیشنوں پر جب پہنچ جاتے ہیں تو انہیں نظر اپنی کچھ وسیع رکھنی چاہیے۔ ضیا الحق کے ایک دو قانون جو اَب تک موجود ہیں اور جنہوں نے اس معاشرے کو گہنایا ہوا ہے اُنہیں ہٹانے کی ضرورت ہے۔ جن عادات یا روشوں کو پارسائی کے مارے لوگ برائیاں سمجھتے ہیں وہ قانونی پابندیوں سے ختم نہیں ہوتیں۔ سمجھدار معاشرے ایسی برائیوں کو مینج یا ریگولیٹ کرتے ہیں۔ قوانین اور پابندیوں کی پاکستان میں کوئی کمی نہیں لیکن کیا ان کی بدولت معاشرہ پاک صاف ہو گیا ہے؟ لہٰذا عقل اور شعور سے کام لینا چاہیے اور بے جا کی پابندیوں کو سرد خانے میں ڈالنے کا سوچنا چاہیے۔
ان پابندیوں کی وجہ سے ایک تو منافقت میں اضافہ ہوا ہے اور دوم دو نمبری کو فروغ ملا ہے۔ دو نمبری اب باقاعدہ بڑا کاروبار بن چکا ہے۔ ذاتی تجربہ ہے‘ اچھے بھلے نوٹ کسی چیز کیلئے جیب سے نکالتے ہیں اور دھڑکا لگا رہتا ہے کہ دو نمبری نہ ہو جائے۔ بتائیے ریاست کو اس سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ جو ریونیو یا آمدن ریاست کی جیب میں جانا چاہیے وہ دو نمبری کرنے والے یا جو سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کے کرتا دھرتا ہیں اُن کی جیبوں میں چلا جاتا ہے اور چونکہ دو نمبری خود جرم ہے تو جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔
دبئی والوں نے اپنے ملک میں کیا کرشمہ کیا تھا؟ انہوں نے دبئی کا ماحول ایسا بنایا کہ باہر کے لوگ وہاں آنا چاہتے تھے۔ جو پیسہ لے کر آئے گا انویسٹ کرنے کیلئے اُسے شام کو بھی کچھ کرنا ہے۔ کہیں آرام کرنا ہے کہیں ریلیکس ہونا ہے۔ سوچئے تو سہی ہماری نامور پولیس دبئی میں ہوتی تو وہاں جانے اور رہنے کا کوئی سوچتا؟ حکمران یا بڑے لوگ عیاشی کرنے دبئی جائیں گے لیکن اپنے دیس میں پارسائی کا چورن بیچیں گے۔ اسی دوغلے پن نے اس ملک کا چہرا مسخ کیا ہوا ہے۔ کوئی معاشرہ ہی دروغ گوئی اور دوغلے پن پر قائم ہو تو کیا وہ ایک اچھا معاشرہ بن سکتا ہے؟ ہماری جنریشن جو تقسیمِ ہند کے چند سال بعد اس دنیا میں آئی ویسے ہی ایک غلط وقت پر پروان چڑھی‘ جب زور زبردستی کی پارسائی یہاں نافذ ہو چکی تھی۔ 1977ء تو ایک ایسا سال تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے سیاست نہ سنبھالی گئی‘ بھٹو کے دشمنوں نے اسلام کا نعرہ لگا دیا اور سیاسی بحران جس کے حل میں بھٹو نے بہت دیر کر دی اُس کے نتیجے میں ملک پر مارشل لا نافذ ہو گیا۔ وہ دن اور آج کا دن منافقت کے بادل یہاں سے نہیں چھٹ سکے۔
ہوتا سب کچھ ہے لیکن اندرونِ خانہ۔ یہ بھی ہے کہ اس اندرون خانہ کیفیت کی وجہ سے جسے تفریح کہا جا سکتا ہے غریب کے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ جب ہم لیفٹین کپتان تھے تو لاہور جیسے شہر میں سو روپے میں ٹھیک ٹھاک شام گزر جاتی تھی۔ آج کیفیت یہ ہے کہ وہ جو سو روپے میں ہو جاتا تھا وہ کرنے کیلئے پچاس ہزار سے ایک لاکھ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ بتائیے غریب بیچارا کہاں جائے۔ اس زمانے میں چھوٹے شہروں کے لوگ لاہور کے مخصوص محلوں کا رخ کر لیتے تھے۔ اب اس قسم کی یاترا ممکن نہیں اور اگر چھوٹے شہر میں رہ کر ہی کچھ کرنا ہے تو چھاپوں کا حساب رکھنا پڑتا ہے۔ اس ماحول کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ لوگ سہم جاتے ہیں ڈرے رہتے ہیں۔ یورپ یا امریکہ کی ورکر کلاس یا مزدور طبقے کو دیکھیں کیااعتماد ان کا ہوتا ہے۔ پاکستان یا ہندوستان کے مزدور طبقے کو دیکھیں۔ ڈرے ڈرے لگتے ہیں۔ ڈرے لوگوں سے کبھی پُر اعتماد قوم بن سکتی ہے؟