"RKC" (space) message & send to 7575

بہادری سے بربادی تک

آپ اپنی آنکھیں اور دماغ کھول کر رکھیں تو آپ کو خود بھی احساس ہو جاتا ہے کہ زندگی میں اب کون سا مرحلہ آن پہنچا ہے جہاں رک جانا چاہیے۔ آپ کو کسی دوسرے شخص کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے کہ وہ آپ کو بتائے کہ اب کافی ہو گیا ہے‘ اب یہیں رک جائیں‘ ورنہ آگے بڑی مصیبت انتظار کر رہی ہے۔ مجھے یہ سبق 2002ء میں ملا تھا‘ جب میں ایک انگریزی اخبار میں ایڈیٹر رپورٹنگ تھا۔ روزانہ سکینڈلز اور سٹوریز بریک کرنے کے علاوہ ہفتہ وار کمنٹری بھی کرتا تھا۔ پارلیمنٹ سے بھی رپورٹنگ کر رہا تھا (جو آج بھی کر رہا ہوں)۔ میری تحریریں اکثر سخت تنقید سے بھرپور ہوتی تھیں جنہیں اخبار کی ادارتی پالیسی کے تحت بعض اوقات ایڈٹ کر لیا جاتا تھا۔ وہ پرویز مشرف کا دور تھا‘ لہٰذا مقتدرہ کی سختیاں بھی زیادہ تھیں لیکن اس کے باوجود اخبار کے مالک اور ایڈیٹر بہادری کے ساتھ سکینڈلز اور کمنٹری شائع کر دیتے تھے‘ جس پر شدید ردِعمل بھی آتا تھا۔ایک دن میں نے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی سخت سیاسی تبصرہ پارلیمنٹ سے لکھ کر پنڈی ڈیسک بھیجا تو وہاں خالد اختر صاحب‘ جو اُن تمام خبروں اور مواد کو دیکھتے اور ایڈٹ کرتے تھے‘ کا فون آیا۔ خالد اختر نہ صرف سینئر صحافی تھے اور اپنے کام میں مہارت رکھتے تھے بلکہ اس سے بڑھ کر ان کی طبیعت اور مزاج انتہائی عمدہ تھا۔ ایسا ہی مزاج ہمارے سینئر احمد حسن علوی کا بھی تھا‘ جو ہم جیسے جونیئرز کو مسلسل رہنمائی دیتے رہتے تھے۔ یہی کام خالد اختر بھی کرتے تھے۔ میرا پارلیمنٹ سے بھیجا گیا سخت سیاسی تبصرہ پڑھ کر ان کا فون آیا۔ وہ مجھے میرے پہلے نام کے بجائے ''کلاسرے‘‘ کہہ کر بلاتے تھے۔ کہنے لگے ''کلاسرے رپورٹر کو خود بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اسے کہاں رکنا ہے۔ مسلسل اور مادر پدر آزادی کی خواہش بھی مناسب نہیں ہوتی۔ یہاں تنقید جمہوری حکومتیں برداشت نہیں کرتیں‘ یہ تو پھر مارشل لا کا دور ہے۔ اگرچہ میں اخباری پالیسی کے تحت آپ کی تحریروں کو جہاں مناسب سمجھتا ہوں ایڈٹ کر لیتا ہوں لیکن میرے خیال میں ایک رپورٹر کو خود بھی علم ہونا چاہیے کہ ان حالات میں کون سی چیز شائع ہو سکتی ہے‘‘۔ خالد اختر کی یہ بات مجھے میری ذاتی زندگی میں بھی کام آئی۔ اگرچہ اس کے بعد بھی میری اور میرے ساتھیوں کی تحریریں سخت مواد سے بھرپور ہوتی تھیں لیکن لکھتے وقت کم از کم یہ بات ذہن میں رہتی تھی کہ انسان کو حالات کا ادراک ہونا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔یہ لمبی تمہید مجھے اس وقت ایران کی نئی اور خطرناک صورتحال کو دیکھ کر باندھنی پڑی ہے۔ ایران امریکہ مذاکرات کی کامیابی پر لوگ خوش ہو رہے تھے‘ لیکن یہ خوشی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔ ایران نے پہلے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا‘ جس پر پوری دنیا خوش ہوئی۔ ایرانیوں کے پاکستان میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات اور معاہدے کی راہ بھی ہموار ہوتی نظر آئی لیکن اب ایران اور امریکہ کے درمیان نیوکلیئر معاملے پر دوبارہ شدید اختلافات ابھر آئے ہیں۔ پہلے امریکہ یہ پیشکش کر رہا تھا کہ ایران اپنا باقی ماندہ نیوکلیئر مواد اس کے حوالے کر دے تو وہ 20 ارب ڈالر دینے کو تیار ہے لیکن اب دوبارہ جمود طاری ہو گیا ہے۔ ایرانی فوج نے پھر ہرمز کو بند کر دیا ہے حالانکہ ایرانی وزیر خارجہ نے اسے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ کیا ایرانی سیاسی اور فوجی قیادت ان مذاکرات پر ایک صفحے پر نہیں؟ کیا سیاسی قوتیں امریکہ سے ڈیل کرنا چاہتی ہیں جبکہ پاسدارانِ انقلاب اس کے مخالف ہیں؟ یہ ایک نہایت خطرناک صورتحال ہے۔ اسی تناظر میں مَیں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ حق ایرانی قوم کا ہے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ اسے کون سا راستہ اختیار کرنا ہے۔ اگرچہ ان کے فیصلوں کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں اور آئندہ بھی پڑیں گے۔
امریکہ میں موجود صحافی دوست انور اقبال کہتے ہیں کہ پاکستان میں بیٹھ کر چائے پیتے ہوئے ایران کی بہادری اور مزاحمت کی تعریف کرنا آسان ہے لیکن جن لوگوں پر گزر رہی ہوتی ہے‘ وہی بہتر جانتے ہیں۔ تاہم کسی بھی ملک کی قیادت کا اپنے ملک کو برباد کرنے یا بچانے میں بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ صرف دو مثالیں پیش کروں گا۔ جنگ عظیم دوم میں جاپان نے پرل ہاربر پر حملے کا فیصلہ کیا۔ کابینہ کے کچھ وزرا اسکے خلاف تھے لیکن حمایتی وزرا نے انہیں بزدل اور وطن دشمن قرار دے دیا اور کہا کہ ہم سمورائی جنگجو جاپانی ہیں‘ ہماری بہادری کی ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے۔ امریکہ کی تاریخ ہی کیا ہے‘ محض دو ڈھائی سو سال۔ ( ایران بھی آج یہی مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ہماری ہزاروں سال پرانی تاریخ ہے جبکہ امریکہ کو قائم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا)۔ بالآخر جاپانی بادشاہ کو وزیر اعظم نے راضی کر لیا۔ پرل ہاربر پر حملہ ہوا‘ تین ہزار امریکی مارے گئے۔ جواباً امریکہ نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا دیے۔ امریکہ نے جاپانیوں سے کہا کہ سرنڈر کرو‘ ورنہ تیسرا بم بھی گرایا جائے گا۔ تب بادشاہ کو احساس ہوا کہ پرل ہاربر کے فیصلے نے کتنی بڑی تباہی مچا دی تھی۔ آخرکار بادشاہ نے ریڈیو پر سرنڈر کا اعلان کیا کہ اب کافی ہو چکا ہے۔ وہ اپنی سرخ رنگ کی بادشاہ کیلئے مخصوص شاہی گاڑی میں امریکی سفارتخانے گئے اور جنرل ڈگلس سے مل کر یہ طے کیا کہ اپنے ملک اور عوام کو مزید تباہی سے کیسے بچایا جائے۔ باقی تاریخ ہے۔
اسی طرح 2001ء میں جب اسامہ بن لادن نے نیویارک حملوں کی ذمہ داری قبول کی تو امریکہ نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ اسے ہمارے حوالے کر دیں‘ ورنہ افغانستان پر حملہ کیا جائے گا۔ افغان طالبان نے کہا کہ ان کی پشتون ولی انہیں اپنا مہمان امریکہ کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ نتیجتاً امریکہ افغانستان پر حملہ آور ہوا‘ وہاں لاکھوں لوگ مارے گئے‘ بے گھر ہوئے۔ مُلا عمر خود تو بھاگ نکلے لیکن خواتین اور بچے پاکستان کے کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ افغانستان آج تک اُس فیصلے کے اثرات سے نہیں نکل پایا۔ امریکہ بیس سال تک وہاں موجود رہا۔ ہم یہاں بیٹھ کر خوش ہوتے رہے کہ افغان لڑ رہے ہیں۔ جب سب کچھ ہو گیا تو امریکہ نے اپنی مرضی سے دوبارہ طالبان کو کابل میں بٹھا دیا‘ اور وہیں سے کھیل دوبارہ شروع ہو گیا جہاں سے ختم ہوا تھا۔ کسی افغان نے اپنے ''مہمان‘‘ سے یہ نہ پوچھا کہ تمہارے پیچھے عالمی طاقت کیوں لگی ہوئی ہے اور تم ہماری سرزمین کو کیوں استعمال کر رہے ہو؟ پشتون ولی بھاری پڑ گئی‘ جس کی قیمت لاکھوں افغانوں نے چکائی اور اب تک چکا رہے ہیں۔
آج ایران کو بھی ویسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ اسے مذاکرات سے جو مل رہا ہے‘ وہ بھی کم نہیں لیکن شاید وہ مزید حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ پوری دنیا اسے مظلوم سمجھ رہی ہے کہ اس پر حملہ ہوا‘ معصوم ایرانی مارے گئے‘ لہٰذا اسے اپنے اربوں ڈالر واپس ملنے چاہئیں‘ پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور اسے ایک نارمل ملک کے طور پر تجارت کا موقع ملنا چاہیے‘ اور ہم جیسے لوگوں کو بھی کبھی ایران دیکھنے کا موقع ملے۔ یا پھر ایران نیوکلیئر پر وہی مؤقف رکھے جو مُلا عمر نے اسامہ پر رکھ لیا تھا۔ یہ طے ہے کہ دنیا ایران کو نیوکلیئر آپشن رکھنے نہیں دے گی‘ چاہے ہمیں یہ بات پسند ہو یا نہ ہو۔ ایرانی قیادت کو جاپانی بادشاہ کی طرح ایسے فیصلے کرنا ہوں گے جو آنے والی نسلوں کے مفاد میں ہوں۔ انسانی انا اکثر ہماری سمجھ بوجھ پر غالب آ جاتی ہے۔ ایران کیلئے یہ ایک اچھا موقع ہے کہ وہ امریکہ سے ڈیل کر کے ماضی کو دفن کرے اور آگے بڑھے۔ پاکستان بھی ایک حد تک امریکہ پر دباؤ ڈال سکتا ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ تھک ہار کر پاکستان بھی پیچھے ہٹ جائے۔جاپان‘ افغانستان اور اب ایران‘ ان تینوں مثالوں میں ایک مشترکہ نام ہے اور وہ ہے امریکہ۔ ضروری نہیں کہ ایک انسان یا قوم اپنا نقصان کر کے ہی سبق سیکھے۔ عقلمند لوگ دوسروں کے تجربات سے سیکھ کر خود کو آزمائشوں میں نہیں ڈالتے۔ بہادری ایک اچھی صفت ہے لیکن کسی مرحلے پر خود رک جانا بھی دانشمندی کہلاتی ہے‘ ورنہ بہادری سے بربادی تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں