ہوا کا سفر
ایک سہانی صبح کو سورج کی پہلی کرن زمین پر پڑی تو اس کی ملاقات بارش کی ننھی سی بوند سے ہوئی۔ ہوا آج بہت خوش تھی، وہ کبھی درختوں کے پتوں سے ٹکراتی تو کبھی پھولوں کو چھیڑتی۔
اس نے شرارت سے ننھے قطرے سے پوچھا: میاں قطرے! یہ تو بتاؤ تم آسمان سے زمین پر کیسے گرتے ہو؟ تمہارا گھر کہاں ہے؟
ننھا قطرہ مسکرایا اور بولا: پیاری ہوا! میں تو ابھی ابھی بادل سے جدا ہوا ہوں، مجھے زیادہ تو نہیں معلوم، لیکن وہ سامنے جو روئی کے گالوں جیسے سفید بادل نظر آ رہے ہیں، وہ تمہیں سب بتا دیں گے۔
ہوا لہراتی اور بل کھاتی ہوئی بادلوں کے پاس پہنچی۔ بادل میاں بڑے نرم دل تھے۔ انہوں نے کہا: ہوا بہن! تمہیں تھوڑی دور اور جانا ہوگا۔ وہاں دیکھو، جہاں سورج کی چمک سب سے زیادہ ہے، وہاں گرمی بی بی رہتی ہیں۔ وہی تمہیں اس کا راز بتائیں گی۔
ہوا جب وہاں پہنچی تو سورج کی تپش سے اس کا برا حال ہو گیا۔ وہاں ہر طرف سنہری روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ہوا نے دیکھا کہ گرمی بی بی سورج سے باتیں کر رہی ہیں۔ ہوا نے ڈرتے ڈرتے اپنا سوال دہرایا۔
گرمی بی بی نے پیار سے جواب دیا:دیکھو ہوا! میں سورج سے طاقت لیتی ہوں اور دریاؤں کے پانی کو بھاپ بنا کر آسمان کی طرف اڑاتی ہوں۔ تم نے دیکھا ہے نا جب گھر میں پانی ابلتا ہے تو دھواں اوپر جاتا ہے؟ بس ویسے ہی یہ ننھے ننھے بخارات اوپر جا کر ٹھنڈے ہوتے ہیں اور بادل بن جاتے ہیں۔ پھر جب بادل بھاری ہو جاتے ہیں، تو وہ ٹپ ٹپ بارش بن کر دوبارہ زمین پر برس پڑتے ہیں۔
ہوا یہ سن کر حیران رہ گئی اور خوشی سے تالیاں بجانے لگی: ارے واہ! یہ تو ایک بہت بڑا اور مزے دار چکر ہے، جسے گھوم کر پانی واپس وہیں آ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔
بادل کے پیچھے سے چھوٹی سی بوند نے سر نکالا اور دھیمے سے کہا: ہوا باجی! اسکول کے بچے اسے آبی چکر یا واٹر سائیکل کہتے ہیں۔
ہوا کو یاد آیا کہ اس نے بھی اسکول کی کھڑکی سے گزرتے ہوئے بچوں کو یہی سبق پڑھتے سنا تھا۔ وہ بہت خوش ہوئی اور سب کا شکریہ ادا کر کے سائیں سائیں کرتی ہوئی بچوں کی طرف اڑ گئی تاکہ انہیں یہ خوبصورت کہانی سنا سکے۔