ہوا کا سفر

تحریر : دانیال حسن چغتائی


ایک سہانی صبح کو سورج کی پہلی کرن زمین پر پڑی تو اس کی ملاقات بارش کی ننھی سی بوند سے ہوئی۔ ہوا آج بہت خوش تھی، وہ کبھی درختوں کے پتوں سے ٹکراتی تو کبھی پھولوں کو چھیڑتی۔

اس نے شرارت سے ننھے قطرے سے پوچھا: میاں قطرے! یہ تو بتاؤ تم آسمان سے زمین پر کیسے گرتے ہو؟ تمہارا گھر کہاں ہے؟

ننھا قطرہ مسکرایا اور بولا: پیاری ہوا! میں تو ابھی ابھی بادل سے جدا ہوا ہوں، مجھے زیادہ تو نہیں معلوم، لیکن وہ سامنے جو روئی کے گالوں جیسے سفید بادل نظر آ رہے ہیں، وہ تمہیں سب بتا دیں گے۔

ہوا لہراتی اور بل کھاتی ہوئی بادلوں کے پاس پہنچی۔ بادل میاں بڑے نرم دل تھے۔ انہوں نے کہا: ہوا بہن! تمہیں تھوڑی دور اور جانا ہوگا۔ وہاں دیکھو، جہاں سورج کی چمک سب سے زیادہ ہے، وہاں گرمی بی بی رہتی ہیں۔ وہی تمہیں اس کا راز بتائیں گی۔

ہوا جب وہاں پہنچی تو سورج کی تپش سے اس کا برا حال ہو گیا۔ وہاں ہر طرف سنہری روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ہوا نے دیکھا کہ گرمی بی بی سورج سے باتیں کر رہی ہیں۔ ہوا نے ڈرتے ڈرتے اپنا سوال دہرایا۔

گرمی بی بی نے پیار سے جواب دیا:دیکھو ہوا! میں سورج سے طاقت لیتی ہوں اور دریاؤں کے پانی کو بھاپ بنا کر آسمان کی طرف اڑاتی ہوں۔ تم نے دیکھا ہے نا جب گھر میں پانی ابلتا ہے تو دھواں اوپر جاتا ہے؟ بس ویسے ہی یہ ننھے ننھے بخارات اوپر جا کر ٹھنڈے ہوتے ہیں اور بادل بن جاتے ہیں۔ پھر جب بادل بھاری ہو جاتے ہیں، تو وہ ٹپ ٹپ بارش بن کر دوبارہ زمین پر برس پڑتے ہیں۔

ہوا یہ سن کر حیران رہ گئی اور خوشی سے تالیاں بجانے لگی: ارے واہ! یہ تو ایک بہت بڑا اور مزے دار چکر ہے، جسے گھوم کر پانی واپس وہیں آ جاتا ہے جہاں سے چلا تھا۔

بادل کے پیچھے سے چھوٹی سی بوند نے سر نکالا اور دھیمے سے کہا: ہوا باجی! اسکول کے بچے اسے آبی چکر یا واٹر سائیکل کہتے ہیں۔

ہوا کو یاد آیا کہ اس نے بھی اسکول کی کھڑکی سے گزرتے ہوئے بچوں کو یہی سبق پڑھتے سنا تھا۔ وہ بہت خوش ہوئی اور سب کا شکریہ ادا کر کے سائیں سائیں کرتی ہوئی بچوں کی طرف اڑ گئی تاکہ انہیں یہ خوبصورت کہانی سنا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔