اندازِ تخاطب!
’’اللہ بری بات زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتے، سوائے اس کے کہ کسی پر ظلم ہو (سوائے مظلوم کے) اور اللہ سننے والے جاننے والے ہیں‘‘(النساء: 148) چغلی، جھوٹ اور بدگوئی سے پاک گفتگو ہی ایک پرامن اور مہذب معاشرے کی بنیاد بنتی ہے حسنِ سلوک اور شائستہ گفتگو اختیار کرنے والے افراد دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتے ہیں
اللہ کریم قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’اللہ بری بات زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتے، سوائے اس کے کہ کسی پر ظلم ہو (سوائے مظلوم کے) اور اللہ سننے والے جاننے والے ہیں‘‘ (سورۃ النساء: 148)۔
دین اسلام، دین فطرت ہے اسی لیے زندگی گزارنے کے جو اصول و ضوابط اس نے دیئے ہیں وہ بہترین اور بے مثال ہیں۔ اسلام نے جہاں اندازِ حکمرانی سکھائے اور اقوامِ عالم کے مابین تعلقات کے اصول و ضوابط وضع کیے وہاں انسانی فطری تقاضوں کا احاطہ بھی فرمایا اور معاملات کی انتہائی باریکی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے معاشرتی زندگی کی جزئیات تک کے اصول بھی وضع فرما دیے۔ جن پر عمل کرنے سے رہن سہن آسان اور سہل ہی نہیں معاشرتی نکھار کے ساتھ خوب سے خوب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
ایک انسان کا دوسرے انسان سے جب کسی طور بھی واسطہ پڑتا ہے تو اس کی ابتدا اور انتہا بات چیت ہی سے ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ایسے کریم ہیں کہ یہاں بھی انسانی تربیت کا اہتمام فرماتے ہوئے اصول و ضوابط وضع فرما دیے اور ’’وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا‘‘(سورۃ البقرہ: 83) کا حکم دیتے ہوئے بندوں کو بندوں سے ہم سخن ہونے کا سلیقہ سکھا دیا۔
سبحان اللہ! کیا خوبصورت دین ہے کہ جہاں باہمی گفتگو کا انداز سکھایا وہاں یہ بھی تعلیم فرما دیا کہ گفتگو ہونی کیا چاہیے؟ انسانی معاشرے کو امن، سکون اور حسن عطا کرنے کیلئے نہ صرف چغلی، بدگوئی اور جھوٹ کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا بلکہ برائی کا جواب برائی سے دینے کی بھی ممانعت فرمائی کہ یہ عمل برائی کے تسلسل کا سبب بنتا ہے اور بدسلوکی اور بدکلامی کو نظر انداز کرتے ہوئے اللہ کی رضا کیلئے خود کو اچھائی پر قائم رکھنے والوں کو فلاحِ دارین کا مژدہ سنایا۔
معاشرے کو پستی میں گرنے اور ذہنی خلفشار سے بچانے کیلئے برائی کی تشہیر کی سختی سے ممانعت فرمائی کہ یہ بذاتِ خود برائی تعلیم کرنے کے مترادف اور برائی کے فروغ کا سبب ہے۔ بری بات کو اگر زبان سے دہرایا جائے تو وہ عام ہونا شروع ہو جاتی ہے اور جو اس برائی سے ناواقف ہے وہ بھی اس سے آشنا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اللہ کریم نے فرمایا کہ وہ یہ پسند نہیں فرماتے کہ بری بات کو زبان پر لایا جائے ہاں اگر کسی پر ظلم ہوا ہو تو وہ فریاد رسی کیلئے اس کا ذکر کر سکتا ہے اور یہاں عدلِ اسلامی معاشرتی اصولوں میں ایک نہایت اہم اصول ہے کہ عدل و انصاف ہی معاشرتی برائی کی بیخ کنی کر سکتا ہے۔
بلاشبہ اللہ کریم چاہتے ہیں کہ اس کے بندے اپنی زبان سے اچھا کلمہ اچھے انداز سے ادا کریں مگر یہاں ایک پہلو اور بھی ہے۔ ایک مرتبہ کسی نے حضرت رابعہ بصریؒ سے پوچھا کہ آپ کی زبان سے کبھی شیطان کے بارے میں برا کلمہ نہیں سنا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے جو وقت شیطان کی برائی کرتے ہوئے گزارنا ہے کیوں نہ وہ وقت اپنے رحمن کی تعریف میں گزار دوں۔
گویا یہاں زبان کے استعمال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ ہم جو وقت دوسروں کی برائی اور عیب جوئی میں گزارتے ہیں کیوں نہ وہ وقت اپنے اللہ کو یاد کرنے اور نبی اکرمﷺ پر درود بھیجنے میں صرف کریں کہ زبان بھی یادِ الٰہی سے تر رہے اور قلب و ذہن بھی مطمئن و پرسکون رہیں۔ جتنا وقت ہم کسی برے واقعہ (جس میں کوئی نشانِ عبرت بھی نہیں) کو ایک سے دوسرے تک پہنچانے میں ضائع کرتے ہیں کیوں نہ کسی اچھے واقعے (جو اچھائی کی ترغیب دے رہا ہو) کی تشہیر کریں۔
جو زبان برائی کی تشہیر میں مصروف ہے اسے تبلیغ اسلام کیلئے وقف کر دیں تو ہمارا یہ وقت اور ہماری زبان سے ادا ہونے والے الفاظ ایک دوسرے انسان کی اخروی نجات کا باعث ہی نہ بنیں گے بلکہ ہماری ابدی فلاح کا سبب بھی ہوں گے۔ تو آیئے فلاحِ دارین کی راہ پہ گامزن ہوں کہ اس پہ خرچ کچھ بھی نہیں ہوتا اور منافع بے حد و حساب ہے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اپنی زبان سے جو بھی ادا کرتے ہیں وہ ایک ایک لفظ کراما کاتبین محفوظ کر رہے ہیں لہٰذا کچھ بھی بولنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ایک دن ایسا بھی مقرر ہے کہ جب بولا جانے والا ہر لفظ بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوگا اور طلبِ شفاعت محمد رسول اللہﷺ کی ہوگی لہٰذا ہمیں کچھ بھی کہنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ کیا یہ الفاظ اس قابل ہیں کہ نامہ اعمال کی شکل میں اس بارگاہ میں پیش ہو سکیں!
امیر عبدالقدیر اعوان سربراہ تنظیم
الاخوان پاکستان اورشیخ سلسلسہ
نقشبندیہ اویسیہ ہیں