اندازِ تخاطب!

تحریر : امیر عبدالقدیر اعوان


’’اللہ بری بات زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتے، سوائے اس کے کہ کسی پر ظلم ہو (سوائے مظلوم کے) اور اللہ سننے والے جاننے والے ہیں‘‘(النساء: 148) چغلی، جھوٹ اور بدگوئی سے پاک گفتگو ہی ایک پرامن اور مہذب معاشرے کی بنیاد بنتی ہے حسنِ سلوک اور شائستہ گفتگو اختیار کرنے والے افراد دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتے ہیں

اللہ کریم قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’اللہ بری بات زبان پر لانے کو پسند نہیں کرتے، سوائے اس کے کہ کسی پر ظلم ہو (سوائے مظلوم کے) اور اللہ سننے والے جاننے والے ہیں‘‘ (سورۃ النساء: 148)۔

دین اسلام، دین فطرت ہے اسی لیے زندگی گزارنے کے جو اصول و ضوابط اس نے دیئے ہیں وہ بہترین اور بے مثال ہیں۔ اسلام نے جہاں اندازِ حکمرانی سکھائے اور اقوامِ عالم کے مابین تعلقات کے اصول و ضوابط وضع کیے وہاں انسانی فطری تقاضوں کا احاطہ بھی فرمایا اور معاملات کی انتہائی باریکی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے معاشرتی زندگی کی جزئیات تک کے اصول بھی وضع فرما دیے۔ جن پر عمل کرنے سے رہن سہن آسان اور سہل ہی نہیں معاشرتی نکھار کے ساتھ خوب سے خوب تر ہوتا چلا جاتا ہے۔

ایک انسان کا دوسرے انسان سے جب کسی طور بھی واسطہ پڑتا ہے تو اس کی ابتدا اور انتہا بات چیت ہی سے ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ایسے کریم ہیں کہ یہاں بھی انسانی تربیت کا اہتمام فرماتے ہوئے اصول و ضوابط وضع فرما دیے اور ’’وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا‘‘(سورۃ البقرہ: 83) کا حکم دیتے ہوئے بندوں کو بندوں سے ہم سخن ہونے کا سلیقہ سکھا دیا۔ 

سبحان اللہ! کیا خوبصورت دین ہے کہ جہاں باہمی گفتگو کا انداز سکھایا وہاں یہ بھی تعلیم فرما دیا کہ گفتگو ہونی کیا چاہیے؟ انسانی معاشرے کو امن، سکون اور حسن عطا کرنے کیلئے نہ صرف چغلی، بدگوئی اور جھوٹ کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا بلکہ برائی کا جواب برائی سے دینے کی بھی ممانعت فرمائی کہ یہ عمل برائی کے تسلسل کا سبب بنتا ہے اور بدسلوکی اور بدکلامی کو نظر انداز کرتے ہوئے اللہ کی رضا کیلئے خود کو اچھائی پر قائم رکھنے والوں کو فلاحِ دارین کا مژدہ سنایا۔

معاشرے کو پستی میں گرنے اور ذہنی خلفشار سے بچانے کیلئے برائی کی تشہیر کی سختی سے ممانعت فرمائی کہ یہ بذاتِ خود برائی تعلیم کرنے کے مترادف اور برائی کے فروغ کا سبب ہے۔ بری بات کو اگر زبان سے دہرایا جائے تو وہ عام ہونا شروع ہو جاتی ہے اور جو اس برائی سے ناواقف ہے وہ بھی اس سے آشنا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اللہ کریم نے فرمایا کہ وہ یہ پسند نہیں فرماتے کہ بری بات کو زبان پر لایا جائے ہاں اگر کسی پر ظلم ہوا ہو تو وہ فریاد رسی کیلئے اس کا ذکر کر سکتا ہے اور یہاں عدلِ اسلامی معاشرتی اصولوں میں ایک نہایت اہم اصول ہے کہ عدل و انصاف ہی معاشرتی برائی کی بیخ کنی کر سکتا ہے۔

بلاشبہ اللہ کریم چاہتے ہیں کہ اس کے بندے اپنی زبان سے اچھا کلمہ اچھے انداز سے ادا کریں مگر یہاں ایک پہلو اور بھی ہے۔ ایک مرتبہ کسی نے حضرت رابعہ بصریؒ سے پوچھا کہ آپ کی زبان سے کبھی شیطان کے بارے میں برا کلمہ نہیں سنا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے جو وقت شیطان کی برائی کرتے ہوئے گزارنا ہے کیوں نہ وہ وقت اپنے رحمن کی تعریف میں گزار دوں۔ 

گویا یہاں زبان کے استعمال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ ہم جو وقت دوسروں کی برائی اور عیب جوئی میں گزارتے ہیں کیوں نہ وہ وقت اپنے اللہ کو یاد کرنے اور نبی اکرمﷺ پر درود بھیجنے میں صرف کریں کہ زبان بھی یادِ الٰہی سے تر رہے اور قلب و ذہن بھی مطمئن و پرسکون رہیں۔ جتنا وقت ہم کسی برے واقعہ (جس میں کوئی نشانِ عبرت بھی نہیں) کو ایک سے دوسرے تک پہنچانے میں ضائع کرتے ہیں کیوں نہ کسی اچھے واقعے (جو اچھائی کی ترغیب دے رہا ہو) کی تشہیر کریں۔ 

جو زبان برائی کی تشہیر میں مصروف ہے اسے تبلیغ اسلام کیلئے وقف کر دیں تو ہمارا یہ وقت اور ہماری زبان سے ادا ہونے والے الفاظ ایک دوسرے انسان کی اخروی نجات کا باعث ہی نہ بنیں گے بلکہ ہماری ابدی فلاح کا سبب بھی ہوں گے۔ تو آیئے فلاحِ دارین کی راہ پہ گامزن ہوں کہ اس پہ خرچ کچھ بھی نہیں ہوتا اور منافع بے حد و حساب ہے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اپنی زبان سے جو بھی ادا کرتے ہیں وہ ایک ایک لفظ کراما کاتبین محفوظ کر رہے ہیں لہٰذا کچھ بھی بولنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ایک دن ایسا بھی مقرر ہے کہ جب بولا جانے والا ہر لفظ بارگاہِ الٰہی میں پیش ہوگا اور طلبِ شفاعت محمد رسول اللہﷺ کی ہوگی لہٰذا ہمیں کچھ بھی کہنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ کیا یہ الفاظ اس قابل ہیں کہ نامہ اعمال کی شکل میں اس بارگاہ میں پیش ہو سکیں!

امیر عبدالقدیر اعوان سربراہ تنظیم 

الاخوان پاکستان اورشیخ سلسلسہ

 نقشبندیہ اویسیہ ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

لالچ کا انجام

نعیم نہایت محنتی، دیانت دار اور غریب کسان تھا۔ اس کا کل اثاثہ اس کی نیک سیرت بیوی رابعہ اور فرمانبردار بیٹا شاداب تھا۔ نعیم کی آمدنی اتنی قلیل تھی کہ اکثر گھر میں فاقوں کی نوبت آ جاتی۔ نعیم مزدوری کی تلاش میں شہر گیا ہوا تھا، گھر میں آٹے کا ایک ذرہ تک نہ تھا۔ رابعہ نے چولہے پر خالی ہانڈی میں پانی چڑھا دیا تاکہ بھوکا شاداب یہ سمجھے کہ کھانا پک رہا ہے۔

نفرت

اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے۔ انسان کی طرح حیوانات کے بھی جوڑے پیدا کئے۔زندگی کے ساتھ موت، زمین کے ساتھ آسمان، محبت کے ساتھ نفرت کے جذبات بھی انسان میں رکھے۔

خاندانِ مغلیہ کا حقیقی بانی جلال الدین محمد اکبر

شہنشاہ بابر نے ہندوستان کو بزور شمشیر فتح کر کے سلطنت مغلیہ کی بنیاد ڈالی۔ لیکن حقیقی معنوں میں خاندان مغلیہ کی بنیادیں شہنشاہِ اکبر نے استوار کیں۔ اکبر کے والد ہمایوں جب افغانوں کی یورش سے گھبرا کر ایران جا رہے تھے تو 1542ء میں سندھ کے ایک مقام عمر کوٹ میں اکبر پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی جلا وطنی کے بعد ہمایوں دوبارہ تخت دہلی پر قابض ہوئے مگر زندگی نے وفا نہ کی اور جلد ہی سیڑھیوں سے گر کر فوت ہو گئے۔

ذرا مسکرائیے

باپ (بیٹے سے): بتاؤ کن کن ملکوں میں زیادہ سونا پایا جاتا ہے؟ بیٹے نے کہا: جن ملکوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہوتے ہیں۔ ٭٭٭

پہیلیاں

بیٹی جا پہنچے بازار بابا گھر کا چوکیدر (چابی اورتالا)

بچوں کا انسائیکلوپیڈیا

کچھ لوگ گھر میں داخل ہوتے ہوئے جوتے کیوں اتار دیتے ہیں؟ بہت سے بچے یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں رہنے والے بچوں کی عادتیں بھی ان جیسی ہوتی ہیں۔لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے دوسرے ممالک کی تہذیب اور معاشرتی اقدار مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً جاپان اور کوریا میں لوگ گھر میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتار دیتے ہیں۔اس طرح گھر کا فرش یا قالین گندے ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔اس کے برعکس یورپ اور دوسرے بہت سے ممالک میں لوگ گھر کے اندر بھی جوتے پہنتے ہیں۔