ڈاکٹر عرش صدیقی ’’محبت لفظ تھا میرا‘‘
اردو کے بے مثال شاعر کی24 ویں برسی:انہوں نے ذات کی حدود کو پار کرکے کائنات کی کروٹوں کا احاطہ کیا
سوانحی خاکہ
ارشاد الرحمن عرش صدیقی 21جنوری 1927ء کو گورداسپور(مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دھرم سالہ، گورداسپور، جوگندر نگر (کانگڑہ) اور لدھیانہ میں حاصل کی۔1955ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کا امتحان پاس کیا۔ دسمبر1955ء سے اکتوبر1975ء تک محکمہ تعلیم پنجاب میں انگریزی کے استاد رہے۔ اکتوبر1975ء سے 1978ء تک بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں شعبہ انگریزی کے پہلے چیئرمین اور بعد میں 1990ء تک رجسٹرار رہے۔1991ء میں انہوں نے ورلڈ یونیورسٹی ایریزونا امریکہ سے ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ انہیں اکادمی ادبیات کی تاحیات فیلو شپ سے بھی نوازا گیا۔9اپریل 1997ء کو ملتان میں انتقال ہوا۔
یہ کہنا قطعاً مشکل نہیں کہ ڈاکٹر عرش صدیقی ایک سچے شاعر تھے اور ان کے ہاں نہ صرف خلوص کی فراوانی تھی بلکہ وہ اپنے تاثرات کے اظہار و ابلاغ پر قدرت بھی رکھتے تھے۔ وہ کسی خول میں مقید نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے ایک شدید انسان دوستی کے دبائو کے تحت ذات کی حدود کو پار کرکے کائنات کی کروٹوں کا احاطہ کیا۔ بقول ڈاکٹر وزیر آ غا، اُن کے ہاں جذبے اور فکر،داخلیت اور خارجیت کا امتزاج ابھرا ہے اور ان کا کلام ابہام کی دم روکنے والی بوجھل فضا سے ملوث نہیں ہوا تاہم یہ تمام بلند بانگ باتیں عرش کی شاعری کے اصل مزاج کو سامنے نہیں لاتیں۔ اس کے لئے سطح سے نیچے جا کر شاعر کی اس نفسی کیفیت کا جائزہ لینا ضروری ہے جو ان کی شعری توانائی کا اصل باعث ہے۔
ڈاکٹر عرش صدیقی کی نظم نگاری پر بات کی جائے تو اس امر کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ وہ نظم کے اہم ترین شاعر ہیں۔ اہم ان معنوں میں جیسے ن م راشد، میرا جی اور مجید امجد ہیں۔ ان کی تخلیقی جہتوں میں شاید نظم سب سے زیادہ قابل توجہ ہے۔ ان کی نظمیت سے بھرپور شاعری غنائیت اور فنی مہارت کی عمدہ مثال بھی ہے۔ عرش صدیقی نے اپنی نظم میں ان آفاقی سچائیوں کو موضوع بنایا ہے جو روح عصر کی طرح زندہ رہتی ہیں۔ان نظموں کے تخلیقی بالغ پن کی ایک وجہ شایدان کا اپنا بالغ تنقیدی مزاج ہے، انہوں نے اپنے ہر فن پارے کی بڑے سخت ناقدانہ نقطہ نظر سے جانچ پڑتال کی ہے۔ عرش صدیقی کی نظموں کی تفہیم کے لئے ان کی تنقیدی مزاج اور اس کے وضع کردہ اصولوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔عرش صدیقی کی نظم کا جائزہ لینے کیلئے ان کے تصورات کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے اور انہی امور کی مدد سے ان کی تخلیقیت کا بھرپور محاکمہ کیا جا سکے گا۔ عرش صدیقی کا تعلق شعرا کی اُس نسل سے ہے جس نے زندگی کو کھلی آنکھ سے دیکھا اور معروضی حقیقتوں کو تسلیم کرنے پر زور دیتی ہے۔ ان کی نظم میں ایک تاثر داستان گوئی کا بھی ابھرتا ہے جس کے مرکزی کردار خود عرش صدیقی ہی ہیں۔ بقول احمد ندیم قاسمی’’ عرش صدیقی نے ’’ محبت لفظ تھا میرا‘‘ کے آغاز میں خود اپنے متعلق اور اپنی شاعری کے بارے میں اتنی سچائی اور دلیری سے گفتگو کی ہے کہ کسی اور کے کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘۔
عرش صدیقی کی نظمیں زندگی کے حقیقی رنگوں کی عکاس ہیں۔ ان کے ہاں تصنع، بناوٹی اور فریبانہ موضوعات کا گزر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کو ہر سطح پر نوازا گیا۔ یہ فطرت کی دین ہے کہ انہیں جو موضوعات ودیعت کیے گئے ہیں۔ ان کے آفاقی انداز نے ان کی شاعری کو اہم، معتبر اور محترم بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر طاہر تونسوی ، عرش صدیقی مرحوم کی نظموں کے متنوع قسم کے موضوعات پر تبصرہ کیا گیا۔ غزل کی بات کی جائے تو ان کی غزل میں زندگی کے حقائق کو ان کی تمام ناآسودگیوں اور ناانصافیوں پر مشتمل اضطراب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ان کی غزل کی تہہ میں موجود فکری اور تجرباتی شعور ایک ایسی قوت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ وہ سیدھا سادھا اعلیٰ انسانی اقدار کے مسخ ہونے کا المیہ بن گیا ہے۔عرش صدیقی کی غزلوں میں آپ بیتی بھی ہے، نظریہ بھی، فلسفہ بھی ہے، تاریخ بھی، سیاست بھی اور علوم بھی۔ قریب قریب یہی صفات ہیں جو ان کی غزلوں کو اردو کی روایتی غزل سے جدا کرتی ہیں اور ان کی ساخت میں وہ عناصر شامل ہو جاتے ہیں جن سے غزل کا روپ سروپ اور اوج سروج زیادہ خوبصورتی کے ساتھ قاری پر واضح ہوتا ہے۔ ان کی غزل سے لطف و حظ اٹھائے کی بجائے فکر انگیزی کشیدکی جا سکتی ہے۔
عرش صدیقی نے اپنے اسلوب اور لب و لہجے میں جدید خیالات کو اس ڈھنگ سے ادا کیا ہے کہ ان کی غزل شعور ذات کا مکمل منظر نامہ بنتی دکھائی دیتی ہے۔ البتہ اس میں ایک درمیانی راستہ ہے جو غزل کے ساتھ ساتھ نظم، دوہا نگاری، افسانہ نگاری اور تنقید کے شہر کی طرف بھی جاتا ہے۔ قدم ادھر اٹھتے ہیں تو ادھر کا خیال آتا ہے وہاں سے پلٹتے ہیں تو دوسری طرف نکل جاتے ہیں۔بلاشبہ عرش صدیقی نے اس نوع کے غزل گو شعرا سے دوری اختیار کئے رکھی ہے جو آلودگی میں دانش جوئی کی تلاش کرتے ہیں اور خود ستائشی میں عظمت کے متلاشی ہوتے ہیں۔ عرش کی غزل میں حقیقت کے انہیں رنگوں کی چند جھلکیاں دیکھنے سے ان کے شعری مقام کا معترف ہونا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر عرش صدیقی ایک شگفتہ اور مرنجاں مرنج قسم کی شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے ملتان جیسے تہذیبی اور ادبی شہر میں شعر و ادب کے فروغ کیلئے بے پایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کا نگڑہ سے حاصل کی۔ ایک طویل عرصہ لاہور میں مقیم رہے۔ اس دوران ان کا متعدد ادیبوں سے دوستی کا گہرا رشتہ ر ہا۔ عارف عبدالمتین کے بقول نازش کاشمیری نے انہیں اس وقت دوستوں سے ملوایا جب وہ لاہور میں چھوٹی چھوٹی ملازمتوں اور دو روپے سے دس روپے ماہانہ ٹیوشنوں کے ذریعے مہاجرت کے اقتصادی زخموں کو مندمل کرنے کی عاجزانہ مگر دیانت دارانہ کوشش کر رہے تھے۔عرش صدیقی نے اپنی عمر کا سنہری دور لاہور میں گزارا۔ یہاں کی دوستیاں اور تعلقات ساری عمران کا اثاثہ رہے۔ ملازمتی امور کے سلسلے میں وہ ملتان چلے آئے ان کی بقیہ تمام عمر اسی شہر میں گزری۔
منتخب کلام
بند آنکھوں سے نہ حسنِ شب کا اندازہ لگا
محملِ دل سے نکل سر کو ہوا تازہ لگا
دیکھ رہ جائے نہ تو خواہش کے گنبد میں اسیر
گھر بناتا ہے تو سب سے پہلے دروازہ لگا
ہاں سمندر میں اُتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ
ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا
ہر طرف سے آئے گا تیری صداؤں کا جواب
چپ کے چنگل سے نکل اور ایک آوازہ لگا
سر اُٹھا کر چلنے کی اب یاد بھی باقی نہیں
میرے جھکنے سے میری ذلت کا اندازہ لگا
لفظ معنی سے گریزاں ہیں تو ان میں رنگ بھر
چہرہ ہے بے نور تو اس پر کوئی غازہ لگا
آج پھر وہ آتے آتے رہ گیا اور آج پھر
سر بسر بکھرا ہوا ہستی کا شیرازہ لگا
رحم کھا کر عرشؔ اس نے اس طرف دیکھا مگر
یہ بھی دل دے بیٹھنے کا مجھ کو خمیازہ لگا
………
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا
اے سنگ دل تجھے بھی خبر ہے کہ کیا ہوا
دریوزہ گر سمجھ کے تو تھی ملتفت حیات
وہ یوں کہو کہ دامن دل ہی نہ وا ہوا
ڈوبا کچھ اس طرح سے مرا آفتاب دل
سب کچھ ہوا یہ پھر نہ سحر آشنا ہوا
یوں اس کے در پہ بیٹھے ہیں جیسے یہیں کے ہوں
ہائے یہ درد عشق جو زنجیر پا ہوا
چھینی ہے عشق نے تب و تابِ دماغ و دل
میں کیسے شاہ زور سے زور آزما ہوا
گھر سے چلو تو باندھ کے سر سے کفن چلو
شہر ِوفا سے دشت ِفنا ہے ملا ہوا
دل دے کے خوش ہوں میں کہ حفاظت کا غم گیا
تجھ سے قریب ہے وہ جو مجھ سے جدا ہوا
لب سے لگا تو بھول گئے ہم غمِ حیات
ساغر میں کوئی تجھ سا حسیں ہے چھپا ہوا
پی ہم نے خوب عرشؔ کشید نگاہ و دل
کس میکدے کا در تھا جو ہم پر نہ وا ہوا
………
منتخب اشعار
اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتی
اس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی
………
ملتا نہیں بازار سے پیراہن یوسف
یعقوب ہوں تاریکی کنعاں میں پڑا ہوں
………
ہم نے لفظوں سے نہیں بہنے دیا سیلِ الم
کون رکھ سکتا ہے یوں دل میں سمندر باندھ کر
………
ہاں سمندر میں اتر لیکن ابھرنے کی بھی سوچ
ڈوبنے سے پہلے گہرائی کا اندازہ لگا
………
بس یونہی تنہا رہوں گا اس سفر میں عمر بھر
جس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جاتا ہوں
………
جیتے ہیں سب تو کھل گئے اوصاف جہاں پر
مر جاتے تو اچھا تھا کہ رسوا تو نہ ہوتے
………
وہ عیادت کو تو آیا تھا مگر جاتے ہوئے
اپنی تصویریں بھی کمرے سے اٹھا کر لے گیا
………
اسے کہنا
اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے
دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا
اسے کہنا دسمبر لوٹ آئے گا
مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جائے گا
اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کے کہرے دیواروں میں لرزاں ہیں
اسے کہنا شگوفے ٹہنیوں میں سو رہے ہیں
اور ان پر برف کی چادر بچھی ہے
اسے کہنا اگر سورج نہ نکلے گا
تو کیسے برف پگھلے گی‘ اسے کہنا کہ لوٹ آئے
……………