ڈریگون فلائی

تحریر : ملک محمد احسن ( راولپنڈی )


ڈریگون فلائی کو بچے ہیلی کاپٹر بھی کہتے ہیں، کیوں کہ یہ بالکل ہیلی کاپٹر کی طرح آگے پیچھے اُڑ سکتی اور فضا میں کھڑی ہوسکتی ہے۔

 یہ کیڑا زیادہ تر گرم علاقوں میں ملتا ہے اور برسات کے دنوں میں بہت زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ 

ڈریگون فلائی آبی پودوں اور پانی کے نزدیک درختوں پر رہتی ہے۔ ڈریگون فلائی مچھر، مکھیاں، پتنگے کھاتی ہے اور یوں یہ ماحول کو صاف رکھتی ہے۔ یہ فضامیں اُڑتے ہوئے کیڑوں کو بڑی مہارت سے شکار کرتی ہے اور پرواز میں اس کا مقابلہ کوئی جانور نہیں کرسکتا۔ 

ڈریگون فلائی کا تعلق کیڑوں کے ایک بڑے خاندان اوڈوناٹا ( Odonata) سے ہے۔ اس جیسا ایک اور کیڑا ڈیمسل فلائی (Damsel Fly) بھی اس خاندان میں شامل ہے۔ اب تک ڈریگون فلائی کی 3000 سے زیادہ اقسام دریافت کی جاچکی ہیں۔ 

ڈریگون فلائی سوائے انٹارکٹکا کے دُنیا میں ہر جگہ پائی جاتی ہے۔ اس کی زیادہ تر اقسام گرم اور مرطوب علاقوں میں ملتی ہیں۔ 18ڈگری سینٹی گریڈ سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک کے درجہ حرارت میں یہ خوب نشوؤنما پاتی ہے۔ پانی کے کنارے، درختوں کے جُھنڈ اور جھاڑیاں اس کا ٹھکانہ ہیں۔ اس کی چند اقسام 3700 میٹر کی بلندی پر بھی پائی جاتی ہیں۔ 

ڈریگون فلائی 1 سے 4انچ تک لمبی ہوتی ہے۔ اس کے جسم پر چار بڑے پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ ہر کیڑے کی طرح اس کے جسم کے بھی تین حصے سر، سینہ اور پیٹ ہیں۔ اس کا سر بڑا ہوتا ہے اور اس پر دو چھوٹے چھوٹے انٹینا ہوتے ہیں۔  

ڈریگون فلائی کی آنکھیں، مرکب آنکھیں ہیں، یعنی ایک آنکھ کئی چھوٹی چھوٹی آنکھوں کا مجموعہ ہے۔ ان دو آنکھوں کے علاوہ اس کے سر پر تین مزید سادہ آنکھیں بھی ہیں۔اس کے چھوٹے سے منہ میں دانت موجود ہیں، جن کی مدد سے یہ اپنی خوراک کو کاٹتی ہے۔ منہ کے شروع میں ایک چھوٹی سی سونڈ کی مدد سے یہ اپنا شکار پکڑتی ہے۔ 

ڈریگون فلائی کی چھ ٹانگیں ہوتی ہیں۔ ان ٹانگوں کی مدد سے یہ بہت کم چلتی ہے۔ یہ  شکار پکڑنے کے کام آتی ہیں، اور ان کی مدد سے یہ درختوں اور پودوں پر بآسانی چڑھ جاتی ہے۔ اس کی ہر ٹانگ میں دو جوڑ اور چھوٹی چھوٹی انگلیوں والے پائوں ہوتے ہیں۔ اپنے اگلے پائوں کی مدد سے یہ اپنی آنکھیں صاف کرتی ہے۔ 

ڈریگون فلائی اپنے مضبوط پروں کی مدد سے دیر تک اُڑ سکتی ہے۔ یہ اُوپر، نیچے، دائیں، بائیں ، ہر سمت میں پرواز کرسکتی ہے اور اچانک اپنی سمت بھی تبدیل کرلیتی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سیالکوٹ:صوبہ پنجاب کا تاریخی شہر

سیالکوٹ، صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ 9 لاکھ سے زائد کی آبادی والا یہ شہر لاہور سے 131کلومیٹر دور ہے جبکہ مقبوضہ جموں سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

خوشامد کا جال (ماخذ اردو کلاسک)

بوڑھے کسان نے بڑی تگ و دو کے بعد اپنے لیے پنیر کا ٹکڑا حاصل کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ باہر پرندوں کی ٹولی منڈلا رہی ہے، اس لیے اس نے ہاتھ میں مضبوط شاخ تھام لی تاکہ اس کی حفاظت کر سکے۔

خدایا ! ملے علم کی روشنی

خدایا ! ملے علم کی روشنی

بوعلی سینا کے اقوال

بو علی سینا980ء میں پیدا ہوئے اور 1037ء میں وفات پائی۔ وہ اسلام کے سنہری دور کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

ذرا مسکرایئے

بیٹا (باپ سے) :ابو آپ تو مجھ سے بالکل محبت نہیں کرتے جبکہ یہ پڑوس والے انکل اپنے بیٹے کو چاند اور تارا کہہ کر پکارتے ہیں۔

پہیلیاں

کوئی نہ چھین سکے اک شے،جس کی ہے بس اُس کی ہے