خوشامد کا جال (ماخذ اردو کلاسک)

تحریر : دانیال حسن چغتائی


بوڑھے کسان نے بڑی تگ و دو کے بعد اپنے لیے پنیر کا ٹکڑا حاصل کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ باہر پرندوں کی ٹولی منڈلا رہی ہے، اس لیے اس نے ہاتھ میں مضبوط شاخ تھام لی تاکہ اس کی حفاظت کر سکے۔

 ابھی وہ دسترخوان سجا ہی رہا تھا کہ کوا روشن دان کے رستے بجلی کی سی تیزی سے اندر داخل ہوا اور پلک جھپکنے میں پنیر کا ٹکڑا دبا کر اڑ گیا۔ کسان شاخ ہلاتا رہ گیا اور کوا جنگل کے گھنے برگد کی بلند شاخ پر جا بیٹھا ،جہاں اسے کسی کا خوف نہیں تھا۔

اسی درخت کے نیچے بھوکی لومڑی دبک کر بیٹھی تھی۔ جب اس نے کوے کی چونچ میں پنیر دیکھا تو اس کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے۔ وہ جانتی تھی کہ کوا بلندی پر ہے اور طاقت سے اسے ہرانا ناممکن ہے، چنانچہ اس نے اپنی زبان کو مکر و فریب کے ہتھیار میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔

لومڑی نے اپنی گردن لچکائی اور عقیدت بھرے لہجے میں پکارا: شہزادے! آج اس جنگل کی ہواؤں میں کیسی خوشبو بسی ہے؟ میں نے آج تک بہت سے پرندے دیکھے مگر تمہارے پروں کی یہ چمک اور یہ شاہانہ وقار تو عقاب میں بھی نہیں۔ یہ لمبی اور نوکیلی چونچ تو قدرت کا شاہکار ہے۔ 

کوا، جو عام طور پر اپنی کرخت آواز اور بدصورتی کی وجہ سے دھتکارا جاتا تھا، ایسی والہانہ تعریف سن کر حواس کھو بیٹھا۔ لومڑی نے جب دیکھا کہ کوا غرور سے اپنے پر پھیلا رہا ہے، تو اس نے آخری وار کیا۔

وہ بولی : لوگ کہتے ہیں کہ آپ کی آواز میں تلخی ہے مگر میں جانتی ہوں کہ آپ کا گانا اور آپ کا سُر تال تو جنگل کے تمام پرندوں کی نیندیں اڑا دینے کیلئے کافی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر آج آپ اپنی اس سحر انگیز آواز میں ایک نغمہ سنا دیں۔

کوا اپنی اوقات بھول گیا۔ اس نے یہ ثابت کرنے کیلئے کہ وہ واقعی عظیم گلو کار ہے، جیسے ہی کائیں کائیں کیلئے اپنی چونچ کھولی، وہ پنیر کا ٹکڑا گرتے ہوئے ستارے کی مانند نیچے آ گرا۔

 لومڑی تو اسی لمحے کی منتظر تھی۔ اس نے جھپٹ کر اسے دبوچا اور جھاڑیوں میں غائب ہوتے ہوئے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ :میاں کوے! تمہاری عقل اس پنیر کے ٹکڑے کے ساتھ ہی زمین پر ڈھیر ہو گئی ہے۔کوا اس اونچی شاخ پر اکیلا رہ گیا اور وہ پچھتا رہا تھا۔ 

خوشامد وہ میٹھا جال ہے جس میں وہی پھنستے ہیں جو اپنی حقیقت سے زیادہ دوسروں کی زبان پر یقین رکھتے ہیں۔ جھوٹی تعریف کرنے والا آپ کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہوتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

سیالکوٹ:صوبہ پنجاب کا تاریخی شہر

سیالکوٹ، صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ 9 لاکھ سے زائد کی آبادی والا یہ شہر لاہور سے 131کلومیٹر دور ہے جبکہ مقبوضہ جموں سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ڈریگون فلائی

ڈریگون فلائی کو بچے ہیلی کاپٹر بھی کہتے ہیں، کیوں کہ یہ بالکل ہیلی کاپٹر کی طرح آگے پیچھے اُڑ سکتی اور فضا میں کھڑی ہوسکتی ہے۔

خدایا ! ملے علم کی روشنی

خدایا ! ملے علم کی روشنی

بوعلی سینا کے اقوال

بو علی سینا980ء میں پیدا ہوئے اور 1037ء میں وفات پائی۔ وہ اسلام کے سنہری دور کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔

ذرا مسکرایئے

بیٹا (باپ سے) :ابو آپ تو مجھ سے بالکل محبت نہیں کرتے جبکہ یہ پڑوس والے انکل اپنے بیٹے کو چاند اور تارا کہہ کر پکارتے ہیں۔

پہیلیاں

کوئی نہ چھین سکے اک شے،جس کی ہے بس اُس کی ہے