بیرونی محاذ پر پذیرائی ، داخلی استحکام کی ضرورت
امریکہ اورایران کے درمیان جنگ بندی کرانے اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے سے عالمی سطح پر پاکستان کی بھر پور پذیرائی ہوئی۔
اس کا مثبت اثرملکی سیاست میں بھی نظر آیا، سیاسی قوتوں کے درمیان برسوں سے جاری تنائو میں کمی دیکھنے میں آئی اور سیاست کی بجائے ریاست کے مفادات کو مقدم رکھنے کی سوچ کو تقویت ملی؛چنانچہ چند مخصوص عناصر سے قطع نظر پاکستان کی سیاسی قیادت نے بڑی حد تک ذمہ داری کا ثبوت دیا اور زیادہ ترزور اس بات پر رہا کہ پاکستان کو ملنے والی عالمی پذیرائی کو اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور خصوصاً معاشی چینلجز سے نمٹنے کیلئے بروئے کار لایا جانا چاہیے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ یہ مؤقف حقیقت پسندانہ بھی ہے اس لئے کہ جب تک ہم معاشی حوالے سے اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہوں گے داخلی مسائل کا حل نہیں نکال پائیں گے ۔ خلیجی جنگ کی صورتحال میں عرب ممالک کیلئے پاکستان خصوصی ترجیح بنا رہا اور سعودی عرب نے اس دوران پاکستان کوتین ارب ڈالرز فراہم کرکے پاکستان کے معاشی بوجھ کو ہلکا کیا ۔دنیا بھر سے دیگر ممالک بھی پاکستان کی اہمیت و حیثیت سے آگاہی کے بعد پاکستان کی جانب جھکائو کرتے نظر آئے۔ اس وقت جو عالمی صورتحال ہے وہ ہمارے حق میں ہے اور ہمیں اسے اپنے داخلی مسائل کے حل کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔ ہمیں داخلی محاذ پر کئی چیلنج درپیش ہیں اور ہم مزید محاذآرائی اور تنائو کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہمیں سیاسی ضد اور انا کو چھوڑ کرپاکستان کے مستقل کا سوچنا ہو گا۔ پاکستان نے ماضی قریب میں عسکری اور سفارتی محاذوں پر بڑی کامیابیاں سمیٹی ہیں لیکن معاشی محاذ پر ترقی کیلئے پاکستان میں سیاسی استحکام ناگزیر ہے، اس کے بغیر حکومتیں تو مل سکتی ہیں ملک نہیں چل سکتا۔خلیجی بحران نے پاکستان کی اہمیت میں مزید اضافہ کیا ہے، اب علاقائی سطح پر بڑے فیصلے پاکستان کی مرضی سے ہوتے نظر آ رہے ہیں،لہٰذا قومی تقاضا ہے کہ اپنی سیاست اور مفادات کی ضد میں پڑنے کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دی جائے اور ایسا طرز عمل اختیار کیا جائے جس سے پاکستان کی تصویر مزید خوبصورتی سے دنیا کے سامنے آئے۔
اطلاعات یہ ہیں کہ خلیجی بحران کے آغاز پر حکومت نے اہلِ سیاست اور مختلف پارٹیز کے ذمہ داران کو اعتماد میں لیا اور اس کا یہ اثر ہوا کہ سیاست پر ریاست کا مفاد غالب نظر آیا اور سیاستدانوں نے کوئی ایسا طرز عمل اختیار نہیں کیا جس سے کہا جا ئے کہ پاکستان کی عزت پر حرف آیا۔ سب اپنے اپنے طور پر حکومت اور ریاست کی پالیسیوں کو سراہتے نظر آئے ۔ تحریک انصاف جو اپنی لیڈر شپ کی ریلیف اور رہائی کیلئے پریشان نظر آ تی ہے، اگر بحیثیت مجموعی اس کے سیاسی کردار کو دیکھا جائے تو اس پارٹی کے ذمہ داران نے بھی اپنے طرز عمل سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اسے جماعت اور لیڈر شپ سے زیادہ قومی مفادات کا پاس ہے۔پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا حوالہ دیا جا سکتا ہے کہ ان پر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی طرف سے دبائو بھی تھا کہ پارٹی لیڈر شپ بانی کی رہائی کیلئے حکومت پر دبائو بڑھائے اور اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر لائے لیکن پارٹی کے عہدیداروں نے یہ دبائو برداشت کیا۔ اب حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام پید اکرنے کیلئے داخلی محاذ پر تنائو کا ازالہ کرے اور سیاسی مسائل کے سیاسی حل پر آمادگی ظاہر کی جائے جو کہ حکومت کے اپنے مفاد میں بھی ہے اور پاکستان کا مفاد بھی اسی میں ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اب معاشی محاذ پر آگے بڑھنے کیلئے امکانات نظر آ رہے ہیں۔ دنیا پاکستان کی طرف متوجہ ہے تو ہمیں اس صورتحال کا فائدہ اٹھانا چاہئے اور یہ تبھی ممکن ہے جب سیاسی تقسیم کا خاتمہ ہو اور ان مسائل پر توجہ دی جائے جو اس وقت ہمارے اصل مسائل اور چیلنجز ہیں، جس کا براہ راست تعلق ریاستی مفادات سے ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکی صحت عامہ کے منصوبوں پر خصوصی توجہ ہے۔ مختلف اوقات میں ان کی جانب سے ہدایات کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ کسی حد تک سرکاری ہسپتالوں میں صحت عامہ کیلئے اقدامات اور جوابدہی کا احساس بھی نظر آتا ہے۔ رواں ہفتہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبہ بھر میں مہلک بیماریوں سے بچائو کیلئے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت کی۔ اس مہم کے ذریعہ عوام کو مہلک بیماریوں سے بچائو اور علاج سے متعلق آگاہی دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے مہلک بیماریوں سے بچاؤ کیلئے ضروری اقدامات کا حکم دیا ہے اوروبائی اور تیزی سے پھیلنے والے امراض سے بچاؤ کیلئے ایس او پیز پرعملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے چیف منسٹر پنجاب ڈیزیز پراونشنل پروگرام کی اصولی منظوری دے دی ہے جس میں ذیابیطس، ٹی بی، ایڈز اورہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے اقدامات شامل ہوں گے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھا کہ مہلک بیماریوں سے بچاؤ کیلئے عوامی شعور و آگاہی پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ مہلک اور وبائی بیماریوں سے بچاؤ کیلئے ابتدائی اعلامات سے آگاہی ضروری ہے اورمریض کو علاج ہی نہیں زندگی کی امید دلانا بھی ضروری ہے۔