بلوچستان، سیاسی استحکام اور امن کی جدوجہد
صدر مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے ارکانِ پارلیمنٹ کی ملاقات نے نہ صرف صوبائی سیاسی ماحول کو گرما دیا بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی پوزیشن کو بھی مستحکم کیا ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات کا احوال بتانے والوں کے مطابق پیپلز پارٹی کیارکانِ پارلیمنٹ کے ایک مخصوص گروپ نے اس ملاقات میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے خلاف شکایات کے انبار لگادئیے۔مگرشکایات زیادہ تر ذاتی نوعیت کی تھیں جنہیں صدر زرداری نے زیادہ اہمیت نہیں دی۔تاہم وزیراعلیٰ کے حامی اراکین نے نہ صرف وزیراعلیٰ کا دفاع کیا بلکہ حکومتی کارکردگی کا مثبت پہلو بھی پیش کیا۔ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بلوچستان میں مخلوط حکومت ہونے کے باعث تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ایک چیلنج ضرور ہے لیکن اس کے باوجود گزشتہ دو سال سے کم عرصے میں صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ملاقات کے دوران صدر زرداری نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ کی غیر موجودگی میں ملاقات کا مقصد ہی یہ تھا کہ تمام ارکان بلا جھجک اپنے تحفظات بیان کر سکیں۔صدر مملکت نے کہا کہ چھوٹے موٹے مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں انہیں افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکتا ہے۔ بظاہر یہ ملاقات سرفراز بگٹی کے لیے اعتماد کے ووٹ کے طور پر سامنے آئی ہے جس سے صوبے میں سیاسی استحکام کے امکانات مزید روشن ہو گئے ہیں۔
بلوچستان کی سرزمین طویل عرصے سے امن و امان کے چیلنجز سے نبرد آزما ہے مگر اسی دھرتی پر ایسے کردار بھی ابھرے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر امن کی آبیاری کی۔ انہی میں لیڈی کانسٹیبل ملک ناز کا نام بھی شامل ہے۔ ان کی شہادت بلوچستان پولیس کی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے جرأت، قربانی اور عزم کے استعارے کے طور پریاد رکھا جائے گا۔اتوار کی شب خضدار کے قریب جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کے دوران لیڈی کانسٹیبل ملک ناز نے جام شہادت نوش کیا اوربلوچستان پولیس کی پہلی خاتون شہید قرار پائیں۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک اور پولیس اہلکار شہید اور متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ لیڈی کانسٹیبل ملک ناز کی زندگی غیر معمولی عزم کی کہانی ہے۔ وہ اپریل 2013ء میں پولیس میں شہید کوٹے پر بھرتی ہوئیں اور اپنی ذمہ داریوں کو ہمیشہ غیر معمولی عزم اور حوصلے سے نبھایا۔ ان کے شوہر لیویز اہلکار عبدالغنی 2011ء میں دہشت گرد حملے میں شہید ہو ئے تھے، یوں ایک ہی خاندان نے دو مختلف ادوار میں ریاست کے لئے جان قربان کی۔ان شہداکے پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہیدملک ناز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔حکومت بلوچستان شہید ملک نازکے بچوں اور اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی مکمل سرپرستی کو اپنا فرض سمجھتی ہے۔
ادھر بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی سربراہی میں اپوزیشن اراکین نے گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی جس میں پارلیمانی امور، آئندہ مالی سال کے بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں سمیت اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایوان کے منتخب نمائندے ہیں اور عوامی مفاد میں پیش کی جانے والی ہر مثبت اور تعمیری تجویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی پارلیمانی روایات اور صوبائی اقدار کا خوبصورت امتزاج ہے جہاں باہمی احترام، برداشت اور اعلیٰ اخلاقی روایات کو ہمیشہ مقدم رکھا گیا۔اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری اور دیگر اراکین نے وزیر اعلیٰ کے مثبت طرز عمل،پارلیمانی روایات کے احترام اور تعمیری مکالمے کو فروغ دینے کے عزم کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ اپوزیشن اراکین نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی اپوزیشن کے آئینی و پارلیمانی کردار کا احترام کرتے ہوئے مثبت تنقید کو کشادہ دلی سے قبول کرتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے محکمہ تعلیم بلوچستان کے زیر اہتمام سکولوں میں داخلہ مہم کے اہداف کی کامیاب تکمیل کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر سطح پر میرٹ کے فروغ سے نوجوانوں کی ریاست سے دوری کا خاتمہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ داخلہ مہم کے اہداف کا حصول حکومت کا دیرینہ خواب تھا۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت کا پہلا ہدف بچوں کو سکولوں تک لانا اور دوسرا انہیں معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔