جلسوں کی سیاست اور گورننس کے چیلنجز
پاکستان تحریک انصاف کے کریڈٹ پر 19اپریل کو ایک اور جلسہ آگیا۔یہ جلسہ بھی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے سلسلے میں کیاگیا۔جلسے کی قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کی۔
اپنے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے کہاگیاکہ بانی پی ٹی آئی نے انہیں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے مشاورت کا کہاہے جس کا وہ خیال رکھیں گے۔ اس اعلان سے یوں لگتا ہے کہ پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مابین معاملات کچھ اچھے نہیں۔ اس سے قبل بھی ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں جن کے مطابق محمودخان اچکزئی نے پی ٹی آئی بالخصوص وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے ان سے مشاورت نہ کرنے کا شکوہ کیا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے رضاکار فورس کے اعلان پر بھی ایسی ہی خبریں سامنے آئی تھیں۔ اس نام پر بھی اعتراض کیاگیا، جسے بعدازاں تبدیل کردیاگیا۔یوں لگ رہاہے کہ پی ٹی آئی میں یا تو سیاسی جوڑ توڑ والے رہنماختم ہوگئے ہیں یا قیادت ناتجربہ کار لوگوں کے ہاتھ آگئی ہے جو وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے سے قاصر ہیں۔علی امین گنڈاپور کی قیادت میں پھر بھی پی ٹی آئی وفاق پر قدرے دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہی تھی ،کامیاب جلسے کئے گئے،اسلام آباد تک مارچ بھی کئے گئے اگرچہ ان کے نتائج اچھے نہیں آئے لیکن وہ کسی حد تک وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے میں کامیاب رہے لیکن اب ان کے جانشین سہیل آفریدی اس خاصیت سے مکمل محروم نظرآتے ہیں۔
ایک طرف نہ تو وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے کوئی خاص کارکردگی دکھا سکے ہیں تو دوسری جانب وہ ایک اچھے انتظامی چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے بھی کوئی خاص تاثرچھوڑنے میں کامیاب نظرنہیں آرہے۔ ان پر تنقید اور دباؤدن بدن بڑھ رہا ہے ۔کارکن ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور تنقید کا سلسلہ دراز ہونے لگا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ان کے پیشرو کی طرح طعن وتشنیع کا سلسلہ نظرآرہا ہے۔ مردان جلسہ سہیل آفریدی کی جانب سے اعلان کردہ جلسوں کی ہی کڑی تھا جو خاص تاثرچھوڑنے میں ناکام رہا۔ گزشتہ سے پیوستہ ہفتے مردان میں جمعیت علمائے اسلام کے زیراہتمام جلسہ کیاگیا جو اس سے بڑا تھا۔پی ٹی آئی کی جانب سے امید کی جارہی تھی کہ جلسے میں لاکھوں لوگ آئیں گے لیکن ایسا نہیں ہوسکا ۔ چند ہزار لوگوں نے شرکت کی ،اگرچہ یہ بہت بڑی تعداد نہیں تھی لیکن پھر بھی دیگر جماعتوں کی نسبت یہ ایک بڑاجلسہ تھا، لیکن اگر اس کاموازنہ ماضی میں پی ٹی آئی کے پشاور،چارسدہ اور مردان میں کئے گئے جلسوں سے کیاجائے تو یہ ان سے کہیں کم تھا۔جلسے میں ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو فوری مناسب طبی امداد دینے اور سیاسی اسیروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے رواں ماہ کی 25 تاریخ کو آزاد کشمیر میں بھی جلسے کا اعلان کیاگیاہے ۔
ادھرعالمی بساط تیزی سے تبدیل ہورہی ہے، وطن ِعزیز اس وقت کئی محاذوں پر مصروف ہے، وقت بھی تیزی سے بدل رہاہے اور تیزی سے بدلتے حالات کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی تحریک مدھم پڑتی جارہی ہے۔ لوگ دیگرمسائل میں الجھ کر رہ گئے ہیں۔ وفاق اور صوبائی حکومتیں عالمی حالات کے پیش نظر مالی مشکلات میں گھری ہوئی ہیں اور عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کررہی ہیں ۔موجودہ حالات میں پی ٹی آئی کے پاس اسلام آباد کی جانب مارچ کا کوئی آپشن نہیں اور نہ ہی وفاقی حکومت ان حالات میں ایسا کرنے کی اجازت دے گی۔تو کیا پی ٹی آئی احتجاجی سیاست ترک کردے؟گزشتہ عام انتخابات کے دوران یہ ثابت ہوگیاتھا کہ لوگوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دو وجوہات کی بنا پر دیئے، ایک وجہ حکومت میں آکر بانی پی ٹی آئی کی رہائی تھا جس کا وعدہ اراکین اسمبلی نے اپنے ووٹرز سے کیاتھا کہ وہ صوبے میں حکومت قائم کرتے ہی بانی پی ٹی آئی کو رہا کرواکر لے آئیں گے ۔ اس وعدے کی بنا پر انہیں ووٹ پڑے تھے۔ پی ٹی آئی کو ووٹ ملنے کی دوسری وجہ گزشتہ دو حکومتوں کی کارکردگی تھی ۔ اسی بنا پرانہیں تیسری بار منتخب کیاگیاتاہم موجودہ صوبائی حکومت ووٹرز سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا وعدہ پورا کرتی دکھائی دے رہی ہے نہ ہی گورننس کا نظام گزشتہ حکومتوں کی طرح بہتر بناسکی ہے۔صورتحال اگر یہی رہ تو پی ٹی آئی کی سیاسی نقصان ہو گا اورچوتھی بار خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کا خواب شاید خواب ہی رہ جائے ۔وقت تیزی سے بدل رہا ہے اور اس کا ادراک پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو بھی ہے، لیکن فی الوقت وہ سائیڈ لائن ہیں ویسے بھی نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔