صحبتِ صالحین کے اثرات
’’ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ سچے اور نیک لوگوں کے ساتھ رہیں‘‘ (سورۃ التوبہ: 119) حدیث میں نیک ساتھی کو خوشبو بیچنے والے سے تشبیہ دی گئی ہے، جس سے یا تو خوشبو ملتی ہے یا کم از کم اچھی مہک محسوس ہوتی ہے (متفق علیہ) سورۃ الفرقان میں قیامت کے دن ایسے لوگوں کے افسوس کا ذکر ہے جو برے دوستوں کی وجہ سے گمراہ ہوئے
انسان ایک سماجی مخلوق ہے اور اس کی زندگی دوسروں کے ساتھ تعلقات کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔ وہ جس ماحول میں رہتا ہے، وہی اس کے افکار و اعمال کو تشکیل دیتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے صحبت کو بہت اہمیت دی ہے۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں سے اثر قبول کرتا ہے۔ اگر اس کے ساتھی نیک ہوں تو وہ خود بھی نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے، اور اگر وہ برے ہوں تو وہ گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں واضح ہدایت دی گئی ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ سچے اور نیک لوگوں کے ساتھ رہیں (سورۃ التوبہ: 119)۔
یہ آیت صحبت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ صحبت نہ صرف ظاہری اعمال پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ دل کی کیفیت کو بھی بدل دیتی ہے۔ اچھی صحبت دل کو نورانی بناتی ہے جبکہ بری صحبت دل کو تاریک کر دیتی ہے۔ انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن لوگوں نے نیکوں کی صحبت اختیار کی، وہ کامیاب ہوئے اور جنہوں نے برے لوگوں کا ساتھ دیا، وہ نقصان میں رہے۔
صحبت کا اثر فوری بھی ہوتا ہے اور دیرپا بھی۔ بعض اوقات انسان کو خود بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ کس طرح بدل رہا ہے۔ اسی لیے بزرگان دین ہمیشہ اچھی صحبت اختیار کرنے کی تلقین کرتے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اصلاحِ نفس کا ایک اہم ذریعہ یہی ہے۔ اگر انسان اپنی زندگی میں بہتری چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی صحبت کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے دوست کیسے ہیں۔ صحبت کا تعلق صرف دوستی تک محدود نہیں بلکہ استاد، ساتھی اور ماحول سب اس میں شامل ہیں۔ لہٰذا ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی صحبت کو سنوارے تاکہ اس کی زندگی بھی سنور جائے۔
صالحین کی رفاقت کا اثر
نیک لوگوں کی صحبت انسان کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیتی ہے۔ ان کے ساتھ رہنے سے انسان کے اندر نیکی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ صالحین کی مجلس میں بیٹھنے سے دل کو سکون ملتا ہے اور انسان دنیا کی فتنہ انگیزیوں سے محفوظ رہتا ہے۔ حدیث میں نیک ساتھی کو خوشبو بیچنے والے سے تشبیہ دی گئی ہے، جس سے یا تو خوشبو ملتی ہے یا کم از کم اچھی مہک محسوس ہوتی ہے (بخاری: 5534، مسلم: 2628)۔ نیک لوگوں کے ساتھ رہنے سے انسان کو دین کی سمجھ حاصل ہوتی ہے۔ وہ اچھے اور برے میں فرق کرنا سیکھتا ہے۔ ان کی باتیں دل پر اثر کرتی ہیں اور انسان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔ صالحین کا کردار خود ایک عملی نمونہ ہوتا ہے۔ ان کی صحبت انسان کو گناہوں سے دور اور نیکیوں کے قریب لے جاتی ہے۔ نیک لوگوں کے ساتھ تعلق انسان کو آخرت کی فکر میں مبتلا کرتا ہے لہٰذا صالحین کی صحبت اختیار کرنا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے۔
بری صحبت کے نقصانات
بری صحبت انسان کو آہستہ آہستہ گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔ برے دوست انسان کو گناہوں کی طرف راغب کرتے ہیں اور اسے نیکی سے دور کر دیتے ہیں۔ ایسی صحبت انسان کے دل کو سخت کر دیتی ہے اور وہ نصیحت قبول نہیں کرتا۔ قرآن میں قیامت کے دن ایسے لوگوں کے افسوس کا ذکر ہے جو برے دوستوں کی وجہ سے گمراہ ہوئے (سورۃ الفرقان: 27تا29)۔ یہ صحبت انسان کو دین سے دور اور دنیا کی محبت میں مبتلا کر دیتی ہے۔ انسان اپنی شناخت کھو دیتا ہے اور دوسروں کی اندھی تقلید کرنے لگتا ہے،لہٰذا ہر انسان کو چاہیے کہ وہ بری صحبت سے بچنے کی پوری کوشش کرے۔
قرآن کی رہنمائی
قرآن مجید انسان کی مکمل رہنمائی کرتا ہے اور صحبت کے حوالے سے بھی واضح اصول بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے ساتھ رہنے اور بدکاروں سے بچنے کی تلقین کی ہے۔قرآن میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ رہتے ہیں۔اسی طرح ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو گمراہ لوگوں کی پیروی کرتے ہیں۔ قرآن انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ اپنی صحبت کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرے۔ یہ کتاب انسان کو بتاتی ہے کہ کامیابی کا راستہ نیک لوگوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ ہدایت صرف دنیا تک محدود نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی سے بھی متعلق ہے،لہٰذا ہمیں قرآن کی رہنمائی کے مطابق اپنی صحبت کو بہتر بنانا چاہیے۔
صحبت اور ایمان
ایمان ایک قیمتی نعمت ہے اور اس کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ صحبت اس میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نیک لوگوں کے ساتھ رہنے سے ایمان مضبوط ہوتا ہے اور انسان کو دین پر عمل کرنے کی توفیق ملتی ہے۔ ایسی مجالس میں اللہ کا ذکر ہوتا ہے جو ایمان کو تازہ کرتا ہے۔ انسان جب اہلِ ایمان کے ساتھ رہتا ہے تو وہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ صحبت انسان کو نیکی کی طرف مائل کرتی ہے اور برائی سے روکتی ہے۔ ایمان کی کمزوری کا ایک بڑا سبب بری صحبت بھی ہے۔ جب انسان گناہ گاروں کے ساتھ رہتا ہے تو اس کا دل بھی گناہوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ نیک صحبت انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔ یہ انسان کو آخرت کی تیاری پر آمادہ کرتی ہے۔ لہٰذا ایمان کی حفاظت کیلئے اچھی صحبت اختیار کرنا ضروری ہے۔
نیک لوگوں کی پہچان
نیک لوگوں کی پہچان ان کے کردار اور اعمال سے ہوتی ہے۔ وہ شریعت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ان کی گفتگو میں سچائی اور اخلاص ہوتا ہے۔وہ دنیاوی لالچ سے دور رہتے ہیں اور آخرت کو ترجیح دیتے ہیں۔نیک لوگ دوسروں کیلئے آسانی پیدا کرتے ہیں اور کسی کو تکلیف نہیں دیتے۔ان کے چہروں سے نور اور سکون ظاہر ہوتا ہے۔وہ ہمیشہ خیر کی بات کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔نیک لوگوں کی مجلس میں بیٹھنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔وہ اپنے عمل سے دوسروں کو متاثر کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہوتا ہے۔ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا کامیابی کی علامت ہے۔
نوجوانوں کیلئے سبق
نوجوانی زندگی کا اہم ترین دور ہے اور اس میں صحبت کا اثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگر نوجوان اچھے دوست اختیار کریں تو وہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔ بری صحبت نوجوانوں کو غلط راستے پر ڈال دیتی ہے۔ نوجوان آسانی سے دوسروں سے متاثر ہو جاتے ہیں، اس لیے انہیں محتاط رہنا چاہیے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں۔ نیک دوست نوجوان کو دین کی طرف مائل کرتے ہیں۔ بری صحبت انہیں گناہوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صحبت کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں۔ یہی انتخاب ان کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
صحبت اور اخلاق
اخلاق انسان کی پہچان ہیں اور ان کی بہتری میں صحبت کا بڑا کردار ہے۔ اچھی صحبت انسان کو اچھے اخلاق سکھاتی ہے۔ نیک لوگوں کے ساتھ رہنے سے صبر، شکر اور عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ بری صحبت انسان کے اخلاق کو خراب کر دیتی ہے۔ وہ بدزبانی، جھوٹ اور دیگر برائیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اچھی صحبت انسان کو دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ یہ انسان کو نرم دل اور رحم دل بناتی ہے۔ اخلاقی تربیت کیلئے اچھی صحبت بہت ضروری ہے۔ یہ انسان کو ایک بہتر انسان بناتی ہے لہٰذا اخلاق کی بہتری کیلئے صحبت کا خیال رکھنا چاہیے۔
آخرت میں صحبت کا اثر
دنیا کی صحبت کا اثر آخرت میں بھی ظاہر ہو گا۔ انسان قیامت کے دن اپنے دوستوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ حدیث میں ہے:(صحیح بخاری: 6170)۔ نیک لوگوں کی صحبت آخرت میں کامیابی کا سبب بنے گی۔ بری صحبت انسان کو نقصان پہنچائے گی۔ قیامت کے دن برے دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ نیک لوگ ایک دوسرے کیلئے باعث نجات ہوں گے۔ یہ دنیا کی صحبت کا ہی نتیجہ ہوگا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ آخرت کو مدنظر رکھ کر دوستوں کا انتخاب کرے۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
خلاصہ اور نصیحت
انسان کی زندگی میں صحبت کا اثر بہت گہرا ہوتا ہے۔ اچھی صحبت انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ بری صحبت اسے تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ قرآن و حدیث دونوں میں اس کی تاکید کی گئی ہے۔ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی صحبت کا جائزہ لے۔ اگر اس کی صحبت اچھی نہیں تو اسے بدلنے کی کوشش کرے۔ نیک لوگوں کے ساتھ تعلق قائم کرے۔ یہ دنیا و آخرت دونوں میں فائدہ مند ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو بھی اچھی صحبت کی تلقین کریں۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صحبت صالح انسان کو واقعی صالح بنا دیتی ہے۔