پہیلیاں
کوئی نہ چھین سکے اک شے،جس کی ہے بس اُس کی ہے
(قسمت،علم)
بکھرے بال کمر میں پیٹی
ہو گی کسی کونے میں لیٹی
(جھاڑو)
سب نے دیکھا ہے ان کو
ایک نہیں بلکہ ہیں دو
آگے پیچھے آتے ہیں
آپس میں مل جاتے ہیں
(دروازے کے پٹ)
ایک جگہ پر چکر کھائے
وہ نہ آگے پیچھے جائے
اس کا چلنا سب کو بھائے
جیسی چاہو چال دکھائے
(بجلی کا پنکھا)
چلتی جائے ایک کہانی
سو برسوں تک ہو نہ پرانی
(صدی)