"RKC" (space) message & send to 7575

دشمن کی تلاش جاری رہے گی

آپ کو کیا لگتا ہے کہ امریکہ‘ ایران اور اسرائیل کے درمیان اگر اب معاملات ٹھیک ہو جاتے ہیں تو اس کے بعد ان تینوں کو دشمنوں کی ضرورت نہیں رہے گی‘ اور سب لوک کہانیوں کے شہزادوں اور شہزادیوں کی طرح ہنسی خوشی رہنے لگیں گے؟ پہلے تو یہ انہونی ہونی نہیں ہے‘ اور اگر امریکہ‘ اسرائیل اور ایران شیر و شکر ہو گئے تو بھی بہت جلد ان تینوں ملکوں کو نئے دشمنوں کی ضرورت پڑے گی یا پھر یہ پرانی دشمنیاں بحال کر لیں گے۔ جتنا میرا تھوڑا بہت انسانی تاریخ اور نفسیات کا مطالعہ ہے اس سے مجھے تو یہی سمجھ آتی ہے کہ ہر ریاست کو اپنا وجود قائم رکھنے کیلئے ایک مضبوط دشمن کی ضرورت ہوتی ہے۔ بغیر کسی دشمن کے آپ کا ملک یا معاشرہ زیادہ دیر تک متحد نہیں رہ سکتا‘ لہٰذا اگر آپ امن کے ساتھ بھی رہنا چاہتے ہیں تو بھی آپ کو کسی نہ کسی شکل میں ایک خطرناک دشمن درکار ہوتا ہے۔ان ایشوز پر ماضی میں بہت کام کیا گیا ہے اور ہر ذہین مورخ اور سوشل سائنٹسٹ نے اس مسئلے کی گہرائی میں جا کر یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کسی ریاست‘ قبیلے حتیٰ کہ ایک برادری کیلئے بھی ایک عدد دشمن کیوں ضروری ہوتا ہے۔ ابنِ خلدون‘ نکولو میکاولی اور آرنلڈ ٹوئن بی نے ان موضوعات پر لکھا ہے اور اپنے اپنے انداز میں اس کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ ابنِ خلدون کی شہرہ آفاق کتاب ''مقدمہ‘‘ پڑھیں‘ جس میں وہ بڑی تفصیل سے بتاتا ہے کہ عصبیت کسی بھی قوم‘ قبیلے یا ریاست کیلئے نہایت اہم ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک کوئی قوم اسی وقت تک متحد رہ سکتی ہے جب تک اس کے اندر عصبیت موجود ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قوم اور قبیلہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑت محسوس کرتے ہیں اور کسی بھی بیرونی حملے یا خطرے کی صورت میں اکٹھے ہو کر اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اس عصبیت کو آپ کسی بھی معاشرے یا ریاست کے مختلف پہلوؤں پر لاگو کر سکتے ہیں۔
جب بات خطرے کی ہوتی ہے تو پھر آپ کو مورخ آرنلڈ ٹوئن بی کی تھیوری یاد آتی ہے کہ کسی بھی ریاست کو ترقی کرنے اور متحد رہنے کیلئے ''چیلنج اینڈ رسپانس‘‘ درکار ہوتا ہے۔ اگر کسی ریاست کو کوئی بیرونی چیلنج درپیش نہ ہو تو وہاں کے حکمران اور عوام دھیرے دھیرے سست ہو جاتے ہیں اور عیش و عشرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ریاست اور اس کا اتحاد کمزور پڑتا جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک حکمران خاندان‘ جو کسی ریاست پر حکومت کر رہا ہوتا ہے‘ وہ 120سال کے اندر ختم ہو جاتا یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اس ریاست یا اس کے عوام کے سامنے کوئی تھریٹ یا چیلنج ہو تو وہ اس خطرے سے نمٹنے کیلئے تیاری میں جُت جاتے ہیں تاکہ وہ دشمن کے ہاتھوں شکست نہ کھائیں۔ یہ ان کا اس چیلنج کے مقابلے میں ردِعمل ہوتا ہے جو ان کی بقا کیلئے ضروری ہے۔ جب آپ کسی چیلنج کا مقابلہ کرنے نکلتے ہیں تو اپنے باہمی‘ قبائلی‘ لسانی یا علاقائی اختلافات سب کچھ بھول جاتے ہیں کیونکہ آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ بیرونی خطرہ اتنا بڑا ہے کہ وہ سب کو نگل سکتا ہے۔ لہٰذا اس وقت باہمی لڑائیوں یا اختلافات کو ہوا دینا ہم سب کیلئے نقصان دہ ہوگا۔ اپنے باہمی مسائل ہم بعد میں حل کر لیں گے‘ پہلے ہم بیرونی خطرے سے نمٹ لیں۔ یوں جب وہ چیلنج کا سامنا کرتے ہیں تو جہاں عوام متحد رہتے ہیں‘ وہیں حکمران بھی نسبتاً آسانی سے حکومت کرتے اور وہ معاشرے نئی ٹیکنالوجی اور تخلیق کے ذریعے ترقی بھی کرتے ہیں۔ اگر وہ بیرونی دشمن کے مقابلے کیلئے مناسب تیاری نہ کریں‘ جس کیلئے تخلیق اور جدت درکار ہے تو پھر وہ ملک‘ قوم یا ریاست بیرونی طاقت کے نیچے کچلی جا سکتی ہے۔ یوں اس پورے عمل میں معاشرہ بتدریج ترقی کرتا جاتا ہے۔
لیکن اگر اس طرح کی تھریٹس یا جنگیں طویل ہو جائیں تو معاشرے اور ملک ڈوب بھی جاتے ہیں۔ معاشرہ ہر وقت حالتِ جنگ میں رہ کر تھکن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے اور آخرکار بکھرنے لگتا ہے۔ میکاولی نے بھی لکھا ہے کہ حکمران کا کام ہے کہ وہ اپنی رعایا کی توجہ مسلسل جنگ اور بیرونی خطرات پر مرکوز رکھے۔ جنگ کا خطرہ دکھا کر حکمران زیادہ سختی سے حکومت کر سکتا ہے۔ اس جنگی جواز کے تحت لوگوں پر مرضی کی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں‘ ان کی آزادیاں سلب کی جا سکتی ہیں اور ملک کے عوام بھی ایک دوسرے سے نہیں لڑتے‘ لہٰذا میکاولی کے نزدیک جنگ کا مسلسل خوف بھی حکمران کیلئے کارآمد ہوتا ہے۔ ایک جرمن سوشل سائنٹسٹ نے اس موضوع پر اپنی تھیوری پیش کی ہے کہ ایک سیاسی کمیونٹی اسی وقت زندہ رہ سکتی ہے جب وہ اپنے اصل دشمن کو پہچان سکے۔ بغیر کسی حقیقی دشمن کے ریاست اپنا مقصد کھو دیتی ہے اور لوگ اتحاد و اتفاق بھول جاتے ہیں۔ اس دوران دشمن اور دوست کی تمیز بھی ضروری ہے۔ ان مفکرین نے بڑی تفصیل سے ان تھریٹس یا بیرونی خطرات کا ذکر کیا ہے جو ماضی کی ریاستوں کو متحد رکھنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ اگر ہم یہیں رک کر ان تھیوریز کی روشنی میں جدید ریاستوں کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہزاروں سال پہلے بھی روم کی ریاست نے اپنی رعایا کو اس دور کے وحشی قبائل (Barbarians) سے ڈرا کر متحد رکھا ہوا تھا کہ اگر آپ متحد نہ رہے تو وہ آپ کو تہس نہس کر دیں گے اور ان کے خلاف کئی خوفناک جنگیں بھی لڑی گئیں۔ یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ انسانی تاریخ میں ایسی ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں بیرونی دشمن کو بنیاد بنا کر ریاستوں اور عوام کو متحد رکھا گیا۔ ایک جگہ اسے The Art of War کا نام بھی دیا گیا ہے کہ آپ نے اس حکمتِ عملی کے ذریعے خود کو متحد رکھنا ہے۔
اب ان تاریخی تھیوریز اور قدیم تجربات کو سامنے رکھیں تو آپ کو سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہے کہ یہ سارا چکر کیا ہے۔ یہ طے ہے کہ اسرائیل کو بھی اپنی بقا کیلئے دشمنوں کی ضرورت ہے اور ایران کو بھی انقلاب کے بعد اس کی ضرورت تھی۔ اگر ایرانی انقلاب کے بعد ایران کے دشمن نہ ہوتے تو شاید بہت پہلے وہاں داخلی مسائل شدت اختیار کر لیتے جو بعد میں عوامی مظاہروں کی صورت میں وہاں سامنے بھی آئے۔ اسی طرح عرب ریاستوں کو بھی ایران جیسے دشمن کی ضرورت تھی تاکہ وہ اپنے عوام کو ایرانی خطرے سے ڈرا کر متحد رکھ سکیں‘ چاہے عرب و عجم کی پرانی کشمکش ہی کیوں نہ ہو۔ ایران کو زیادہ دشمنوں کی ضرورت تھی لہٰذا خلیجی ممالک سے لے کر امریکہ تک دشمن بنے یا بنائے گئے۔ ایران کا انقلاب اسی صورت میں محفوظ رہ سکتا تھا کہ عوام کو ایک بڑے دشمن کے خوف میں رکھا جائے۔ روس میں انقلاب آیا تو بالشویک اور کمیونزم کو بھی دشمن کی ضرورت محسوس ہوئی اور یوں دنیا نے سرد جنگ کا طویل اور خوفناک دور دیکھا‘ جس میں کمیونزم اور کیپٹلزم کے درمیان کشمکش جاری رہی۔
اگر آپ نظر دوڑائیں تو آپ کو ہر ملک کسی نہ کسی کا دشمن دکھائی دے گا۔ پاکستان اور بھارت کی دشمنی دونوں ممالک کو کسی نہ کسی سطح پر فائدہ دیتی ہے اور ان کے درمیان مکمل دوستی کا امکان کم نظر آتا ہے۔ کابل پہنچ کر افغان طالبان کو بھی دشمن کی ضرورت پڑی تو انہوں نے پاکستان کو ہی نشانہ بنا لیا حالانکہ پاکستان ہی ان کے اقتدار تک پہنچنے میں مددگار تھا۔ چلیں پاکستان کی بھارت اور افغانستان کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں اس لیے ان کا تنازع کسی حد تک فطری لگتا ہے لیکن کیا امریکہ اور روس کی سرحدیں ملتی ہیں؟ یا چین اور امریکہ کا کوئی مشترکہ بارڈر ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حریف ہیں؟ مغربی اور مشرقی یورپ کی دشمنیاں بھی اسی طرح چلتی رہیں۔لہٰذا میرے خیال میں ایران کو ہرگز سُوٹ نہیں کرتا کہ جن ممالک کو اُس نے انقلاب کے بعد اپنا دشمن بنایا یا امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو دشمن قرار دیا‘ ان کے درمیان مستقل دشمنی ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو ایران کو اندرونی محاذ پر کچھ عرصہ بعد مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر آرنلڈ ٹوئن بی‘ نکولو میکاولی یا ابنِ خلدون کے تاریخی اسباق اور تھیوریز کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان ریاستوں کو دشمنیاں زیادہ سُوٹ کرتی ہیں‘ دوستیاں نہیں جبکہ پاکستان سمیت پوری دنیا دوستی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں