کلامِ غالب کی معنویت
مرزا غالب کی شاعری کو صدی دو صدی بعد کے زمانے سے ہم آہنگ کر کے دیکھنے کی گنجائش یوں بھی پیدا ہو گئی ہے کہ گزشتہ برسوں میں شرح اور تعبیر کے نظریات میں بھی معنی کے اکہرے پن اور قطعیت سے انکار کا رجحان زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔
پھر یہ بھی ہے کہ خود کلام غالب بھی مختلف شارحین اور معتبرین کی شرح و تعبیر کے دائرے میں محدود ہونے سے انکار کرتا نظر آتا ہے۔ ہم اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہر طرح کا زاویۂ نظر غالب کے کلام میں نت نئے معنی کا امکان پیدا کرتا ہے اور کلام غالب کے وسیلے سے ہر طرز احساس اور نئے سے نئے نقطہ نظر کا مناظر ہمارے سامنے معنویت سے لبریز شاعر کو لا کھڑا کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ متعد داشعار میں استعاروں اور علامتوں کے شعر کی اوپری سطح پر نمایاں نظر نہ آنے کے باوجود کافی استعاراتی ہمہ جہتی اور معنوی وفور کاسرچشمہ بن جاتا۔ اس معروضے کی مزید وضاحت کے غرض سے سردست ایک ایسے شعرکو دیکھا جا سکتاہے جس میں نہ تو فنی تدابیر کی بہتات ہے اور نہ بالواسطہ اظہارکار کوئی وسیلہ اختیار کیا گیا ہے۔ غالب کا بہت معروف شعر ہے:
ہر قدم، دوریٔ منزل ہے نمایاں مجھ سے
میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
پہلی نظر میں یہ شعر نہ تو چونکانے والا لگتا ہے اور نہ اس میں کسی غیر معمولی مضمون کا شائبہ تک گزرتا ہے۔ مگر منزل کے لفظ کو اگر مرکز میں رکھ کر اس کے اردگر د الفاظ کے دروبست اور تلازمات کے اہتمام کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جائے تو پتا چلتا ہے کہ منزل کے تلازمے کے طور پر قدم، دوری، رفتار، بھاگنا اور بیاباں ایک دوسرے سے پوری طرح مربوط اور ہم آہنگ ہیں۔ اس ندرتِ خیال کی وضاحت کے باوجود اس شعر کا مضمون گو خاصا مانوس اور کثرت سے برتا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر بنیا دی الفاظ کی استعاراتی معنویت جس طرح معنی کو آگے بڑھانے میں اہم کردارادا کر رہی ہے اس کے سبب پامالی کے بجائے اس مضمون میں انوکھے پن کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ مزید برآں یہ کہ جب ہم ایک اور زاویۂ نظر سے اس شعر میں انسانی تاریخ کے ارتقا کا منظر دیکھتے ہیں اور یہ پتا لگانا چاہتے ہیں کہ آخر بنی نوع انسان کی آخری منزل ہے تو کیا ہے؟ دنیا کو جنت میں تبدیل کرنا، اسے اپنے لیے گوشۂ عافیت یا آرام و آسائش کا مثالی نمونہ بنانا یا تمام نا آسودہ انسانی خواہشات کی تسکین کا سامان بہم پہنچانا؟ یا پھر انسان کی تمام تگ و تاز اور سائنسی ، فکری اور عملی کاوشوں کے ذریعے کائنات کے تمام مخفی اسرار و رموز کو پوری طرح دریافت کر لینا؟ مگر صورت حال یہ ہے کہ بنی نوع انسان کے ارتقائی سفر کا ہر قدم اس سے اس کی منزل کے فاصلے کو بڑھائے جا رہا ہے اور جس رفتار سے انسان کا آگے کی طرف بڑھنا جاری ہے اس کی مثالی منزل کا سراغ اسی رفتارسے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔
انسانی ارتقا کی یہ منطق شروع سے رہی ہے کہ اگر انسان کی خواہشات کی تکمیل دیر سے ہوتی ہے تو نئی آرزوؤں اور تمناؤں کے پیدا ہونے اور اپنے لیے نئی نئی منزلیں متعین کرنے کا سلسلہ بھی دھیمی رفتار سے آگے بڑھتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں آج کا انسان مادی ترقی ، سائنسی دریافت اور جلد سے جلد منزل سے ہم کنار ہونے کی ہوس کے جس نقطۂ عروج پر ہے ایسے عالم میں اس کی اصل منزل اس سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا اس کا ہر قدم آگے بڑھنے کے ساتھ اسے منزل سے قریب نہیں کرتا بلکہ منزل کے آگے بھاگنے کے باعث اسے دوریٔ منزل کی ایک متوقع صورتحال سے دوچار کر رہا ہے۔ زیر بحث شعر میں قدم کے ساتھ دوریٔ منزل اور رفتار کے ساتھ منزل کے آگے بھاگنے یا دور ہوتے جانے سے جس طرح کا پیراڈوکس تخلیق کیا گیا ہے وہ آج کی متضاد جذبات، کیفیات اور حالات میں گزاری جانے والی زندگی سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ اس طریق کار سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ غالب کے اشعار کی جدلیاتی اور بسا اوقات طلسمی فضا دانش ِحاضر کی مختلف الجہات حسیت اور ایک دوسرے سے متخالف رویوں کو زیادہ بہتر انداز میں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غالب کی شاعری بیک وقت مختلف مزاج اور افتادِ طبع رکھنے والے جدید انسان کے لیے اس کی ذہنی اور جذباتی سیما بیت کے اعتبار سے زیادہ بامعنی ہونے کا تاثر قائم کرتی ہے۔