کلامِ غالب کی معنویت

تحریر : ابوالکلام قاسمی


مرزا غالب کی شاعری کو صدی دو صدی بعد کے زمانے سے ہم آہنگ کر کے دیکھنے کی گنجائش یوں بھی پیدا ہو گئی ہے کہ گزشتہ برسوں میں شرح اور تعبیر کے نظریات میں بھی معنی کے اکہرے پن اور قطعیت سے انکار کا رجحان زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔

 پھر یہ بھی ہے کہ خود کلام غالب بھی مختلف شارحین اور معتبرین کی شرح و تعبیر کے دائرے میں محدود ہونے سے انکار کرتا نظر آتا ہے۔ ہم اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہر طرح کا زاویۂ نظر غالب کے کلام میں نت نئے معنی کا امکان پیدا کرتا ہے اور کلام غالب کے وسیلے سے ہر طرز احساس اور نئے سے نئے نقطہ نظر کا مناظر ہمارے سامنے معنویت سے لبریز شاعر کو لا کھڑا کرتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ متعد داشعار میں استعاروں اور علامتوں کے شعر کی اوپری سطح پر نمایاں نظر نہ آنے کے باوجود کافی استعاراتی ہمہ جہتی اور معنوی وفور کاسرچشمہ بن جاتا۔ اس معروضے کی مزید وضاحت کے غرض سے سردست ایک ایسے شعرکو دیکھا جا سکتاہے جس میں نہ تو فنی تدابیر کی بہتات ہے اور نہ بالواسطہ اظہارکار کوئی وسیلہ اختیار کیا گیا ہے۔ غالب کا بہت معروف شعر ہے:

ہر قدم، دوریٔ منزل ہے نمایاں مجھ سے

میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے

پہلی نظر میں یہ شعر نہ تو چونکانے والا لگتا ہے اور نہ اس میں کسی غیر معمولی مضمون کا شائبہ تک گزرتا ہے۔ مگر منزل کے لفظ کو اگر مرکز میں رکھ کر اس کے اردگر د الفاظ کے دروبست اور تلازمات کے اہتمام کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی جائے تو پتا چلتا ہے کہ منزل کے تلازمے کے طور پر قدم، دوری، رفتار، بھاگنا اور بیاباں ایک دوسرے سے پوری طرح مربوط اور ہم آہنگ ہیں۔ اس ندرتِ خیال کی وضاحت کے باوجود اس شعر کا مضمون گو خاصا مانوس اور کثرت سے برتا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر بنیا دی الفاظ کی استعاراتی معنویت جس طرح معنی کو آگے بڑھانے میں اہم کردارادا کر رہی ہے اس کے سبب پامالی کے بجائے اس مضمون میں انوکھے پن کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ مزید برآں یہ کہ جب ہم ایک اور زاویۂ نظر سے اس شعر میں انسانی تاریخ کے ارتقا کا منظر دیکھتے ہیں اور یہ پتا لگانا چاہتے ہیں کہ آخر بنی نوع انسان کی آخری منزل ہے تو کیا ہے؟ دنیا کو جنت میں تبدیل کرنا، اسے اپنے لیے گوشۂ عافیت یا آرام و آسائش کا مثالی نمونہ بنانا یا تمام نا آسودہ انسانی خواہشات کی تسکین کا سامان بہم پہنچانا؟ یا پھر انسان کی تمام تگ و تاز اور سائنسی ، فکری اور عملی کاوشوں کے ذریعے کائنات کے تمام مخفی اسرار و رموز کو پوری طرح دریافت کر لینا؟ مگر صورت حال یہ ہے کہ بنی نوع انسان کے ارتقائی سفر کا ہر قدم اس سے اس کی منزل کے فاصلے کو بڑھائے جا رہا ہے اور جس رفتار سے انسان کا آگے کی طرف بڑھنا جاری ہے اس کی مثالی منزل کا سراغ اسی رفتارسے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ 

 انسانی ارتقا کی یہ منطق شروع سے رہی ہے کہ اگر انسان کی خواہشات کی تکمیل دیر سے ہوتی ہے تو نئی آرزوؤں اور تمناؤں کے پیدا ہونے اور اپنے لیے نئی نئی منزلیں متعین کرنے کا سلسلہ بھی دھیمی رفتار سے آگے بڑھتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں آج کا انسان مادی ترقی ، سائنسی دریافت اور جلد سے جلد منزل سے ہم کنار ہونے کی ہوس کے جس نقطۂ عروج پر ہے ایسے عالم میں اس کی اصل منزل اس سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا اس کا ہر قدم آگے بڑھنے کے ساتھ اسے  منزل سے قریب نہیں کرتا بلکہ منزل کے آگے بھاگنے کے باعث اسے دوریٔ منزل کی ایک متوقع صورتحال سے دوچار کر رہا ہے۔ زیر بحث شعر میں قدم کے ساتھ دوریٔ منزل اور رفتار کے ساتھ منزل کے آگے بھاگنے یا دور ہوتے جانے سے جس طرح کا پیراڈوکس تخلیق کیا گیا ہے وہ آج کی متضاد جذبات، کیفیات اور حالات میں گزاری جانے والی زندگی سے پوری طرح ہم آہنگ ہے۔ اس طریق کار سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ غالب کے اشعار کی جدلیاتی اور بسا اوقات طلسمی فضا  دانش ِحاضر کی مختلف الجہات حسیت اور ایک دوسرے سے متخالف رویوں کو زیادہ بہتر انداز میں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ غالب کی شاعری بیک وقت مختلف مزاج اور افتادِ طبع رکھنے والے جدید انسان کے لیے اس کی ذہنی اور جذباتی سیما بیت کے اعتبار سے زیادہ بامعنی ہونے کا تاثر قائم کرتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

آغا حشر کاشمیری اُردو کے بلند پایہ ڈرامہ نگار

اُردوکے شیکسپیئر کی آ ج91ویں برسی: یوں تو اور بھی اچھے اچھے ڈراماٹسٹ موجود تھے، احسن، بیتاب، طالب، مائل سب کے سب ناٹک کی لنکا کے باون گزے تھے لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے اور سچ تو یہ ہے کہ آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی، بچارے ڈراماٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے

پاکستان سپرلیگ11 :زلمی کاراج، ریکارڈزکی برسات

پی ایس ایل 11 کے لاہور میں کھیلے جانے والے فائنل میں شائقین کو شرکت کی اجازت دے دی گئی:پشاور زلمی کے کوشل مینڈس اس وقت بیٹنگ چارٹ پر راج کر رہے ہیں اور’’گرین کیپ‘‘اپنے نام کر رکھی ہے

فیفا ورلڈ کپ2026:ایران کی شرکت اور عالمی فٹ بال کا نیا نقشہ

فٹ بال کا میگا ایونٹ11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا:امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے ورلڈکپ بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی تاہم اب ایران کی شرکت کے حوالے سے بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں

سیالکوٹ:صوبہ پنجاب کا تاریخی شہر

سیالکوٹ، صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ 9 لاکھ سے زائد کی آبادی والا یہ شہر لاہور سے 131کلومیٹر دور ہے جبکہ مقبوضہ جموں سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

خوشامد کا جال (ماخذ اردو کلاسک)

بوڑھے کسان نے بڑی تگ و دو کے بعد اپنے لیے پنیر کا ٹکڑا حاصل کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ باہر پرندوں کی ٹولی منڈلا رہی ہے، اس لیے اس نے ہاتھ میں مضبوط شاخ تھام لی تاکہ اس کی حفاظت کر سکے۔

ڈریگون فلائی

ڈریگون فلائی کو بچے ہیلی کاپٹر بھی کہتے ہیں، کیوں کہ یہ بالکل ہیلی کاپٹر کی طرح آگے پیچھے اُڑ سکتی اور فضا میں کھڑی ہوسکتی ہے۔