آغا حشر کاشمیری اُردو کے بلند پایہ ڈرامہ نگار

تحریر : پروفیسر صابر علی


اُردوکے شیکسپیئر کی آ ج91ویں برسی: یوں تو اور بھی اچھے اچھے ڈراماٹسٹ موجود تھے، احسن، بیتاب، طالب، مائل سب کے سب ناٹک کی لنکا کے باون گزے تھے لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے اور سچ تو یہ ہے کہ آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی، بچارے ڈراماٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے

اُردو کے شہرہ آفاق ڈرامہ نگار آغا حشر(اصل نام آغا محمد شاہ)تین یا چار اپریل1879ء کو بنارس میں پیدا ہوئے۔ان کے والد غنی شاہ بسلسلہ تجارت کشمیر سے بنارس گئے اور وہیں آباد ہو گئے۔جیسا کہ اگلے وقتوں میں آسودہ حال  شرفا کے گھروں میں رواج تھا، آغا حشر کو  عربی، فارسی اور دینیات کی ابتدائی تعلیم گھر پر  دی گئی۔ والد صاحب کی خواہش تھی کہ بیٹا عالم دین بنے لیکن خود آغا انگریزی تعلیم کے شوقین نکلے؛ چنانچہ خاندان کے بعض افراد کے اصرار پر ان کا داخلہ سرکاری سکول میں کرا دیا گیا۔ جب تک وہ اس سکول میں زیر تعلیم رہے اپنی ذہانت سے اپنے اساتذہ کا دل جیتتے رہے۔ اسی زمانے میں انہیں شاعری کا شوق ہوا اور فارسی اور اردو میں شعر کہنے لگے۔ والد چاہتے تھے کہ بیٹا میونسپل کمیٹی میں ملازم ہوجائے لیکن بیٹا ڈرامہ نگاری کے علاوہ کچھ اور کرنے کو تیار نہ تھا۔ اسی لیے بھاگ کر بمبئی چلا گیا اور الفریڈ تھیٹریکل کمپنی میں بطور ڈرامہ نگار ملازمت اختیار کر لی اور 20 برس کی عمر میں اس کمپنی کے لیے پہلا کمرشل ڈرامہ ’’مریدشک‘‘ لکھا، جسے بہت شہرت ملی۔

ڈرامہ، شوق اور چیلنج

آغا حشر کے ڈرامے کی ابتدا کا قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔واقعہ یوں ہے کہ آغا حشر نے 18 سال کی عمر میں’ آفتاب ِ محبت‘ کے نام سے ڈرامہ لکھا جسے انہوں نے اُس وقت کے ایک مشہور ڈرامہ نگار مہدی احسن لکھنوی کو دکھایا تو انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ میاں ڈرامہ نگاری بچوں کا کھیل نہیں۔ منشی احسن لکھنوی کی اس بات کو حشر نے اپنے لیے چیلنج سمجھا اور اپنی تخلیقی قوت اور ریاضت سے اس طنز کا ایسا جواب دیا کہ اردو کے شیکسپیئر کہلائے اور اُردو ڈرامہ کی تاریخ حشر کے بغیر مکمل ہی نہیں ہو تی۔ انہیں جو شہرت، مقبولیت، عزت اور عظمت حاصل ہوئی وہ ان کے بہت سے پیش رؤوں اور معاصرین کو نصیب نہیں ہوئی۔

ڈرامہ کمپنیوں میں شمولیت

حشر کی مقبولیت بڑھی تو مختلف ڈرامہ کمپنیوں کی طرف سے انہیں ملازمت کی پیشکش کا سلسلہ شروع ہو گیا؛ چنانچہ انہوں نے ڈیڑھ سو روپے ماہوار پر نو روز بی پری کی کمپنی کی ملازمت قبول کر لی۔ یہاں انہوں نے’’ اسیر حرص‘‘ 1901ء لکھا ۔یہ ڈرامہ بھی بے حد پسند کیا گیا۔ حشر کی اس روز افزوں مقبولیت کو دیکھ کر الفریڈ کمپنی کے مالک نے انہیں دو بارہ ساڑھے تین سو روپے ماہانہ پر اپنے یہاں بلا لیا۔ اس بار ان کی کمپنی کے لیے ’’شہید ناز‘‘ 1902ء لکھا جو حسب روایت  کافی مقبول ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے اڈیسر بھائی ٹھوٹھی کی کمپنی کے لیے1906ء میں’’ سفید خون ‘‘اور 1907ء میں ’’صیدِ ہوس‘‘ اور سہراب جی اگرا کی کمپنی کیلئے 1908ء میں ’’خوابِ ہستی‘‘ اور 1909ء میں ’’خوبصورت بلا‘‘لکھا۔ڈرامہ نویس کے طور پر بے حد مقبول ہونے کے باوجود آغا حشر اپنی موجودہ حیثیت سے ذہنی طور پر مطمئن نہیں تھے۔ انہیں یہ بات سخت ناگوار گزرتی تھی کہ مالکان کمپنی ان کی تحریروں میں اپنی صوابدیدکے مطابق تحریف اور کاٹ چھانٹ کروا دیتے ہیں؛ چنانچہ حیدر آباد کے ایک تعلقہ دار کے اشتراک سے 1909ء میں انہوں نے دی گریٹ الفریڈ تھیڑیکل کمپنی آف حیدر آباد کی بنیاد ڈالی اور سب سے پہلے سہراب جی اگرا کی کمپنی کیلئے لکھا گیا ڈرامہ’’ خوبصورت بلا‘‘ سٹیج کیا۔ اس کے بعد اگلے سال 1910ء میں اپنا پہلا مجلسی ڈرامہ’’ سلور کنگ عرف نیک پروین‘‘ لکھ کر پیش کیا۔ اسی سال ’’یہودی کی لڑکی عرف مشرقی حور ‘‘بھی اسی کمپنی کے سٹیج پر کھیلا گیا۔ حیدر آباد میں مقبولیت کے ڈنکے بجانے کے بعد یہ کمپنی سورت ہوتی ہوئی بمبئی پہنچی اور یہیں ختم ہو گئی۔ اس کے بعد آغا حشر نے 1912ء میں جالندھر کے بھائی گیان سنگھ کی نو تشکیل شدہ کمپنی میں پانچ سو روپے ماہوار پر ڈرامہ نویس کی حیثیت سے ملازمت کر لی لیکن جلد ہی امرتسر میں یہ کمپنی بھی بند ہو گئی۔

1913ء  میں آغا حشر نے اپنے ڈراموں کی اداکارہ حور بانو سے لاہور میں شادی کرلی۔ اُسی زمانے میں انہیں دہلی میں ایک عوامی استقبالیہ دیا گیا جس میں انہیں ’’انڈین شیکسپیئر‘‘ کے خطاب سے نوازا گیا۔ لاہور پہنچ کر انہوں نے اپنی دوسری کمپنی انڈین شیکسپیئر تھیڑیکل کمپنی کی بنیاد ڈالی۔ یہ کمپنی مختلف شہروں کا دورہ کرتی ہوئی کلکتہ پہنچی۔ یہاں آغا حشر ریلوے پلیٹ فارم سے نیچے گر گئے جس کے نتیجے میں ان کے دائیں پیر کی پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ انہیں  کافی عرصہ ہسپتال میں رہنا پڑا۔ اسی علالت کے دوران انہوں نے بستر پر لیٹے لیٹے اپنا پہلا ہندی ڈرامہ بھگت سور داس عرف بلوا منگل 1914ء لکھوایا جو اُن کے چھوٹے بھائی آغا محمود شاہ کی ہدایت میں پہلی بار سٹیج ہوا۔بعد ازاں وہ رستم جی کی دعوت پر کلکتہ گئے اور جے ایف مڈنس کمپنی میں ایک ہزار روپے ماہانہ پر ملازم ہو گئے۔ اس کمپنی کیلئے انہوں نے متعدد ڈرامے لکھے۔ اسی کے ساتھ 1919ء اور 1923ء کے درمیان انہوں نے مڈنس کمپنی کی خاموش فلموں میں اداکاری کے فن کا مظاہرہ بھی کیا۔  شہرت اور مقبولیت کی بلندی پر پہنچنے کے بعد آغا حشر کے دل میں ایک بار پھر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اپنی کمپنی قائم کریں؛ چنانچہ 1924ء میں بنارس میں دی گریٹ الفریڈ تھیٹریکل کمپنی آف کلکتہ کی بنیادی ڈالی۔ان دنوں کلکتہ میں بولتی فلموں کا رواج بڑھ رہا تھا۔ مڈنس تھیڑز کے منیجنگ ڈائریکٹر  نے جو پائنیر فلم کمپنی کے مالک بھی تھے، آغا حشر سے فلم لکھنے کی فرمائش کی۔ آغا صاحب نے ان کیلئے ’’ شیریں فرہاد‘‘ لکھی۔ جس میں ماسٹر نثار اور مس لجن نے بنیادی کردار ادا کئے۔ اس فلم کی مقبولیت نے دوسری فلم کمپنیوں کو آغا حشر کی طرف متوجہ کیا اور  چاروں طرف سے فرمائشوں کی یلغار ہونے لگی جن کی تعمیل میں انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کیلئے فلم ’’عورت کا پیار‘‘ لکھی جو کافی مقبول ہوئی۔ اسی زمانہ میں انہوں نے فرام جی کیلئے مزید دو فلمیں’’ دل کی آگ ‘‘(1931ء)اور ’’شہید فرض‘‘(1931ء) لکھی جو مختلف وجوہ سے فلمائی نہ جا سکیں۔ ان کے علاوہ نیو تھیڑز کیلئے ’’ یہودی کی لڑکی ‘‘اور ’’چنڈی داس‘‘ کے نام سے فلمیں لکھیں۔

حشر پکچرز کا آغاز

آغا حشر نے 1934ء میں اپنی فلم کمپنی بھی بنائی اور رستم سہراب کو فلمانے کا ارادہ کیا۔ کرداروں کا انتخاب ہونے کے بعد ریہرسل بھی ہو گئی، اس سلسلے میں انہیں کئی بار جموں اور سری نگر کا سفر بھی کرنا پڑامگر اسی مسلسل تگ و دو نے ان کی صحت پر برا اثر ڈالا۔آغا حشر علاج کی غرض سے لاہور آئے اور یہاں حشر پکچرز کی بنیاد ڈالی اور بھیشیم پتامہ کی ریہرسل اور شوٹنگ شروع کر دی لیکن اس سے قبل کہ اسے مکمل کر پاتے 28 اپریل 1935ء کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے اور لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں سپردخاک ہوئے۔

ڈرامہ نویسی کے ادوار

پروفیسر وقار عظیم نے آغا حشر کی ڈرامہ نویسی کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے، مگر بغور جائزہ لیا جائے تو ان کی ڈرامہ نویسی کو چار حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ خود آغا صاحب نے اپنی پوری تخلیقی زندگی کے یہ حصے کیے ہیں۔ پہلا دور: 1901ء تا 1905ء ۔ اس دور میں’ مریدِ شک‘، ’مارِ آستین‘،’ میٹھی چھری‘ اور’ اسیر حرص‘ لکھے گئے۔ دوسرا دور: 1906ء تا1909ء۔  اس دور میں’ شہید ناز‘، ’خوبصورت بلا‘، ’سفید خون ‘اور’ صید ہوس‘لکھے گئے۔ تیسرا دور: 1910ء تا 1916ء۔ اِس دور میں’ سلور کنگ‘، ’خوابِ ہستی‘، ’یہودی کی لڑکی‘، ’سور داس‘، ’بن دیوی‘ اور’ پہلا نقش‘ لکھے گئے۔ چوتھا دور: 1917ء تا 1924ء۔ یہ زمانہ کلکتہ کے قیام کا تھا۔ اس زمانے میں آغا حشر نے زیادہ تر ہندی ڈرامے لکھے۔ آخری دور میں آغا حشر نے اصلاحی ڈرامے لکھے۔ 1928ء میں’ سیتا بن باس‘، 1929ء میں ’رستم و سہراب‘، 1930ء   سے 1932ء تک دھرمی بالک، بھارتی بالک اور دل کی پیاس نامی ڈرامے تصنیف کیے۔

مقبولیت

آغا حشر کی مقبولیت کی وجوہ کو چراغ حسن حسرت نے یوں بیان کیا ہے: ابھی ہندوستان میں فلموں کا رواج نہیں تھا، جو کچھ تھا تھیٹر ہی تھیٹر تھا اور اس دنیا میں آغا حشر کا طوطی بول رہا تھا۔ یوں تو اور بھی اچھے اچھے  ڈراماٹسٹ موجود تھے، احسن، بیتاب، طالب، مائل سب کے سب ناٹک کی لنکا کے باون گزے تھے لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی، بچارے ڈراماٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے۔ 

  وہ ڈرامہ کیسے لکھتے تھے؟

 ٭...کہا جاتا ہے کہ ’’مار آستین‘‘(1899ء) آغا حشر کا واحد ڈرامہ ہے جسے انہوں نے اپنے قلم سے لکھا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنا کوئی ڈرامہ اپنے ہاتھ سے نہیں لکھا۔ ان کا معمول یہ تھا کہ برجستہ مکالمات بولتے جاتے تھے اور بیک وقت کئی منشی انہیں قلم بند کرتے رہتے تھے۔

٭...آغا حشر چونکہ اپنے اکثرڈراموں کے ہدایتکار بھی خود ہی ہوتے تھے اس لئے اکثر حالات میں انہیں مسودوں میں ہدایات اور مناظر کی تفصیل تحریر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ 

٭...عوامی مقبولیت حاصل کر لینے والے کسی ڈرامے کے چند شو مکمل ہو جانے کے بعد اس میں نیا پن پیدا کرنے اور ناظرین کو اپنی طرف متوجہ رکھنے کی غرض سے اس میں کبھی بعض نئے مناظر جوڑ دیے جاتے تھے اور کبھی بعض مناظر نکال دیئے جاتے تھے۔ آغا حشر کبھی یہ کام ڈرامہ کمپنیوں کے مالکان کی فرمائش پر کرتے تھے اور کبھی اپنے طورپر ۔

٭...آغا حشر کا مرکزِ نگاہ وہ عام لوگ تھے جو اپنا پیسہ خرچ کرکے ان کا ڈرامہ دیکھنے آتے تھے، وہ نہیں جو ادب کو فن لطیف کی حیثیت سے قبول کرکے اپنے اپنے گھروں میں اس کا لطف لینے کے عادی تھے۔ ڈراموں کی تخلیق کے دوران ادب ان کیلئے ثانوی حیثیت رکھتا تھا۔

٭...اکثر ایک ہی ڈرامے کے دو مسودوں میں کرداروں کے نام بدلے ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر ’آنکھ کا نشہ‘ (1924ء) کے ایک مسودے میں کردار کالی داس، گوری ناتھ، سوہن اور کامنی ہیں جبکہ اسی ڈرامے کے ایک دوسرے مسودے میں کرداروں کے نام جگل کشور بینی پرساد، مادھو اور کام لتا ہیں ۔

٭...ایک ڈرامے کو ایک سے زائد ناموں سے موسوم کیا گیا۔ آغا حشر ڈرامے میں معمولی تبدیلیاں پیدا کرکے عوام کو باور کرانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ ڈرامہ اُس ڈرامے سے مختلف ہے جو وہ پہلے کسی اور نام سے دیکھ چکے ہیںتاکہ لوگ اسے دوبارہ دیکھنے آئیں ۔

٭...آغا حشر نے اپنے ہندی ڈراموں کیلئے جو گانے لکھے ان میں بیشتر فارسی وزن اور بحروں کا استعمال کیا ہے۔ البتہ جہاں جہاں انہوں نے لوک گیتوں، دوہوں یا موسیقی کی لوک دھنوں کو اپنایا ہے وہاں فطری طور پر عروضی ڈھانچہ بھی ہندوستانی ہو گیا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

کلامِ غالب کی معنویت

مرزا غالب کی شاعری کو صدی دو صدی بعد کے زمانے سے ہم آہنگ کر کے دیکھنے کی گنجائش یوں بھی پیدا ہو گئی ہے کہ گزشتہ برسوں میں شرح اور تعبیر کے نظریات میں بھی معنی کے اکہرے پن اور قطعیت سے انکار کا رجحان زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔

پاکستان سپرلیگ11 :زلمی کاراج، ریکارڈزکی برسات

پی ایس ایل 11 کے لاہور میں کھیلے جانے والے فائنل میں شائقین کو شرکت کی اجازت دے دی گئی:پشاور زلمی کے کوشل مینڈس اس وقت بیٹنگ چارٹ پر راج کر رہے ہیں اور’’گرین کیپ‘‘اپنے نام کر رکھی ہے

فیفا ورلڈ کپ2026:ایران کی شرکت اور عالمی فٹ بال کا نیا نقشہ

فٹ بال کا میگا ایونٹ11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا:امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے ورلڈکپ بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی تاہم اب ایران کی شرکت کے حوالے سے بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں

سیالکوٹ:صوبہ پنجاب کا تاریخی شہر

سیالکوٹ، صوبہ پنجاب کا ایک اہم شہر ہے جو دریائے چناب کے کنارے واقع ہے۔ 9 لاکھ سے زائد کی آبادی والا یہ شہر لاہور سے 131کلومیٹر دور ہے جبکہ مقبوضہ جموں سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

خوشامد کا جال (ماخذ اردو کلاسک)

بوڑھے کسان نے بڑی تگ و دو کے بعد اپنے لیے پنیر کا ٹکڑا حاصل کیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ باہر پرندوں کی ٹولی منڈلا رہی ہے، اس لیے اس نے ہاتھ میں مضبوط شاخ تھام لی تاکہ اس کی حفاظت کر سکے۔

ڈریگون فلائی

ڈریگون فلائی کو بچے ہیلی کاپٹر بھی کہتے ہیں، کیوں کہ یہ بالکل ہیلی کاپٹر کی طرح آگے پیچھے اُڑ سکتی اور فضا میں کھڑی ہوسکتی ہے۔