ڈیجیٹل دور، سوشل میڈیا اور خواتین آن لائن ہراسگی سے کیسے بچیں ؟

تحریر : ماریہ ساجد


موجودہ ڈیجیٹل دور نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کو بدل کر رکھ دیا ہے اور اس تبدیلی میں خواتین کا کردار نہایت اہم اور نمایاں ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین تیزی سے ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بن رہی ہیں۔

 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک نہ صرف اظہارِ خیال کا ذریعہ بنے ہیں بلکہ تعلیم، کاروبار اور سماجی شعور بیدار کرنے کا ایک طاقتور ہتھیار بھی ہیں۔ تاہم جہاں یہ پلیٹ فارمز مواقع فراہم کرتے ہیں وہیں آن لائن ہراسگی جیسے سنگین مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا نے خواتین کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا بے مثال موقع فراہم کیا ہے۔ اب خواتین گھر بیٹھے اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں، آن لائن کورسز کے ذریعے نئی مہارتیں سیکھ سکتی ہیں حتیٰ کہ اپنا کاروبار بھی شروع کر سکتی ہیں۔ بہت سی خواتین نے سوشل میڈیا کے ذریعے کپڑوں، جیولری، بیوٹی پراڈکٹس اور ہینڈ میڈ اشیاکا کاروبار شروع کیا اور کامیابی حاصل کی ہے۔بہت سی آن لائن ٹیچنگ کے ذریعے اپنا کیرئیر بڑھا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا خواتین کو اپنی آواز بلند کرنے کا پلیٹ فارم بھی فراہم کرتا ہے۔ سماجی مسائل، خواتین کے حقوق، تعلیم کی اہمیت اور صحت جیسے موضوعات پر آگاہی پھیلانے میں خواتین بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ یہ پلیٹ فارمز خواتین کے درمیان ایک مضبوط کمیونٹی بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو رہے ہیں جہاں وہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکتی ہیں اور مدد حاصل کر سکتی ہیں۔

مثبت استعمال کے چند اصول

سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرنے کے لیے چند بنیادی اصولوں کو اپنانا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کے بجائے اسے سیکھنے، سکھانے اور آگاہی پھیلانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔کسی بھی خبر یا معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کرلینی چاہیے تاکہ غلط معلومات نہ پھیلیں۔ایسے مواد کو ترجیح دینی چاہیے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو جیسے تعلیمی، معلوماتی یا حوصلہ افزا پوسٹس۔ اپنی ذاتی معلومات، تصاویر اور لوکیشن شیئر کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔

آن لائن ہراسگی ایک سنجیدہ مسئلہ

جہاں سوشل میڈیا خواتین کے لیے مواقع لایا ہے وہیں آن لائن ہراسگی ( Cyber Harassment) ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔ ہراسگی کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں جیسے نازیبا پیغامات، جعلی اکاؤنٹس، تصاویر کا غلط استعمال، بلیک میلنگ یا دھمکیاں ۔ہمارے ملک میں بہت سی خواتین اس مسئلے کا سامنا کرتی ہیں لیکن اکثر معاشرتی دباؤ یا بدنامی کے خوف سے خاموش رہتی ہیں۔ یہ خاموشی ہراسگی کرنے والوں کو مزید حوصلہ دیتی ہے جس سے مسئلہ بڑھتا جاتا ہے۔

آن لائن ہراسگی سے بچاؤ کے طریقے

خواتین کو چاہیے کہ ڈیجیٹل دنیا میں اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔ اس سلسلے میں یہ اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں: پرائیویسی سیٹنگز مضبوط بنائیں،نامعلوم افراد سے محتاط رہیں، فون نمبر، گھر کا پتہ یا دیگر حساس معلومات شیئر کرنے سے اجتناب کریں، اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز کو اس طرح ترتیب دیں کہ صرف قابلِ اعتماد لوگ ہی آپ کی معلومات دیکھ سکیں، اجنبی لوگوں کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کرنے سے گریز کریں اور مشکوک اکاؤنٹس کو بلاک کریں،ذاتی معلومات شیئر نہ کریں،اگر کوئی ہراسگی کا نشانہ بنائے تو اس کے پیغامات یا سکرین شاٹس محفوظ رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر قانونی کارروائی کی جا سکے۔ہراسگی کرنے والے افراد کو فوری طور پر رپورٹ اور بلاک کریں۔

قانونی مدد اور آگاہی

 آن لائن ہراسگی کے خلاف قوانین موجود ہیں جیسا کہ سائبر کرائم سے متعلق قوانین جن کے تحت متاثرہ فرد شکایت درج کرا سکتا ہے۔ خواتین کو چاہیے کہ اپنے حقوق سے آگاہ ہوں اور اگر وہ ہراسگی کا شکار ہوں تو متعلقہ اداروں سے جیسا کہ NCCIA، سے مدد حاصل کریں۔

 معاشرتی رویوں میں تبدیلی کی ضرورت

صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ معاشرتی رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ ہمیں بطور معاشرہ خواتین کی آن لائن  موجودگی کو قبول کرنا ہوگا اور ان کے حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ اپنی بیٹیوں کو ڈیجیٹل تعلیم دیں تاکہ وہ  محفوظ انداز میں ان پلیٹ فارمز کا استعمال کر سکیں۔ڈیجیٹل دور خواتین کے لیے بے شمار مواقع لے کر آیا ہے لیکن اس کے ساتھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال خواتین کو بااختیار بنا سکتا ہے، جبکہ احتیاطی تدابیر اپنانے سے وہ آن لائن ہراسگی جیسے مسائل سے خود کو محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین اعتماد کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھیں، اپنے حقوق کو پہچانیں اور ایک محفوظ اور مثبت آن لائن ماحول کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

موسم گرما گھر کی سیٹنگ، صحت اور جلد کی حفاظت

ہمارے ملک میں گرمیوں کا موسم سخت اور طویل ہوتا ہے خاص طور پر مئی سے اگست تک درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے گھریلو ماحول کو بہتر بنائیں بلکہ اپنی صحت اور جلد کی مناسب دیکھ بھال بھی کریں۔ گرمیوں میں متوازن، صحت مند اور آرام دہ طرزِ زندگی اپنانے کے لیے یہ تجاویز اور مشورے مفید ہو ثابت ہو سکتے ہیں ۔

آج کا پکوان: تربوز کا شربت

تربوز کا شربت بہت مزیدار، ٹھنڈا اور تازگی بخش مشروب ہے۔ اسے گھر میں آسانی سے بنایا جا سکتا ہے۔

آغا حشر کاشمیری اُردو کے بلند پایہ ڈرامہ نگار

اُردوکے شیکسپیئر کی آ ج91ویں برسی: یوں تو اور بھی اچھے اچھے ڈراماٹسٹ موجود تھے، احسن، بیتاب، طالب، مائل سب کے سب ناٹک کی لنکا کے باون گزے تھے لیکن آغا کے سامنے بونے معلوم ہوتے تھے اور سچ تو یہ ہے کہ آغا سے پہلے اس فن کی قدر بھی کیا تھی، بچارے ڈراماٹسٹ تھیٹر کے منشی کہلاتے تھے

کلامِ غالب کی معنویت

مرزا غالب کی شاعری کو صدی دو صدی بعد کے زمانے سے ہم آہنگ کر کے دیکھنے کی گنجائش یوں بھی پیدا ہو گئی ہے کہ گزشتہ برسوں میں شرح اور تعبیر کے نظریات میں بھی معنی کے اکہرے پن اور قطعیت سے انکار کا رجحان زیادہ نمایاں ہو گیا ہے۔

پاکستان سپرلیگ11 :زلمی کاراج، ریکارڈزکی برسات

پی ایس ایل 11 کے لاہور میں کھیلے جانے والے فائنل میں شائقین کو شرکت کی اجازت دے دی گئی:پشاور زلمی کے کوشل مینڈس اس وقت بیٹنگ چارٹ پر راج کر رہے ہیں اور’’گرین کیپ‘‘اپنے نام کر رکھی ہے

فیفا ورلڈ کپ2026:ایران کی شرکت اور عالمی فٹ بال کا نیا نقشہ

فٹ بال کا میگا ایونٹ11 جون سے 19 جولائی تک کھیلا جائے گا:امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے بعد ایران نے ورلڈکپ بائیکاٹ کی دھمکی دی تھی تاہم اب ایران کی شرکت کے حوالے سے بے یقینی کے بادل چھٹ گئے ہیں