پنجاب میں بلدیاتی انتخاب، تاخیر کیوں ؟
سلگتے عوامی مسائل اور مہنگائی کے رجحان پر جوابدہ کون؟
امریکہ ایران جنگ بندی اور انہیں مذاکرات کی مزید پر لانے کیلئے سفارتی محاذ پر کی جانے والی کوششوں سے پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے لیکن ملکی حالات پر نظر دوڑائی جائے تو عوام کی زندگیوں پر خلیجی جنگ اور دیگر عوامل کے شدید اثرات نظر آ رہے ہیں۔ مہنگائی کا ایک طوفان ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہا۔پٹرولیم، گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام الناس کی زندگیوں میں عدم اطمینان پیدا کر رہا ہے۔ اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں اضافہ عوام کیلئے بے پناہ پریشانی کا سبب بن رہا ہے۔ ماضی میں سیاسی جماعتیں مہنگائی اور بے روزگاری کو بنیاد بناتے ہوئے حکومتوں پر دبائو بڑھاتی نظر آتی تھیں اور کسی حد تک عوام کی آواز سنائی دیتی تھی مگر اب حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی عوام کی حالتِ زار سے لاتعلق دکھائی دیتی ہیں جس سے عوام میں مایوسی اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ خصوصاً مہنگائی اور اشیائے ضروریات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے پر کوئی بھی عوام کی آواز بننے کو تیار نہیں اور کسی کو بھی اس کا ادراک نہیں کہ لوگ کس طرح مجبور ہو کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان کے حقوق اور ضروریات کس طرح پامال ہو رہی ہیں۔
ایسا لگتا ہے کہ جب بھی ملک کسی بڑے معاشی، سیاسی بحران کا شکار ہوتا ہے تو کمزور طبقات اور مسائل زدہ عوام کواس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ حکومت بھی اس بحران کا سارا بوجھ کمزور طبقات پر ڈال دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تنخواہ دار اور چھوٹا کاروباری طبقہ شدید مسائل سے دوچار ہے۔ نئی نسل کو بے روزگاری کے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال میں حکومت اور اہل سیاست کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ حکومت اور سیاسی قوتوں کویہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جمہوری عمل جوابدہی کا نام ہے اور اس میں عوام کی تائید و حمایت ہی ان کی سیاسی طاقت کا ذریعہ بنتی ہے۔ مگر آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ حکمران، سیاستدان اور مسائل زدہ عوام میں فاصلے ہیں جو مایوسی کو جنم دے رہے ہیں جس کا خمیازہ بالآخر سیاستدانوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف جوعام آدمی کی بات کرتے اور ان کی بجائے اشرافیہ پر بوجھ ڈالنے کی بات کرتے تھے اُن کی توجہ بھی فی الحال بیرونی اور سفارتی محاذ پر ہے۔ بلاشبہ اس کی اپنی اہمیت ہے لیکن اندرونی محاذ کی ذمہ داری بھی ان پر ہے اور آنے والے حالات میں مسائل کے حوالے سے جوابدہی ان کی اور ان کی حکومت اور جماعت کی ہو گی۔
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مسئلہ بھی تاخیر کا شکار ہے، جس کی ایک وجہ ان انتخابات کی غیر جماعتی حیثیت کو بعض جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی سمیت متعدد افراد کا عدالت عالیہ میں چیلنج کرنا تھا۔ رواں ہفتہ میں اس حوالے سے سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے بلدیاتی الیکشن کے مسئلہ پر سیاسی جماعتوں کو آپس میں اتفاق رائے پیدا کرنے کا مشورہ دیا اور اس حوالے سے پنجاب حکومت اور الیکشن کمیشن سے رائے بھی طلب کر لی۔ مذکورہ سماعت میں جسٹس سلطان تنویر احمد نے ریمارکس دیئے کہ دنیا میں یونین کونسل کی سطح پر کن ممالک میں چیئرمین کا انتخاب بالواسطہ ہوتا ہے ؟ان کے یہ ریمارکس اہم تھے کہ اگر چیئرمین کو عوام نے براہ راست ووٹ نہ دیا ہو تو پھر ایسے انتخابات کی حیثیت کیا ہو گی؟مضبوط بلدیاتی سسٹم میں عوام کا کردار اہم ہے۔ جہاں تک پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا سوال ہے تو یہ ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ صوبہ میں آخری انتخابات 2015ء میں ہوئے تھے اور اس کے بعد تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہو سکا۔ اب بھی حکومت پنجاب یہ کہتی تو ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتی ہے، لیکن انتخابی عمل کے آگے بدستور سوالیہ نشان ہے۔ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں کا عمل شروع کر رکھا ہے، اس کے بعد انتخابی شیڈول جاری ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو پہلے ہی عدالتوں میں چیلنج کیا جا چکا ہے اور اسے آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے اس میں ترامیم کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے عدالت کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے اور یونین کونسل کی سطح پر براہ راست ووٹنگ کا نظام اپنایا جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کس حد تک اس یقین دہانی پر عمل کرتی ہے۔
پاکستان کا ایک سیاسی المیہ یہ رہا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بلدیاتی سسٹم، اس کے اختیارات اور بلدیاتی انتخابات پر زور دیتی اور اسے جمہوریت کیلئے ناگزیر قرار دیتی ہیں لیکن مسند اقتدار پر پہنچنے کے بعد وہ اس حوالے سے اپنے اراکین اسمبلی کے دبائو میں آکر مصلحت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے دور میں اُس وقت کے وزیراعظم پنجاب میں آکر بار بار بلدیاتی انتخابات کرانے پر زور دیتے تھے لیکن اپنی حکومت کے باوجود اس ضمن میں پیش رفت نہ ہو سکی، اب ایسا ہی حال مسلم لیگ( ن) کا ہے۔ البتہ مسلم لیگ (ن) کے اندر یہ تحریک موجود ہے کہ اپنے سیاسی کردار کی مضبوطی کیلئے بلدیاتی انتخابات کی طرف لوٹنا چاہئے تاکہ اس سے جماعت کا عوام سے رابطہ ہو سکے۔ اس ضمن میں پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہبازشریف یکسو نظر آتے ہیں۔ انہوں نے ایک حالیہ ملاقات میں دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بلدیاتی اداروں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے انتخابی عمل میں جانا ہوگا۔ لیکن اصل مسئلہ اراکین اسمبلی کا ہوتا ہے وہ بلدیاتی اداروں اور ان کے کردار کو ہضم نہیں کر پاتے اور اب بھی وہ حکومت پنجاب کوبلدیاتی انتخابات سے گریز کا مشورہ دیتے نظر آتے ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز ترقیاتی منصوبوں کے ذریعہ عوامی حمایت حاصل کرنے کیلئے کوشاں تو نظر آتی ہیں۔ لیکن ان اقدامات کو کیش کرانے کا ذریعہ تو انتخابات ہی ہوں گے۔ کیا وہ اس ضمن میں پیش رفت کیلئے تیار ہوں گی، یہ دیکھنا ہوگا۔ ویسے تو اگر مسلم لیگ( ن) کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اس جماعت کی سیاسی اہمیت میں جہاں اس کی لیڈر شپ خصوصاً نوازشریف کا کردار اہم ہے وہاں انہیں طاقت کی فراہمی میں بلدیاتی اداروں اور ان کے اراکین کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ مگر حالیہ دور میں پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں بلدیاتی عمل مکمل نہیں ہو سکا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس چیلنج سے کیسے نبٹتی ہے اور الیکشن کمیشن اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے حکومت کو انتخابات کے انعقاد پر مجبور کرتا ہے یا معاملہ بدستور التوا کا شکار رہتا ہے۔