گڈ گورننس خواب بن گئی!
پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی ورکرز صوبائی حکومت کو الزامات دے رہے ہیں۔ ایک طرف سلمان اکرم راجہ ہدف تنقید ہیں تودوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ورکروں کی تنقید کے نشانے پر ہیں۔
علیمہ خان بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے پارٹی کی طرف اور پارٹی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی طرف دیکھ رہی ہے،مگر یہاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بغیر کسی حکمت عملی کے چلتے دکھائی دیتے ہیں۔ علی امین گنڈا پور کے جانے کے بعد سہیل آفریدی کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر بٹھایاگیا،یہ قرعۂ فال اچانک ان کے نام نہیں نکل آیا تھا، پارٹی اور ورکرز کو ان سے کئی امیدیں تھیں۔ کہاگیا کہ وہ نہ صرف پارٹی میں نئی روح پھونک دیں گے بلکہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے سر دھڑ کی بازی بھی لگادیں گے۔ سہیل آفریدی نے بھی منصبِ اقتدار سنبھالتے ہیں طوفانی جلسے جلوسوں کا آغاز کیا ‘پنجاب حکومت اور وفاق کو خطوط لکھے، اپنا بیشتر وقت پشاور کے بجائے اسلام آبادمیں گزارنا شروع کیا،جب کچھ بھی نہ بن پڑاتو بانی پی ٹی آئی رضاکار بھرتی کرنے کااعلان کر دیا اوراس کیلئے پشاور میں کارکنوں کو جمع کیا اور رجسٹریشن کا آغاز کیا،دیگر اضلاع میں بھی جلد ہی رجسٹریشن کا اعلان کیا گیا لیکن اس پر آج کی تاریخ تک عملدرآمد نہ ہوسکا۔یوں آہستہ آہستہ توپوں کا رخ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی طرف ہوتا چلا گیا۔سہیل آفریدی نے پہلے راولپنڈی میں جلسے کا اعلان کیا جسے منسوخ کردیاگیااور یہ جلسہ مردان میں ہوا لیکن بے معنی ثابت ہوا۔علی امین گنڈاپور نے اپنے دورِ وزارت اعلیٰ میں متعدد بار پنجاب اور اسلام آباد پر چڑھائی کی، وہ کوئی مومینٹم تو نہ بناسکے لیکن کسی حد تک انہوں نے کارکنوں کو مطمئن کئے رکھا مگر سہیل آفریدی تاحال ایسا کچھ بھی کرنے میں کامیاب نظر نہیں آرہے۔
سرتوڑ کوششوں کے باوجود وہ پارٹی اور ورکروں کو کوئی قابلِ عمل لائحہ عمل دینے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ ورکرز کی نظریں ہروقت صوبائی حکومت کی طرف رہتی ہیں کہ شاید وزیراعلیٰ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کچھ کریں۔ کارکنوں کو یہ امید کسی اور نے نہیں ان منتخب اراکین اسمبلی نے انتخابات سے قبل دلائی تھی مگر یہ جھوٹے وعدے اور دلاسے ثابت ہورہے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا دورۂ کشمیر بھی اسی حکمت عملی کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز آزاد کشمیر کا دورہ کیا لیکن اس کیلئے ہیلی کاپٹر صوبائی حکومت کااستعمال کیا گیا۔جلسے جلوسوں اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کیلئے سرکاری وسائل کے استعمال پر پشاور ہائیکورٹ نے پابندی لگائی ہے تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیاکہ ہیلی کاپٹر کا کرایہ پارٹی فنڈ سے دیاگیا ہے، چونکہ کرایہ پارٹی کے فنڈ سے دیاگیا ہے اسی لئے پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی وزیراعلیٰ کے ساتھ سرکاری ہیلی کاپٹر میں سفر کیا۔گزشتہ ہفتے سے خیبرپختونخوا حکومت پشاور کے کرکٹ گراؤنڈمیں اسمبلی کا انعقادکرکے تنقید کی زد میں آئی۔خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس بانی پی ٹی آئی کے نام سے منسوب سٹیڈیم میں بلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی، کوئی پارٹی رہنما اس کا مناسب جواب نہ دے سکا۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو پی ٹی آئی کے قریب سمجھے جاتے ہیں ان کی جانب سے بھی اس پر تنقید کی گئی۔ کہنے کو تو یہ عوامی اجلاس تھا لیکن اس میں عوام کہیں نظر نہیں آئے۔اپوزیشن نے اسے سیاسی سٹنٹ قراردیا۔
ان فیصلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس سیاسی حکمت عملی کا فقدان ہے۔ بیرسٹر گوہر،سلمان اکرم راجہ اوروزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اب اس قسم کے سیاسی ہتھکنڈوں سے ووٹرز کو رام نہیں کیا جاسکتا۔پی ٹی آئی کو اپنے ورکرز کو مطمئن کرنے کے لیے مناسب لائحہ عمل دینا ہوگا۔بہتر ہوگا کہ سیاسی محاذ پارٹی سنبھالے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو صوبے کی طرف توجہ دینے کا موقع دیا جائے تا کہ یہاں سے تیسری بار پی ٹی آئی کو منتخب کئے جانے کا حق ادا کیا جاسکے۔پی ٹی آئی اگر ایک جانب بانی پی ٹی آئی کو رہا کروانے میں ناکام رہتی ہے اور دوسری طرف صوبے میں گڈگورننس قائم نہیں کرپاتی تو چوتھی بار یہاں حکومت بنانا اس جماعت کے لیے مشکل ہوجائے گا۔عوام کو ایک بارپھر بانی پی ٹی آئی کو رہا کروانے کے دعوؤں پر ٹرخایا نہیں جاسکتا۔پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی رائے کے مطابق پارٹی انتخابات ناگزیر ہیں۔ پارٹی قیادت کی تبدیلی بھی ضروری ہے۔ بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ پارٹی چیئرمین سیاسی بندہ ہونا چاہئے جبکہ اس وقت چیئرمین اور سیکرٹری جنرل کے عہدوں پر غیر سیاسی لوگ فائز ہیں۔دوسرا دھڑا ان حالات میں وفاقی حکومت اور مقتدرہ کے ساتھ محاذ آرائی کا مخالف ہے اور موجودہ سیٹ اَپ کے ساتھ ہی آگے بڑھنا چاہتا ہے۔
پی ٹی آئی اس وقت بطورپارٹی داخلی تقسیم کا شکار ہے۔ خیبرپختونخوا کی حد تک تو اس جماعت میں ہلچل نظرآتی ہے لیکن پنجاب اور سندھ کی سطح پر ایسا کچھ نہیں۔ پارٹی کے اندر ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جب تک پنجاب میں پارٹی کو متحرک نہیں کیاجاتا وفاق کو دباؤمیں لاناممکن نہیں۔ علی امین گنڈاپورمیں یہ خصوصیت تھی کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ہٹ کر بھی ان کا پارٹی کے اندر اثرورسوخ تھا لیکن سہیل آفریدی ایسے کسی اثرورسوخ سے عاری نظرآتے ہیں۔ فی الوقت ان کے ارگرد چند شناسا چہرے ہیں جو اُن کی کابینہ میں شامل ہیں اور وہی پارٹی کے اندر بھی ان کی لابی کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اصل مسئلہ ہے جو کسی کے کنٹرول میں نہیں آ رہا۔ جن سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے علی امین گنڈاپور پر تنقید اور سہیل آفریدی کی تعریفیں کی جاتی تھیں رفتہ رفتہ وہی اکاؤنٹس اب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر بھی تنقید کرنے لگے ہیں۔ ان اکاؤنٹس کا پی ٹی آئی کی پالیسیوں پر گہرا اثر ہے۔ بیشتر اوقات ان سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی وجہ سے پارٹی کو نقصان بھی اٹھاناپڑا لیکن ان سے لاتعلقی اختیار نہیں کی جاتی۔ کئی بارپی ٹی آئی کی حکومت کو ان اکاؤنٹس سے تنقید کے بعد اپنے فیصلے واپس لینے پڑے۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز پارٹی کی پالیسیوں پر اتنے چھائے ہوئے ہیں کہ پارٹی کے بڑے رہنما بھی اس حوالے سے کچھ کہنے سے قاصرنظرآتے ہیں۔سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اس کا یہ توڑ نکالاتھا کہ ان کے مقابلے میں اپنی سوشل میڈیاٹیم کھڑی کردی جس کے بارے میں کہاگیا کہ اس کے اخراجات وہ اپنی جیب سے اداکررہے ہیں لیکن وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایسی حکمت عملی بھی نہ بناسکے۔ انہوں نے اس کا توڑ یہ نکالاکہ صوبائی حکومت سوشل میڈیا پر اپناچینل شروع کرنے جارہی ہے یعنی پیسہ سرکار کا ہوگا اورچینل پر گن پی ٹی آئی کے گائے جائیں گے۔