آزاد کشمیر، نئی انتخابی صف بندیاں
آزاد جموں و کشمیر میں اس سال جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایک طرف پیپلزپارٹی عوامی جلسے کر رہی ہے تو دوسری جانب مسلم لیگ (ن) ہم خیال مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں مصروف ہے۔
سوموار کو آل جموں و کشمیر جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان انتخابی اتحاد ہو گیا اور دونوں جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آنے والے انتخابات ایک ساتھ مشترکہ طور پر لڑیں گی۔ (ن) لیگ اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان انتخابی اتحاد پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں طے پایا۔اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام کا پاکستان مسلم لیگ( ن) آزاد کشمیر کی حمایت کا اصولی فیصلہ اس بات پر ہوا ہے کہ جمعیت کے امیر پیر مظہر سعید شاہ کو علما و مشائخ کی مخصوص نشست پر مسلم لیگ (ن) کے نو منتخب اراکین اسمبلی کے ووٹوں سے آئندہ پانچ سال کے لئے دوبارہ رکن قانون ساز اسمبلی منتخب کیا جائے گا۔ امیر جمعیت علمائے اسلام آزاد جموں و کشمیر پیر مظہر سعید 2021 میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے ووٹوں سے علما و مشائخ کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئے تھے اور بعد میں پی ٹی آئی کو چھوڑ کر فارورڈ بلاک میں شامل ہو گئے تھے۔
آزاد جموں و کشمیر میں پیپلزپارٹی کی حکومت انتظامی رِٹ اور سرکاری اثاثوں کی حفاظت میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ حکومت دو سابق وزرا کے عہدے چھوڑنے کے پانچ ماہ بعد بھی ان کے زیر استعمال سرکاری گاڑیاں واپس نہیں لے سکی۔ راولپنڈی میں مقبوضہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر جاوید بٹ نے دو میں سے ایک گاڑی حکومت کو واپس کردی جبکہ ایک گاڑی تاحال ان کے استعمال میں ہے۔ان کے علاوہ سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کی قیادت میں قائم فارورڈ بلاک کی رکن اسمبلی کوثر تقدیس گیلانی جو خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئی تھیں اور بعد میں وزیر بن گئیں اور انہیں دو گاڑیاں الاٹ کی گئیں،تاہم حکومت تبدیل ہونے کے پانچ ماہ بعد بھی نئی حکومت ان سے سابقہ دور کی گاڑیاں واپس نہیں لے سکی۔ جاوید بٹ اور کوثر تقدیس گیلانی تحریک انصاف کے ٹکٹ پر 2021 میں رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور بعد میں تحریک انصاف سے راہیں جدا کر کے فارورڈ بلاک کا حصہ بن گئے اور سابق وزیر اعظم چوہدری محمد انوار الحق کی حکومت میں بطور وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں۔آزاد جموں و کشمیر میں رائج حکومتی ٹرانسپورٹ پالیسی کے مطابق ایک وزیر دو سرکاری گاڑیاں رکھ سکتا ہے لیکن وزارت ختم ہونے کے بعد قانون کے مطابق ہر وزیر نے اسی وقت ایک گاڑی اور دو ہفتوں کے اندر دوسری گاڑی واپس کرنا ضروری ہے۔
گزشتہ سال 17نومبر کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد چوہدری انوار الحق کی حکومت ختم ہو گئی اورپیپلز پارٹی کے راجہ فیصل ممتاز راٹھور کو وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر منتخب کیا گیا۔گو کہ جاوید بٹ اور کوثر گیلانی بعد ازاں پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے تاہم انہیں نئی کابینہ میں جگہ نہ مل سکی کیونکہ آزاد جموں و کشمیر کی کابینہ میں اب 18 وزرا اور دو مشیر ہوں گے۔ ان دو سابق وزرا سے گاڑیاں واپس نہ لینا بادی النظر میں قانون کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کے کمزور پہلوو ں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے ایوان میں عددی اکثریت کھونے کے ڈر سے دونوں سابق وزرا سے گاڑیاں واپس نہیں لینا چاہتی۔ حکومت آزاد جموں و کشمیر نے اس وقت سابق وزرا سے گاڑیاں واپس لینے کے بجائے انہیں مزید کھلی چھوٹ دے رکھی ہے تاکہ وہ ان سرکاری گاڑیوں کو بھر پور استعمال جاری رکھ سکیں۔
گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما راجہ فاروق حیدر نے خبردار کیا کہ آزاد جموں و کشمیر کا آئینی اور انتظامی نظام سنگین خطرات سے دوچار ہے اور کہا کہ 13ویں آئینی ترمیم کو نہ تو منسوخ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی عدالتی مداخلت کے ذریعے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔راجہ فاروق حیدر نے اپنے والد راجہ محمد حیدر خان کی 60ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کو واپس لینے یا آزاد جموں و کشمیر کونسل کے پرانے نظام کی بحالی کی کوئی بھی کوشش آئینی جدوجہد سے حاصل ہونے والے اختیارات کو نقصان پہنچائے گی۔ کوئی عدالت 13ویں ترمیم ختم نہیں کر سکتی کیونکہ آئین میں ترمیم کرنا پارلیمان کا اختیار ہے۔راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ یہ ترمیم طویل سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں منظور ہوئی تھی اور آزاد کشمیر کو منتقل کیے گئے اختیارات واپس نہیں لیے جا سکتے۔انہوں نے الزام لگایا کہ بعض عناصر خفیہ طور پر آزاد جموں و کشمیر کے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ ریاست کے آئینی تشخص اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کر یں۔
ادھر مسلم لیگ ( ن) کے بعد پیپلزپارٹی نے بھی خواتین کی ممبر شپ مہم شروع کر دی ہے۔وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے پیپلز پارٹی آزاد جموں کشمیر خواتین ونگ کے زیر اہتمام ممبر شپ مہم کا دار الحکومت مظفرآباد سے آغاز کیا۔ ممبر شپ مہم میں صدر پیپلز پارٹی آزاد جموں و کشمیر خواتین ونگ شاہین کوثر ڈار، بیگم چوہدری لطیف اکبر قائمقام صدر آزاد کشمیر اورچیئر پرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے پیپلز پارٹی خواتین ونگ کے ممبرشپ فارم پر کر کے ممبر شپ کا آغاز کیا۔اس موقع پر سردار جاوید ایوب، سردارضیا القمر اور پاکستان پیپلزپارٹی خواتین ونگ کی عہدیداران بھی موجود تھیں۔ پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی ممبرشپ مہم کے موقع پر پریس کلب مظفرآباد میں ایک کنونشن بھی منعقد کیا گیا۔ وزیر اعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے پیپلز پارٹی خواتین ممبر شپ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی خواتین ونگ کی صدر شاہین کوثر ڈار اور ان کی ٹیم کو بہترین پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں۔