کراچی کیوں پیچھے رہ گیا؟

تحریر : طلحہ ہاشمی


صدر مملکت آصف علی زرداری کے دورۂ چین میں متعدد اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، ان میں سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

 اس معاہدے پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن اور چینی گروپ کے نمائندے نے دستخط کیے۔ زرعی ٹیکنالوجی تعاون کے معاہدے پر بھی شرجیل میمن نے دستخط کیے۔ بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں سمندری پانی کو میٹھا بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور مستقبل میں پانی کے بحران پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ان کاکہنا تھا کہ یہ معاہدے اہم سنگ میل ہیں، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ کراچی سمیت سندھ کے کئی علاقوں کوپانی کی شدیدقلت کا سامنا ہے اور سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کا منصوبہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ خلیجی ملکوں سمیت دنیا بھر میں ایسے متعدد منصوبے کام کر رہے ہیں۔

ادھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی کمر کس لی ہے۔ وہ بار بار کام کو وقت پر مکمل کرنے کی ہدایات دیتے رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ ذمہ داران کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔اب وزیر اعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں میں نگرانی کا عمل سخت کرنے کی ہدایت کی ہے اورمعیار پر بھی کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی سختی اور برہمی جائز ہے، صوبے کے دیگر شہروں کا حال اپنی جگہ مگر کراچی کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اداروں کی باہمی رابطہ کاری کا یہ حال ہے کہ ایک ادارہ سڑک بنا کر ابھی پسینا بھی خشک نہیں کرپاتا کہ دوسرا کوئی ادارہ یوٹیلیٹی سروس کے نام پر سڑک کھود ڈالتا ہے، پھر وہ سڑک استرکاری کا انتظار کرتی رہ جاتی ہے اور عوام کے نصیب میں دھول، مٹی کے سوا کچھ نہیں آتا۔ یونیورسٹی روڈ ہی کی مثال لے لیں، منصوبہ کئی برس کی تاخیر کا شکار ہے، اور یہ کب مکمل ہوگا اس کی پیشگوئی بھی ممکن نہیں، البتہ صوبائی حکومت نے بی آر ٹی یونیورسٹی روڈ کی لاٹ ٹو کا کام پرانے ٹھیکیدار سے واپس لے کر اب فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے سپرد کر دیا ہے۔ بقول وزیراعلیٰ لاٹ ٹو کا ٹھیکہ چارسال قبل دیا گیا تھا مگر کام کا معیار بہتر نہیں تھا۔ اگر ایسا ہی تھا تو کام کا معیار پہلے کیوں چیک نہ کیا گیا، چارسال بعد یاد آیا کہ کام بھی چیک کرلینا چاہیے؟ وزیراعلیٰ کو تو چاہیے کہ معیار چیک نہ کرنے والوں کو بھی گھر بھیج دیں تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔ ایک طرف حکومت عوامی مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے تو دوسری طرف غیرذمہ دار افراد کی وجہ سے شرمندگی اٹھانا پڑتی ہے۔ 

سانحہ گل پلازہ کے متاثرین میں چیک تقسیم کی تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ جب لوگ ان سے یہ سوال کرتے ہیں کہ یونیورسٹی روڈ کیوں نہیں بناتے تو انہیں شرمندگی ہوتی ہے۔ مراد علی شاہ نے صحیح کہا، کیا وزیراعلیٰ خود جاکر سڑک بنائے گا؟ منصوبے کی منظوری، بجٹ یہ ذمہ داریاں تو انہوں نے اچھی طرح پوری کیں، دیگر محکموں کو بھی ذمہ داری کا بار اٹھانا چاہیے۔ ایسے ہی غیرذمہ دار افراد یا محکموں کی وجہ سے حکومت کو کڑوی کسیلی سننا پڑتی ہیں۔ ہم نے کئی بار شہر کی تباہ حال سڑکوں کا ذکر کیا ‘ان میں ایک ابوالحسن اصفہائی روڈ بھی ہے، وہاں بھی یہی ہوا کہ گیس پائپ لائن کے نام پر سڑک کو کھودا گیا اور پھر یوں ہی چھوڑ دیا گیا لیکن مہینوں بعد اب سڑک کی استرکاری شروع کردی گئی ہے جو خوش آئند بات ہے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے تو کراچی میں ترقیاتی منصوبوں کو کرپشن اور نااہلی کا شاہکار قرار دے دیا اور کہا کہ بلاول کی سیاست محض دعوؤں پر مبنی ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر نے یونیورسٹی روڈ کو فوری طور پر قابلِ استعمال بنانے اور منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے حکومت پر اپنی نااہلی چھپانے کا الزام بھی عائد کیا۔ منعم ظفر نے منصوبے کی نئی لاگت بھی عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر سے اپوزیشن کو تنقید کا موقع ملتا ہے اور تنقید جائز بھی ہوتی ہے۔ اب پرانے ٹھیکیدار سے منصوبہ واپس لے کر نئے کے حوالے کرنے سے امید کی جاتی ہے کہ کام بہتر ہوگا اور جلد مکمل بھی ہوجائے گا۔

 میر مرتضیٰ بھٹو کے صاحبزادے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر آہستہ آہستہ سیاسی میدان میں قدم رکھ رہے ہیں۔ ان کا تازہ بیان اس کی توثیق کر رہا ہے کہ وہ الیکشن بھی لڑ سکتے ہیں اور کسی الائنس کا حصہ بھی بن سکتے ہیں۔انہوں نے چند روز قبل میڈیا سے گفتگو کی اور کہا کہ الائنس بنانا الگ بات ہے لیکن کسی پارٹی میں شمولیت خارج از امکان ہی ہوگی۔ انہوں نے تنقید بھی کی اور کہا کہ وہ منافق نہیں ہیں کہ جنہیں قاتل کہہ کر پکاریں پھر انہی سے جاکر ہاتھ بھی ملا لیں۔ انہوں نے شکوہ بھی کیا کہ ہمارے خاندان کا کیس ابھی تک حل طلب ہے، انصاف کے لیے دربدر گھوم رہے ہیں۔ ذوالفقار بھٹو جونیئر کی سیاست میں آمد اچھی خبر ہے۔ انہوں نے مستقل مزاجی دکھائی تو بہت سے لوگ ان کا ہاتھ تھامنے آجائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا

امریکہ اور ایران میں سیز فائر تو جاری ہے مگر غیر یقینی صورتحال دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے جنگ بندی کے اثرات عالمی مارکیٹس تک پہنچنے نہیں دیئے۔

پنجاب میں بلدیاتی انتخاب، تاخیر کیوں ؟

سلگتے عوامی مسائل اور مہنگائی کے رجحان پر جوابدہ کون؟

گڈ گورننس خواب بن گئی!

پاکستان تحریک انصاف کے پارٹی ورکرز صوبائی حکومت کو الزامات دے رہے ہیں۔ ایک طرف سلمان اکرم راجہ ہدف تنقید ہیں تودوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ورکروں کی تنقید کے نشانے پر ہیں۔

تجارتی راہداریوں سے جڑی امیدیں

بلوچستان ایک بار پھر قومی ترقی کے بیانیے کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے۔ حکومت پاکستان کی پالیسیوں سے واضح ہوتا ہے کہ ریاست اب معاشی استحکام، علاقائی رابطوں اور عوامی شمولیت کو زمینی حقیقت میں بدلنے کے لیے پر عزم ہے۔

آزاد کشمیر، نئی انتخابی صف بندیاں

آزاد جموں و کشمیر میں اس سال جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایک طرف پیپلزپارٹی عوامی جلسے کر رہی ہے تو دوسری جانب مسلم لیگ (ن) ہم خیال مذہبی جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں مصروف ہے۔

موسم گرما گھر کی سیٹنگ، صحت اور جلد کی حفاظت

ہمارے ملک میں گرمیوں کا موسم سخت اور طویل ہوتا ہے خاص طور پر مئی سے اگست تک درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے گھریلو ماحول کو بہتر بنائیں بلکہ اپنی صحت اور جلد کی مناسب دیکھ بھال بھی کریں۔ گرمیوں میں متوازن، صحت مند اور آرام دہ طرزِ زندگی اپنانے کے لیے یہ تجاویز اور مشورے مفید ہو ثابت ہو سکتے ہیں ۔