تجارتی راہداریوں سے جڑی امیدیں
بلوچستان ایک بار پھر قومی ترقی کے بیانیے کے مرکز میں آ کھڑا ہوا ہے۔ حکومت پاکستان کی پالیسیوں سے واضح ہوتا ہے کہ ریاست اب معاشی استحکام، علاقائی رابطوں اور عوامی شمولیت کو زمینی حقیقت میں بدلنے کے لیے پر عزم ہے۔
ایران سے ٹرانزٹ تجارت کے لیے نئی راہداریوں کا قیام اور گوادر میں گرینڈ جرگہ ایک ہی جامع حکمتِ عملی کے دو اہم ستون ہیں۔ایک طرف معیشت کو سہارا دینے کی کوشش ہے تو دوسری جانب عوامی اعتماد بحال کرنے کی۔ یہی امتزاج اس پالیسی کو دیرپا بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ٹرانزٹ آف گڈز تھرو پاکستان آرڈر 2026کے تحت نئی تجارتی راہداریوں کا قیام ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ محض راستوں کا اضافہ نہیں بلکہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔گوادر سے تفتان تک پھیلا ہوا یہ نیٹ ورک، جس میں کراچی کی پورٹ قاسم، پسنی، تربت، پنجگور، خضدار، تفتان، چمن اور کوئٹہ جیسے اہم مراکز شامل ہیں، ایک مکمل معاشی ایکو سسٹم کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف ساحلی علاقوں کو سرحدی منڈیوں سے جوڑا جا رہا ہے بلکہ بلوچستان کے دور افتادہ اضلاع کو بھی قومی معیشت کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔اس سے ٹرانزٹ فیس، لاجسٹکس اور پورٹ ہینڈلنگ سے زرِ مبادلہ میں اضافہ، مقامی سطح پر روزگار کے مواقع اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں وسعت پیدا ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی اور تجارتی عمل میں شفافیت کا فروغ بھی اس پالیسی کے اہم پہلو ہیں۔ گوادر پورٹ جو طویل عرصے سے اپنی مکمل استعداد سے کم استعمال ہو رہا تھا، اب ایک فعال تجارتی مرکز بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
دوسری جانب گوادر میں منعقدہ گرینڈ جرگہ عوامی شمولیت کی پالیسی کا عملی اظہار ہے۔گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں منعقد ہونے والے اس جرگے میں قبائلی عمائدین، ماہی گیر، تاجر اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ ترقی کے عمل کو وسیع اور جامع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گوادرجو سی پیک کا دل ہے، مستقبل میں عالمی تجارتی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بلیو اکانومی، ماہی گیری اور نوجوانوں اور خواتین کی شمولیت جیسے اقدامات اس ویڑن کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ شہر صرف بندرگاہ نہیں بلکہ ایک جدید معاشی حب بن سکتا ہے۔گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ بلوچستان کی ترقی کا دارومدار معاشی و معاشرتی سرگرمیوں میں عوامی شرکت، قبائلی ہم آہنگی اور حکومتی اقدامات کے تسلسل پر ہے،میں گوادر کے غیور باشندوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آپ کا مستقبل بہت روشن ہیں، شاندار میگا پراجیکٹ سی پیک کی تکمیل سے گوادر پورے خطے کی معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا۔گوادر میں منعقدہ گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر بلوچستان نے کہا کہ گوادر میں ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے عوام کو مستفید کرنے کیلئے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہیں اور خواتین، نوجوانوں اور ماہی گیر برادری کو معاشی طور پر مضبوط بنانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ گوادر گرینڈ جرگہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کمانڈر بارہ کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمدخان اور جی او سی گوادر سمیت اعلیٰ سرکاری افسران، ایم پی اے گوادر مولانا ہدایت الرحمان، منتخب عوامی نمائندگان، قبائلی عمائدین، ضلعی انتظامیہ، سکیورٹی اداروں، تاجر برادری، ماہی گیروں کے نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ گوادر گرینڈ جرگہ میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال بالخصوص مکران ڈویڑن اور گوادر کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات سے متعلق اہم نکات زیر بحث آئے۔گورنربلوچستان شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہم سیاسی لوگ ہیں اور آئین کے دائرے میں مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ اس وقت بلوچستان کے بعض اضلاع میں بدامنی اور شورش کا مسئلہ ضرور ہے جس کا پائیدار سیاسی حل ہم باہمی مشاورت اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے بآسانی نکال سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر کی بلیو اکانومی، جاری عظیم ترقیاتی منصوبوں، ماہی گیری اور گوادر یونیورسٹی کے ثمرات پر روشنی ڈالنا ضروری ہے لیکن گوادر اور اس سے متصل علاقوں کے لوگوں کو درپیش مسائل و مشکلات سے آگہی اور ان کا فوری حل ڈھونڈنا بھی بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈویژنل سطح پر جرگوں کے انعقاد سے معاشرے کی خاموش اکثریت کی رائے معلوم کرنے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر سرکاری اداروں کو بیدار کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ گرینڈ جرگہ کے شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے حکومت، سکیورٹی اداروں اور عوام کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور گوادر کو ایک پرامن، ترقی یافتہ اور عالمی معیار کا شہر بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے بیانات اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ محض سکیورٹی نہیں بلکہ گہری سیاسی نوعیت کا حامل ہے۔پارلیمنٹ کی کمزور ہوتی ساکھ اور عوامی مینڈیٹ پر سوالات خطرناک خلا پیدا کر رہے ہیں۔ اگر لوگوں کو یہ احساس ہو جائے کہ ان کی آواز نہیں سنی جا رہی تو وہ شدت پسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ڈھاڈر اور یک مچ میں پیش آنے والے واقعات جہاں گزشتہ ہفتہ مسلح افراد نے پولیس تھانوں پر حملہ کیا اور آگ لگا دی، اس امر کا ثبوت ہیں کہ سکیورٹی صورتحال اب بھی نازک اور ریاست کے لیے یہ ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔ امن قائم رکھنا بھی اور عوامی اعتماد بحال کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ طاقت کے استعمال سے وقتی سکون تو حاصل ہو سکتا ہے مگر پائیدار امن نہیں۔اسی طرح صرف مذاکرات پر انحصار بھی کافی نہیں، جب تک سکیورٹی بہتر نہیں ہوگی بلوچستان کے مسائل کاپائیدار حل ناممکن ہے، لہٰذا توازن کی حکمتِ عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔سیاسی عمل شفاف اور مضبوط بنایا جائے،عوامی نمائندوں کو اختیارات دئیے جائیں اور تمام سٹیک ہولڈرز کو مذاکرات میں شامل کیا جائے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی اور معدنی اثاثہ ہے، اگر ریاست اور سیاسی قیادت نے مل کر متوازن اور سنجیدہ حکمتِ عملی اپنائی تو آج کی بے یقینی کل کے استحکام میں بدل سکتی ہے۔
بلوچستان کی راہداریوں سے جڑی امیدیں محض معاشی منصوبے نہیں بلکہ ایک نئے سماجی معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ ترقی کے ساتھ اعتماد اور سکیورٹی کے ساتھ سیاسی عمل کو بھی برابر اہمیت دی جائے۔