حلال کمائی :دنیا و آخرت کی کامیابی
’’حلال مال کا طلب کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے‘‘ (المعجم الاوسط للطبرانی: 8610) اپنے کھانے کو پاک کرو! جب کوئی شخص حرام کا لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے تو 40 دن تک اللہ تعالیٰ اُس کا عمل قبول نہیں کرتا‘‘ (حدیث مبارکہ)
حلال رزق میں برکت ہی برکت ہے، جس کے بڑے اثرات ہیں۔ اللہ رب العزت نے ہمارے استعمال اور فائدے کیلئے متعدد نعمتیں پیدا فرمائی ہیں۔ ساتھ ہی یہ تاکید بھی کر دی کہ ہم ان نعمتوں کو استعمال کرتے ہوئے اللہ کے احکامات سے نہ ہٹیں۔ اپنے اہل و عیال کیلئے روزی کمانا اور ان کے آرام و آسائش کیلئے جدوجہد کرنا ہر انسان کا فرض ہے۔ یہ ساری جدوجہد اور کوشش ایک حد میں ہو تو ٹھیک ہے۔ ایسا نہ ہو کہ انسان اپنے پیاروں کیلئے آسائشیں حاصل کرنے کی خاطر ہر حد سے گزر جائے اور اپنی زندگی کو دنیا میں بھی جہنم بنالے اور آخرت میں بھی اپنے لیے ناکامی اور رسوائیاں خرید لے۔
قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں ’’اے مؤمنو! خود کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے‘‘ ( التغابن:6)۔ اس آیت میں رب العزت نے ہمیں بتادیا کہ ناجائز طریقے سے دولت کمانا کتنا بڑا گناہ ہے، اس کی پاداش میں دوزخ کی آگ میں جلنا ہو گا۔ اس آیت پر غور فرمائیں تو یہ بھی معلوم ہوگا کہ صرف ناجائز کام کرنے والا ہی آگ میں نہیں جلے گا بلکہ اس کے گھر والوں کو بھی یہ سزا ملے گی۔ اسی لیے فرمایا گیا ہے کہ اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔
یہاں ہمیں ایک بہت اہم بات یاد دلائی گئی ہے۔ ہم اپنی اولاد کو، اپنے بیوی بچوں کو اپنی دولت قرار دیتے ہیں اور ان کی خوشیوں کیلئے سب کچھ کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ قرآن مجید میں صاف بتایا جا رہا ہے کہ بیوی بچے ہمارے لیے آزمائش ہیں۔ اگر ہم اس امتحان میں پورے اترے یعنی ہم نے ان کی صحیح تربیت کی اور انھیں حلال روزی کھلائی تو آخرت میں کامیابی ہو گی، اگر ہم نے اس اولاد کی تربیت پر توجہ نہیں دی اور اس کیلئے حلال و حرام کی تمیز نہ رکھی تو پھر ہم ناکام ہوں گے اور اس کی سزا سے ہمیں کوئی نہیں بچا سکے گا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’بیشک اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اسی بات کا حکم فرمایا ہے جس کا اپنے رسولوں کو حکم دیا تھا، اے رسولو! پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرتے رہو‘‘ (المؤمنون:51)، پھر مومنین کو مخاطب کرکے فرمایا ’’اے ایمان والو! پاک چیزوں میں سے کھا ؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں‘‘ (البقرہ: 172)، پھر آپﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر فرمایا جو ایک طویل سفر طے کرکے آتا ہے اور بال بکھرے ہوئے اورغبار آلود ہیں، وہ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھا کر پکارتا ہے اے رب! اے رب! (یعنی دعائیں کرتا ہے)حالانکہ اس کا کھانا حرام ہے، اس کا پینا حرام ہے، اس کا لباس حرام ہے اور اسے حرام غذا کھلائی گئی ہے تو بھلا ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو سکتی ہے‘‘ (صحیح مسلم، جامع ترمذی، مشکوٰۃ شریف)۔
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا ’’رزق ِحلال کا طلب کرنا ہر مسلماں (مرد و عورت) پر فرض ہے‘‘ ( الترغیب و الترہیب)۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص حلال روزی اس لئے حاصل کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سوال کرنے سے بچاسکے اور اپنے اہل و عیال کا خرچ اٹھا سکے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آ سکے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اِس حال میں زندہ فرمائے گاکہ اس کا چہرہ چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکدار اور روشن ہوگا‘‘(احیاء العلوم)۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ ’’چار چیزیں ایسی ہیں اگر وہ تمہیں حاصل ہو جائیں اور باقی دنیا کی کوئی چیز تمھیں حاصل نہ ہو تو کوئی افسوس کی بات نہیں ہے، وہ چار چیزیں یہ ہیں(1) امانت کی حفاظت، (2) بات کی سچائی، (3) حسن خلق، (4) رزقِ حلال (الترغیب و الترھیب، مجمع الزوائد، مسند امام احمد)۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرما یاکہ جو شخص اپنے بوڑھے والدین کیلئے حلال روزی کماتا ہے اور دوڑ دھوپ میں رہتا ہے، وہ اللہ کے راستہ میں ہے اور جو آدمی اپنے چھوٹے بچوں کی پرورش کیلئے محنت و مشقت کرتا ہے وہ بھی اللہ کے راستے میں ہے اور جو آدمی اپنی ذات کیلئے محنت کرتا ہے تا کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے اور لوگوں سے بے پرواہ ہو جائے تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے‘‘ (احیاء العلوم، جلد 2، صفحہ 87)۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’و ہ جسم (اپنی سزاپائے بغیر) جنت میں داخل نہیں ہوگا، جس کی پرورش حرام غذا سے کی گئی ہو‘‘ (صحیح بخاری، الترغیب والترھیب، مشکوٰۃ)۔
حر ام مال میں چوری کا مال، سود کا مال، رشوت کا مال، اسمگلنگ کا مال، اجرتِ زنا، اجرتِ قتل، اغواء برائے تاوان کا مال، غصب شدہ مال، یتیم کا مال، کم ناپ تول سے حاصل شدہ مال وغیرہ شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کم تولنے والوں کیلئے ناراضگی کا اظہار یوں کیا ہے۔ ’’بہت بڑی خرابی ہے (ناپ تول میں) کمی کرنے والوں کیلئے، جب وہ لوگوں سے (اپنا حق) ناپ تول کرلیتے ہیں تو پوراپورا لیتے ہیں، اور جب لوگوں کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو (ان کو) کمی کرکے دیتے ہیں، کیا وہ اتنا خیال بھی نہیں رکھتے کہ انہیں (قبروں سے) اٹھایا جائے گا ایک بڑے دن کیلئے جس دن تمام لوگ(اپنے اعمال کی جوابدہی کیلئے) اپنے رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے‘‘ (المطففین1-6)۔
دعا ہے کہ اللہ جل شانہ ہمیں رزق حلال کمانے کی اور اپنی اولادوں کو کھلانے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین