ایکس (ٹویٹر) پر ایک دلچسپ ٹویٹ پڑھا تو اس کا سکرین شاٹ لے کر اپنے ایک دوست کو وَٹس ایپ کر دیا‘ جو ایک سرکاری افسر ہیں۔ یہ نسبتاً ایماندار ہیں لہٰذا پاکستان میں ایمانداروں کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے‘ وہ ان کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ ان کو وَٹس ایپ میسج بھیجنے کی وجہ یہ تھی کہ ان سے میری کئی برسوں سے بحث چل رہی ہے کہ اگر بیورو کریسی چاہے تو کرپشن نہیں ہو سکتی۔ سرکاری افسران کی ملی بھگت کے بغیر ایک روپے کی کرپشن کرنا بھی محال ہے‘ بلکہ میں تو انہیں کہتا کہ آپ بڑی بڑی رقوم کو چھوڑیں‘ اگر ایک وزارت کا کلرک یا سیکشن افسر ایک وفاقی وزیر کے انٹرٹینمنٹ الائونس کی منظوری نہ دے تو وزیر صاحب چائے تک نہیں پی سکتے۔ منظوری کے بغیر پئیں گئے تو دو کام ہوں گے: یا تو اپنی جیب سے انہیں چائے اور مہمانوں پر ہوئے اخراجات کا بل دینا ہوگا‘ اگر نہیں دیں گے اور سرکاری خرچے سے پئیں گے تو اسے غیر قانونی سمجھا جائے گا۔ اس پر آڈٹ پیرا بنے گا اور جب آڈیٹر جنرل آف پاکستان وہ آڈٹ پیرا پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سامنے پیش کرے گا تو پی اے سی میں بھلے وزیر موصوف خود ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں‘ ان کو ریکوری کرانا ہو گی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ مشرف دور میں ایڈہاک پبلک اکائونٹس کمیٹی بنائی گئی تھی‘ جس کا چیئرمین ایک سابق بیورو کریٹ ایچ یو بیگ کو بنایا گیا تھا اور ان کے ساتھ سابق فیڈرل سیکرٹریز اور کچھ کارپویٹ سیکٹر سے قابل پروفیشنلز تھے۔ جنرل مسعود طلعت بھی تھے۔ اگرچہ وہ سب بیورو کریٹ تھے لیکن مجھے کہنے دیں کہ اس سے بہتر پی اے سی میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ پچیس سالوں سے میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کور کر رہا ہوں اور اس دوران ایچ یو بیگ کمیٹی؍ ممبران کو سب سے بہتر مانتا ہوں کہ کیا گفتگو اور کیا بحث ہوتی تھی۔ بڑا کچھ سیکھا میں نے ان ممبران سے۔ اُس وقت تو آڈیٹر جنرل بھی دبنگ ہوتے تھے اور ان کا سٹاف بھی۔ اگلے برسوں میں سیاسی حکومتوں کے آتے ہی خوشامدی اور نالائق آڈیٹر جنرل تعینات ہو گئے اور اس ادارے کا بیڑہ غرق ہوتا چلا گیا۔ درمیان میں کچھ عرصہ اختر بلند رانا آئے‘ جنہوں نے اس ادارے کی عزت بڑھائی۔ انہیں بھی ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ چودھری نثار‘ خورشید شاہ اور کمیٹی ممبران کو ٹکڑا گئے تھے۔ لیکن وہ جب تک آڈیٹر جنرل رہے‘ انہوں نے پی اے سی ممبران کو دو نمبری نہیں کرنے دی‘ جو اس وقت عروج پر تھی۔ اس کی سزا تو انہوں نے بھگت لی لیکن اپنے ادارے کی ساکھ پر سمجھوتا نہیں کیا۔
میری اپنے دوست افسر سے بحث رہتی کہ پاکستانی بیورو کریٹس نہ صرف سیاستدانوں کو کرپشن کا راستہ دکھاتے ہیں بلکہ ان کی مدد بھی کرتے ہیں اور خود بھی بڑا حصہ رکھتے ہیں کیونکہ فائل کی منظوری انہوں نے ہی دینا ہوتی ہے۔ اس لیے تو خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پاکستانی بیورو کریٹ پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اکثر بیورو کریٹس کا خاندانی پس منظر دیکھ لیں‘ زیادہ تر لوئر مڈل کلاس سے یا گائوں کے کسانوں‘ استاد‘ امام مسجد یا کلرک کے بچے ہوں گے۔ اگر وہ چند سالوں کی نوکری کے بعد کینیڈا‘ امریکہ‘ انگلینڈ‘ نیوزی لینڈ‘ آسٹریلیا‘ سپین‘ دبئی یا پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں تو اندازہ ہو جانا چاہیے کہ یہ سارا پیسہ کہاں سے آ رہا ہے۔
آپ کو یاد ہو تو گزشتہ سال سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے انکشاف کیا تھا کہ ارکان اسمبلی کیلئے ترقیاتی فنڈ کے نام پر 575 ارب روپیہ مختص کیا گیا۔ اس پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس میں سے تیس فیصد کمیشن کھایا جاتا ہے۔ مان لیا کہ سب ارکان کمیشن نہیں لیتے‘ لیکن اکثر تو لیتے ہوں گے۔ 160 ارب روپے تک تو کمیشن کی شکل میں انہی لوگوں کی جیبوں میں جا رہا ہو گا۔ آپ پوچھیں گے کہ پیسہ ان کی جیب میں کیسے جاتا ہے‘ انہیں کمیشن دیتا کون ہے؟ اس کمیشن میں صوبائی محکمے یا ڈپٹی کمشنر دفتر مدد کرتا ہے۔ اکثر سیاستدانوں نے اپنے رشتہ داروں یا دوستوں کے نام پر ٹھیکیدار کمپنیاں رجسٹرڈ کرا رکھی ہیں۔ ڈی سی ان ارکان کے کہنے پر ان کی پسندیدہ کمپنی کو ترقیاتی کام کا ٹھیکہ دیتا ہے۔ اگر اپنی کمپنی نہ ہو تو جس ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دلوایا جاتا‘ وہ تیس فیصد کمیشن دیتا ہے۔ اس سب کی منظوری مرکزی یا صوبائی حکومت‘ ڈپٹی کمشنر یا متعلقہ محکموں کے افسران دیتے ہیں۔ یہ ذہن میں رکھیں کہ کوئی ممبر اسمبلی خود سے کسی کو ٹھیکہ نہیں دے سکتا۔ یہ سب کام فیڈرل سیکرٹری یا صوبائی سیکرٹری سے لے کر ڈی سی یا صوبائی محکمے کے افسران اپنے دستخطوں سے کرتے ہیں۔ آپ پوچھیں گے کہ ایک سیکرٹری‘ ڈی سی یا سرکاری افسر ایم پی اے یا ایم این اے کے پسندیدہ ٹھیکیدار کو ٹھیکہ دینے سے انکار کر دے تو پھر کیا ہو گا؟ اگر وہ میرٹ پر ٹھیکہ دیتا ہے‘ جو بولی بھی کم دے اور کام بھی معیاری کرے تو اس میں کس کا فائدہ اور کس کا نقصان ہے؟ سارا فائدہ عوام اور ملک کا ہے اور نقصان ان ارکانِ اسمبلی اور ان کے فرنٹ مین ٹھیکیداروں کا ہے‘ جو ایک کروڑ روپے منصوبے کی لاگت پانچ کروڑ بتاتے ہیں اور چار کروڑ خود کھا جاتے ہیں۔ لہٰذا سب کو مرضی کے ڈی سی یا سرکاری افسران درکار ہوتے ہیں‘ جن کے دستخطوں سے کام چلتا رہے۔ آپ کو یاد ہو تو ترکیہ کے بجلی پیدا کرنے والے کرائے کے جہاز کے ساتھ ڈیل کرتے وقت اس وقت کے سیکرٹری واٹر اینڈ پاور نے پیسہ پکڑا تھا۔ بعد میں وہ پکڑا گیا تو نیب سے پلی بارگین کر کے صرف چار کروڑ دے کر گھر چلا گیا۔ چار کروڑ اس لیے کہ اس کی سفارشیں بہت تگڑی تھیں۔ ورنہ ایک سیکرٹری‘ جس کے دستخط سے پانچ سو ملین ڈالر کا کنٹریکٹ سائن ہو رہا ہو‘ وہ چار کروڑ لے گا؟ اس رقم سے تو اسلام آباد میں دس مرلے کا پلاٹ تک نہیں ملتا۔ میں اپنے دوست کو یہی کہتا ہوں کہ اگر بابوز اس ملک کے ہمدرد ہوتے تو خود بھی پرتگال میں جائیدادیں نہ بناتے اور نہ ہی سیاستدانوں کو دنیا کے پانچ براعظموں میں جائیدادیں بنانے میں مدد دیتے۔ وہ دوست کہتا ہے کہ اگر افسر یہ سب نہ کرے تو اس کو ہٹا دیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ اگر وہ ایماندار افسر ہے تو اسے کیا مسئلہ؟ تنخواہ‘ سرکاری گاڑی ‘ سرکاری گھر تو پھر بھی ملتا رہے گا۔ اگر اس کی جگہ آنے والا افسر بھی غلط کام نہ کرے‘ اور بالفرض اسے بھی ہٹا دیا جائے تو جب مسلسل تیسرا افسر بھی انکار کرے گا تو بریک لگ جائے گی۔ لیکن یہاں ایک ایماندار کی جگہ دس بے ایمان لائن میں لگے ہیں۔
اب آپ کو تجسس ہو گا کہ میں نے کون سا سکرین شاٹ اپنے دوست کو بھیجا تھا۔ وہ سکرین شاٹ امریکہ کی یوکرین میں تعینات خاتون سفیر کا ایک ٹویٹ ہے‘ جو اس نے صدر ٹرمپ کے روس کے ساتھ تعلقات اور یوکرین کو مدد نہ دینے کے خلاف کیا ہے‘ کہ وہ مزید یوکرین میں امریکہ کی نمائندگی نہیں کر سکتی کیونکہ اسے صدر ٹرمپ کی پالیسی سے شدید اختلاف ہے۔ اس ٹویٹ کو امریکہ کی یوکرین میں ایک اور سابق خاتون سفیر نے ری ٹویٹ کر کے کہا کہ میں نے بھی اس لیے سفارت چھوڑ دی تھی کہ مجھے صدر ٹرمپ کی پالیسی پر شدید اعتراضات تھے۔ ان کے بقول وہ صدر ٹرمپ کے 'غلط فیصلوں‘ کو ایک خوبصورت پیکنگ کے ساتھ دنیا کو سیل نہیں کر سکتیں‘ لہٰذا انہوں نے گھر جانے کا آپشن چنا۔ یہی میرا مدعا رہا ہے کہ اگر آپ اپنی تنخواہ میں گزارہ کرنے والے افسر ہیں‘ بقول خواجہ آصف وہ افسر نہیں جو پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں‘ تو پھر کرائم پارٹنر بننے کے بجائے اس سیٹ کو چھوڑ دینا بہتر ہونا چاہیے۔ یہی کام ایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی نے کیا تھا اور اب دو امریکی سفیروں نے کیا ہے۔ اگر ہم خود کرپٹ نہیں اور جس سیٹ پر بیٹھے ہیں‘ وہاں سے ذاتی فائدے نہیں لے رہے‘ تو پھر کیوں کسی کی دولت یا غلط پالیسیوں کو بڑھانے کا ذریعہ بنیں؟