حضرت عائشہ صدیقہؓ:اخلاق و کردار کا روشن مینار

تحریر : مولانامحمدطارق نعمان گڑنگی


خادمہ ہونے کے باوجود آپؓ نبی کریم ﷺ کے کام خود انجام دیتیں، آٹا پیستیں، کھانا پکاتیں، بستر بچھاتیں: سیدہ عائشہ ؓسے مروی احادیث کی تعداد 2210 ہے، کثرت کے ساتھ غلاموں کو آزاد کیا، حج کی پابند تھیں

اہل اسلام ایک خاندان کی مانند ہیں، جن کے روحانی باپ رسول اللہﷺ اور قرآن کریم کی تصریح کے مطابق آپﷺ کی ازواج مطہرات روحانی مائیں ہیں۔ اولاد کی اخلاقی، علمی اور فکری تربیت میں والد کا کردار بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن ماں کے کردار کا انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اہل اسلام کی ان عظیم ماؤں نے اپنے اقوال و افعال، عمدہ اخلاق اور اعلیٰ کردار سے اُمت کی تربیت کی ہے۔ انہی میں سے ایک عظیم المرتبت، عظیم النسبت اور جلیل القدر ماں جناب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں ۔ 

اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ نبی کریمﷺکی زوجہ اور خلیفہ اوّل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبزادی ہیں، مسلمانوں کی ماں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آ پ ؓ کو بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت کے چار سال بعد پیدا ہوئیں۔ آپؓ انتہائی ذہین تھیں اور انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ علمی طور پر صحابیاتؓ میں سب سے بڑی فقیہہ تھیں۔ امت محمدیہ تک عورتوں کے اکثر مسائل اور چوتھائی دین احادیث کی صورت میں آپؓ کے ذریعہ سے ہی پہنچا۔ 

نام و سلسلہ نسب

عائشہ، صدّیقہ اور حمیرہ لقب، اُمّ عبداللہ کنیت، قریش کے خاندان بنو تمیم سے تھیں۔ والدہ کا نام امّ رومان بنت عامر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہا بعثت نبوی کے 4 یا 5سال بعد پیدا ہوئیں۔

فضائل ومناقب 

اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہؓ کو بیشمار فضائل سے نوازا تھا، ان میں بعض فضیلتیں ایسی ہیں جو صرف حضرت عائشہ ؓ کو عطا ہوئیں۔ خود فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی خوبیاں عطا کی ہیں جو میرے علاوہ کسی کو نہیں ملیں۔ (1)نکاح سے پہلے فرشتے نے آپﷺ کے سامنے میری صورت پیش کی۔ جیساکہ امام ترمذی سیدہ عائشہ ؓسے مروی ایک حدیث نقل کرتے ہیں: حضرت جبرائیل ؑ ان کی تصویر سبز رنگ کے ریشم میں لپیٹ کر نبی کریمﷺ کے پاس لائے اور کہا: یہ دنیا اور آخرت میں آپ ﷺ کی رفیقہ حیات ہیں (جامع ترمذی: 3880)۔ (2) میری عمر سات سال تھی جب رسول اللہﷺ نے مجھ سے نکاح فرمایا۔ اتنی چھوٹی عمر میں حضورﷺ نے کسی اور بیوی سے نکاح نہیں فرمایا۔(3)جب میری رخصتی ہوئی تو میری عمر نو سال تھی۔(4)ازواج مطہرات میں سے صرف میں کنواری پیغمبر ﷺ کے حرم میں آئی۔ (5)حضورﷺ پر وحی میرے بستر پر نازل ہوتی۔ (6) حضور ﷺ  سب سے زیادہ محبت مجھ سے کرتے،  (7)اللہ تعالیٰ نے میری برات کیلئے قرآن کریم کی آیات نازل فرمائیں۔ (8)میں نے جبرائیل امین ؑ کو دیکھا ہے۔ (9)حضور ﷺ کا انتقال مبارک میرے حجرے میں ہوا (المستدرک للحاکم: 6790)۔ 

حرمِ نبوت میں 

آپ رضی اللہ عنہا کی فضیلت و منقبت ہر لمحہ روبہ ترقی رہی۔ جہاں آنکھ کھولی وہ گھر صداقت کا گہوارہ تھا، جہاں جا کر ازدواجی زندگی بسر کی وہاں نبوت کا بسیرا تھا۔آپؓ واحد اُم المؤمنین ہیں جو حرم رسولﷺ میں کنواری داخل ہوئیں۔ نبی کریم ﷺ نے نکاح سے پہلے انہیں دو مرتبہ خواب میں دیکھا کہ وہ ریشمی کپڑے میں ملبوس ہیں، کوئی شخص آپ ﷺ سے کہتا ہے کہ یہ آپﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں۔ آپ ﷺ دوران خواب ہی فرماتے ہیں کہ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو ایسا ہوجائے گا۔ اسی خواب کی بنیاد پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓکے ہاں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام بھجوایا۔ شوال کے مہینے میں چار سو درہم کے حق مہر پر آپؓ کا نکاح ہوا۔ نکاح کے کچھ عرصہ بعد تک آپؓ میکہ میں رہیں۔ بالآخر ہجرت کے بعد آپؓ مدینہ طیبہ تشریف لے گئیں اور وہاں آپؓ کی رخصتی ہوئی۔ آپﷺ نے اُمہات المومنین سے جو ازدواجی سلوک کا سبق اُمت کو دیا ہے۔ بالخصوص سیدہ عائشہؓ کے ساتھ نرمی شفقت اور تربیت کا برتائو وہ ہم سب کے قابل عمل نمونہ ہے۔

امام مسلم نے فضائل عائشہؓ کے تحت اپنی صحیح میں حدیث ذکر کی ہے کہ آپ ﷺ جب گھر میں تشریف لاتے سیدہ عائشہؓاپنی سہیلوں کے ساتھ گڑیوں سے کھیل رہی ہوتیں۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ’’ازراہ محبت‘‘ سیدہ عائشہ ؓ کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ دوڑ لگانے کو کہا چنانچہ جب دوڑ لگائی تو اپنی بیوی کا دل رکھنے کیلئے از خود پیچھے رہ گئے اور سیدہ عائشہؓ پہلے پہنچ گئیں۔ ایک مرتبہ کسی سفر سے واپسی پر نبی کریم ﷺ نے پھر دوڑ لگانے کا کہا اس بار آپﷺ مقررہ جگہ تک جلدی پہنچ گئے اور فرمایا یہ ادلے کا بدلہ ہے۔ باہم خوش مزاجی کے ایسے واقعات ہیں کہ اگر ہمارے گھریلو نظام زندگی میں ان کو اپنا لیا جائے تو گھروں میں پروان پاتی رنجشیں، کدورتیں اور نفرتیں اپنی موت آپ مر جائیں اور خوشیوں سے گھر جنت کا نقشہ پیش کرنے لگے۔ 

درسگاہ نبوت میں 

نبی کریم ﷺخود فرماتے ہیں کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا۔ معلم انسانیت ﷺ نے نور علم سے جن ہستیوں کوفیضیاب کیا ان میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنی لاڈلی اور محبوب بیوی کو دنیا کی سلیقہ مندی ، آداب معاشرت، تہذیب و شائستگی سے شناسا بھی کرایا اور کتاب و حکمت اورفقہ و اجتہاد سے بھی آشنا کرایا۔ معاشرتی زندگی میں باہمی برتائو کا طریقہ اور نجی زندگی میں فکر آخرت کی دولت بھی عطا فرمائی۔ گھریلو زندگی میں سوکنوں سے حسن سلوک کا درس بھی دیا اور سوتیلی اولادوں سے محبت کا سبق بھی۔ 

عمدہ اوصاف

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمدہ اوصاف کی جھلک سیرت کی کتابوں سے چھلک رہی ہے۔ انتہاء درجے کی عبادت گزار تھیں چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تہجد کیلئے اٹھتے تو آپؓ بھی اٹھتیں اور نماز تہجد ادا فرماتیں۔ چاشت کی نماز میں کبھی ناغہ نہ کرتیں۔اکثر روزہ سے ہوتیں۔ ایک دفعہ گرمیوں عرفہ کادن تھا آپ روزے سے تھیں گرمی اس قدر سخت تھی کہ بار بار سر پر پانی ڈالتیں۔ آپؓ کے بھائی حضرت عبدالرحمان نے کہا جب اتنی گرمی تھی تو روزہ کیوں رکھا؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں بھلا یوم عرفہ کا روزہ کیسے چھوڑ سکتی ہوں جبکہ میں نے نبی کریم ﷺسے خود سنا ہے کہ عرفہ کا روزے سال بھر کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔حج کی پابند تھیں بہت کم ایسا ہوا کہ آپؓ نے حج نہ کیا ہو۔ آپؓ نے کثرت کے ساتھ غلاموں کو آزاد کیا۔ شرح بلوغ المرام میں ہے کہ آپ کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد 67 ہے۔ حاجت مندوں کا بہت خیال فرماتیں۔ مالی صدقہ کثرت سے دیتیں۔ فقراء اور مساکین کو بہت نوازتیں۔ ان کی عزت و توقیر کا خیال رکھتیں۔ 

علمی کمالات

جامع الترمذی میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ  کی روایت موجود ہے کہ ہم اصحاب محمد ﷺ کو جب کوئی مشکل بات پیش آ جاتی تو ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رجوع کرتے اور وہ ہماری رہنمائی فرماتیں۔ مستدرک حاکم میں حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا فرمان موجود ہے آپ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سب سے زیادہ دین کی سمجھ رکھنے والی ، لوگوں میں زیادہ علم رکھنے والی اور دینی معاملات میں سب سے بہتر رائے دینے والی تھیں۔

 امام ابن سعد نے طبقات میں لکھا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے بڑے بڑے صحابہ کرامؓ دین کے بارے میں سوالات کرتے آپ رضی اللہ عنہا ان کو جواب عنایت فرماتیں۔ امام زرقانی نے حاکم و طبرانی سے بسند صحیح نقل کیا ہے کہ عروہ بن زیبر ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن ، علم میراث ، حلال و حرام ، فقہ و اجتہاد، شعر و ادب ، حکمت و طب، تاریخ عرب اور علم النساب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔

 امام سخاوی رحمہ اللہ نے فتخ المغیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرویات کی تعداد 2210 بتا کر کے آپ کو کثیرالروایۃ صحابہ کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

پاکدامنی کی قرآنی شہادت

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے زندگی کے بہت سے واقعات ایسے ہیں جو حوادثات کہلاتے ہیں۔ دشمنان اسلام منافقین نے آپ کی عفت پاکدامنی پر انگلیاں بھی اٹھائیں۔ جسے عرف عام میں واقعہ افک کہا جاتا ہے یہ بہت دلخراش سانحہ تھا، کئی دنوں کے صبر واستقلال کے بعد بالآخر اللہ رب العزت نے آپؓ کی پاکدامنی پر قرآنی مہر ثبت کردی جو کہ قرآن کریم کی سورۃ النور میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

خلاصہ قرآن(پارہ 18)

سورۃ المؤمنون: سورہ مؤمنون کی ابتدائی گیارہ آیات تعلیماتِ اسلامی کی جامع ہیں‘ ان میں فلاح یافتہ اہلِ ایمان کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں۔ نمازوں میں خشوع وخضوع‘ ہر قسم کی بیہودہ باتوں سے لاتعلقی‘ زکوٰۃ کی ادائیگی‘ اپنی پاکدامنی کی حفاظت‘ امانت اور عہد کی پاسداری اور نمازوں کی پابندی۔ آخر میں فرمایا کہ ان صفات کے حامل اہلِ ایمان ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔

خلاصہ قرآن(پارہ 18)

سورۃ المؤمنون:اٹھارہویں پارے کا آغاز سورہ مومنون سے ہوتا ہے‘ جس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے اس گروہ کا ذکر کیا ہے جو جنت کے سب سے بلند مقام یعنی فردوس کا وارث بننے والا ہے۔

غزوہ بدر:حق و باطل کا پہلا فیصلہ کن معرکہ

17رمضان المبارک کو ملنے والی فتح اسلام کی عالمگیر ترویج کا پیش خیمہ ثابت ہوئی:اسے قرآن کی اصطلاح میں ’’یوم الفرقان ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء : سورۂ انبیا میں فرمایاگیا ہے: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور وہ غفلت کا شکار ہیں، دین کی باتوں سے رو گردانی کر رہے ہیں اور جب بھی نصیحت کی کوئی نئی بات ان کے پاس آتی ہے تو توجہ سے نہیں سنتے‘ بس کھیل تماشے کے انداز سے سنتے ہیں اور نبی کریم کو اپنے جیسا بشر قرار دیتے ہیں‘ قرآن کو جادو‘ خوابِ پریشاں‘ شاعری اور خود ساختہ کلام قرار دیتے ہیں۔

خلاصہ قرآن(پارہ 17)

سورۃ الانبیاء :سترہویں پارے کا آغاز سورۃ الانبیاء سے ہوتا ہے۔ سورۂ انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے حساب و کتاب کا وقت آن پہنچا ہے لیکن لوگ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔

اعتکاف قرب الٰہی کا سنہری موقع

اعتکاف کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے(بیہقی) ’’جو شخص اللہ کی رضا کیلئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کر دیتا ہے، ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے‘‘ (طبرانی، بیہقی)