مسائل اور ان کا حل

تحریر : مفتی محمد زبیر


تکبیر تحریمہ کے بعد مقتدیوں کا پیچھے بیٹھے رہنا سوال:۔ جب حافظ صاحب تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز تراویح شروع کر دیتے ہیں، تو عموماً مساجد میں دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لوگ بلا عذر پیچھے بیٹھے رہتے ہیں اور جب حافظ صاحب رکوع میں جاتے ہیں تو فوراً کھڑے ہو کر رکوع میں شامل ہو جاتے ہیں، ان لوگوں کا یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟

جواب:۔ نماز تراویح یا کسی بھی نماز کے قیام کے دوران بعض افراد کا سستی و کاہلی کی بنا پر پیچھے بیٹھے رہنا امام صاحب کے ساتھ قیام میں شامل نہ ہونا اور امام کے رکوع کرنے پر فوراً رکوع میں شامل ہو جانا درست نہیں۔ ہاں اگر ایسا سستی کی بنا پر نہ ہو بلکہ عذر، بڑھاپے یا کمزوری کی بنا پر ہو توجائز ہے۔ (النساء: 142)، (وفی الدر المختار وحاشیۃ ابن عابدین 2/ 48) 

رمضان میں اور احرام میں 

نکاح کرنے کا مسئلہ

سوال:۔کیا رمضان میں روزے اور احرام کی حالت میں بھی نکاح ہو سکتا ہے؟ (امتیاز نثار )

جواب:۔احرام کی حالت میں اور روزے کی حالت میں نکاح کرنا جائز ہے،البتہ احرام اور روزے کی حالت میں بیوی سے ملاپ جائز نہیں۔ (وفی سنن أبی داود 701/2) ، (وفی الفتاوی الہندیۃ 502/1)

کفارے کے روزوں کے درمیان 

رمضان کا مہینہ شروع ہونے کا مسئلہ

سوال:۔میرے کفارہ کے تین روزے رہ گئے تھے کہ رمضان شروع ہو گیا، اب میں رمضان کے روزے رکھوں یا کفارے کے روزے پورے کروں؟ (شیر زمان، کوہاٹ) 

جواب:۔کفارے کے روزے مسلسل رکھنا شرعاً لازم ہے،اس صورت میں آخری کچھ روزے رمضان المبارک کے مہینہ میں آنے کی وجہ سے تسلسل ٹوٹ گیا (کیونکہ رمضان کے مہینہ میں رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ رکھنا جائز نہیں،نیزاگر کسی مقیم نے رمضان میں کوئی اور روزہ رکھ لیا تو اس سے رمضان کا روزہ ہی ادا ہو گا)،اس لئے از سرِ نو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا ضروری ہوگا۔( وفی الدر المختار، ص: 240)،(وفی فتح القدیر 9/ 152)

زکوٰۃاور صدقہ فطر کے واجب ہونے کا مسئلہ 

سوال:۔زکوٰۃ کس پر واجب ہے؟ اورصدقہ فطر کس پر واجب ہے؟ (محمدعلی بدین)

جواب:۔زکوٰۃ ہر اس عاقل، بالغ، آزاد مسلمان (مردو عورت) پر واجب ہے جو صاحب نصاب ہو۔صاحب نصاب وہ شخص ہے جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑے باون تولہ چاندی یا اتنی مالیت کا تجارتی مال یا نقدی ہو یا ان میں سے کوئی ایک تو ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر تو نہ ہو لیکن ان میں سے چند یا بعض مل کر مجموعی مالیت ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر اور قرضہ بھی نہ ہو تو ایسے شخص پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہو گی۔ساتھ ساتھ بیان کردہ تفصیل کے مطابق جس شخص پر زکوٰۃ واجب ہے اس شخص پر صدقہ فطر بھی واجب ہے یا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں لیکن ضرورت سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا مال ہو تو اس شخص پر بھی صدقہ فطر واجب ہے، چاہے سال پورا گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو۔ (وفی الدر المختار 2/ 258)، (فی تنویر الابصار 360/2)

 زکوٰۃ کون لے سکتا ہے؟

سوال:۔زکوٰۃ لینا کس کیلئے جائز ہے؟

جواب :۔مستحقِ زکوٰۃ ہر وہ غیر سید مسلمان ہے جو صدقہ فطر کے نصاب کا مالک نہ ہو۔(الدر المختار 2/ 339)وفی البحر الرائق (419/2)

سفر میں روزہ رکھنا

سوال:۔اگر رمضان کے مہینے میں کسی آدمی کا سفر کا اردہ ہو تو وہ روزہ رکھ لے یاچھوڑ دے؟ اگر اس نے روزہ رکھ لیا تو کیا وہ دوران سفر افطار کر سکتا ہے یا نہیں؟ یہاں بعض لوگ کہتے ہیں کے سفر کے دوران توڑ سکتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ نہیں توڑ سکتے، ورنہ قضا اور کفارہ دونوں لازم ہیں ۔(وہاب ، سکھر)

جواب:۔ واضح رہے کہ مسافر کیلئے رمضان کا روزہ نہ رکھنے کی رخصت اس صورت میں ہے جبکہ وہ صبح صادق سے پہلے بھی مسافر ہو، البتہ اگر کوئی شخص صبح صادق سے پہلے مقیم ہو تو اس پر اس دن کا روزہ رکھنا اور اس کو پورا کر نا ضر وری ہو گا۔ اگر روزہ ر کھ کر توڑ دیا تو صرف قضاء لازم ہو گی، کفارہ نہیں(وفی المبسوط للسر خسی 42/3)، (وفی بدائع الصنائع 742/2)۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

گناہوں کا وبال

’’تم پر جو پریشانیاں آتی ہیں وہ تمہارے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہیں‘‘ (الشوریٰ: 30) ’’جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو اس کے رزق کوگھٹا دیا جاتا ہے‘‘ (موطا امام مالک: 1325)

اسلام میں تربیت اولاد کا تصور

’’اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں‘‘ (التحریم) ’’ اپنی اولاد کو ادب سکھلاو، قیامت کے دن تم سے تمہاری اولاد کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ تم نے ان کو کیا ادب سکھایا؟ اور کیسی تعلیم دی؟(شعب الایمان للبیہقی)

غصہ…سماجی و معاشرتی ناسور

’’اہل تقویٰ وہ ہیں جو غصے کو قابو میں رکھتے ہیں‘‘(آل عمران) غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں (سورۃ آل عمران)

مسائل اور ان کا حل

کمیٹی ڈالنا :سوال: چند افراد مل کر ماہانہ دس ہزار روپے کی کمیٹی ڈالتے ہیں، قرعہ کے ذریعے جس کا نام نکلتا ہے اسے کمیٹی دے دی جاتی ہے۔کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟ (ابوبکر، بہاولپور)

اسلام آباد مذاکرات

دنیا کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے‘ جب یہ بات کہی جاتی تھی تو کچھ حلقے اس پر تنقید کرتے یا اسے مذاق سمجھتے تھے، مگر آج عالمی سطح پر اس امر کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور عالمی طاقتیں تسلیم کر رہی ہیں کہ اہم فیصلے پاکستان میں ہو رہے ہیں۔

جنگ بندی میں کردار، دنیا پاکستان کی معترف

امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار سے جہاں دنیا بھر میں پاکستان کو پذیرائی مل رہی ہے وہیں پاکستان بھر میں بھی اس حوالہ سے خوشی کی لہر دو ڑ گئی ہے ۔