اسلام آباد مذاکرات

تحریر : عدیل وڑائچ


دنیا کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے‘ جب یہ بات کہی جاتی تھی تو کچھ حلقے اس پر تنقید کرتے یا اسے مذاق سمجھتے تھے، مگر آج عالمی سطح پر اس امر کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور عالمی طاقتیں تسلیم کر رہی ہیں کہ اہم فیصلے پاکستان میں ہو رہے ہیں۔

 عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان کو ایک گلوبل پیس میکر کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید  عاصم منیر نے ناممکن کو ممکن بنا کر دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ ممکنہ تباہی صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں تھی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے ۔کروڑوں انسانی جانیں خطرے میں تھیں۔ اربوں انسان ایک معاشی قیامت کا سامنا کرنے جا رہے تھے۔ دنیا بھر میں توانائی اور خوراک کا سنگین بحران بس کچھ ہی فاصلے پر کھڑا تھا ۔ ایران امریکہ کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی تھی۔ دنیا بھر کی نظریں مشرق وسطیٰ پر مرکوز تھیں، مگر صورتحال کو سنبھالنے کے لیے کوئی مؤثر عالمی کردار سامنے نہیں آ رہا تھا…سوائے پاکستان کے۔

پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی قابلیت، محنت، خلوص اور دانشمندانہ حکمت عملی کے باعث دنیا ایک بڑی تباہی سے بچ گئی۔ مگر پاکستان تو خود ایک نہایت پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا تھا؛ ایک جانب سعودی عرب کے ساتھ اس کا سٹریٹجک دفاعی معاہدہ اور دفاع کا عزم اور دوسری جانب ہمسایہ ملک ایران جس پر امریکی بیسز سے حملے ہو رہے تھے اور وہ رد عمل میں سعودی عرب، یو اے ای ، قطر ، بحرین پر حملے کر رہا تھا۔ 

پاکستان نے بھرپور کوشش کی کہ ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کو نہ ہونے دیا جائے۔ اس دوران اسرائیل کی جانب سے فالس فلیگ آپریشنز کے منصوبے اور ایران کے انفراسٹرکچر پر حملوں کے ذریعے کشیدگی کو بڑھانے کی کوششیں  بھی سامنے آئیں تاکہ ایران کو اشتعال دلا کر خطے کو مزید جنگ کی طرف دھکیلا جائے اور پاکستان کو بھی اس تنازع میں  الجھایا جا سکے۔ تاہم پاکستان کی قیادت نے دوراندیشی اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تمام کوششوں کو ناکام بنایا اور بیک وقت امریکہ، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ فعال سفارتکاری کے ذریعے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔

29 مارچ کو اسلام آباد میں ایک اہم چار فریقی اجلاس منعقد کیا گیا جس کا مقصد ایران امریکہ تنازع کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔ چین کے تعاون سے پانچ نکاتی امن منصوبہ بھی تشکیل دیا گیا۔ اس دوران بعض عناصر کی جانب سے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں جاری رہیں اور ایک موقع پر ایران کی جانب سے سعودی عرب کے جبیل پیٹر وکیمیکل کمپلیکس پر میزائل حملہ صورتحال کو مزید سنگین بنا گیا۔ اس حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششیں دم توڑتی دکھائی دینے لگیں۔ اب پاکستان کو ایک واضح سٹینڈ لینا تھا جس نے اس پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور ایران پر تنقید کی کہ اس نے امن کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ کور کمانڈر کانفرنس  کے ذریعے بھی واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ 

ادھر ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے پر آمادہ نہیں تھا جس کے باعث عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو رہی تھی اور توانائی بحران میں اضافہ ہو رہا تھا۔ آبنائے ہرمز کا بند رہنا صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا تھا۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ترین بیان جاری کیا جس میں ایرانی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دی گئی ۔ امریکی صدر کے اس بیان سے عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی۔فیصلہ کن لمحات میں پاکستان نے ایک بار پھر سفارتی کوششیں تیز کیں ، وزیر اعظم شہباز شریف نے براہ راست اپیل کرتے ہوئے ایران سے کہا کہ مثبت پیش رفت کے طور پر آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھول دیا جائے جبکہ امریکہ سے درخواست کی کہ حملوں کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں تک کی توسیع کی جائے۔ اس اقدام سے امید کی ایک نئی کرن پیدا ہوئی اور محسوس ہونے لگا کہ پاکستان پس پردہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے اور اچھی خبر کسی بھی وقت آسکتی ہے۔ چند ہی  گھنٹوں بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک کامیاب ثالث کے طور پر اعلان کیا کہ ایران اور امریکہ اپنے اتحادیوں سمیت فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ اسلام آباد میں دس اپریل کو ایک بڑی بیٹھک ہونے جا رہی ہے جس میں امریکا اور ایران، دونوں کے وفود شرکت کرنے جا رہے ہیں تاکہ تنازعات کے مستقل حل کے لیے مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔ اس نشست کو اسلام آباد مذاکرات کا نام دیا گیا ہے۔ ایرانی اور امریکی قیادت اسلام آباد میں ہونے والی اس بیٹھک میں شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں۔ 

ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی قیادت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز کھولی جا رہی ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے بھی پاکستان کی قیادت کے ساتھ رابطوں کے بعد ایران پر ممکنہ حملوں کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ دونوں فریقین نے تسلیم کیا کہ جنگ بندی پاکستان کی سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گزشتہ روز تفصیلی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس میں انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کے قیام میں پاکستانی قیادت کے کردار کو سراہا۔ ان اعلانات کے بعد دنیا بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مسلسل گرتی عالمی مارکیٹس میں بہتری آئی اور ہر مارکیٹ صبح ہوتے ہی اوپر جانے لگی،تیل کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں 21 فیصد کی ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی۔

ایران کی جانب سے جنگ بندی کے مستقل حل کے لیے 10 نکات جبکہ امریکہ کی جانب سے 15 نکات پیش کیے جا چکے ہیں جو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکراتی اجلاس میں زیر غور لائے جائیں گے۔ اگرچہ یہ جنگ بندی 15 روز کیلئے ہے مگر صورتحال پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اب صورتحال خراب ہونے کے امکانا ت بہت کم ہیں۔ عالمی قیادت پاکستان کے کردار کو سراہ رہی ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ جنگ بندی پائیدار امن کی بنیاد بنے گی۔آج کا پاکستان عالمی سطح پر ایک نئے اور اہم کردار کے ساتھ ابھر رہا ہے اور اس کی قیادت پہلے سے زیادہ پر اعتماد ہے ۔ نہ صرف پاکستانی عوام اپنی قیادت کو رشک سے دیکھ رہے ہیں بلکہ اسے دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

جنگ بندی میں کردار، دنیا پاکستان کی معترف

امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار سے جہاں دنیا بھر میں پاکستان کو پذیرائی مل رہی ہے وہیں پاکستان بھر میں بھی اس حوالہ سے خوشی کی لہر دو ڑ گئی ہے ۔

مہنگائی، شہری مسائل اور حکومتی دعوے

چار اپریل کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کے ساتھ تھی، ہے اور رہے گی۔

پشاور ڈوبا رہا، حکومت غائب

حالیہ بارشوں نے خیبرپختونخوا میں جس طرح تباہی مچائی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔پہاڑی علاقوں سے لے کر میدانی شہروں تک ہر طرف پانی ہی پانی نظر آتا ہے۔

بلوچستان میں سیلاب اورمعاشی دباؤ

بلوچستان میں حالیہ موسلا دھار بارشوں اور سیلابی صورتحال میں ہونے والے نقصانات کے حوالے سے پی ڈی ایم اے بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق 16 افراد جان بحق اور 161مکان مسمار ہو گئے۔

آزاد جموں کشمیر انتخابات کی تیاریاں

آزاد جموں و کشمیر میں عام انتخابات 10 سے 25 جولائی کے درمیان متوقع ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کے بیشتر ممکنہ امیدوار اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں عید الفطر کے بعد ہی غیر اعلانیہ انتخابی مہم شروع کر چکے ہیں۔

گھریلو بجٹ کیسے بنائیں؟

آج کے دور میں مہنگائی، محدود آمدنی اور بڑھتے ہوئے اخراجات نے گھریلو بجٹ کو سنبھالنا ایک چیلنج بنا دیا ہے۔ خاص طور پر پاکستانی خواتین جو گھریلو نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہیں، کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف خرچ کریں بلکہ سمجھداری سے خرچ کریں۔