خود بنائیں، خود سجائیں

تحریر : فضہ جاوید


DIY کے دلچسپ پروجیکٹس

آج کے دور میں جہاں مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور گھریلو اخراجات کو متوازن رکھنا ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے  وہیں خود بنائیں، خود سجائیں یعنی DIY (Do it yourself) کا رجحان تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ خواتین کے لیے یہ نہ صرف ایک تخلیقی مشغلہ ہے بلکہ ایک باوقار اور مفید سرگرمی بھی بن چکا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے گھر کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ مالی بچت بھی کر سکتی ہیں۔DIY کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ کم خرچ میں اپنی پسند کے مطابق چیزیں تیار کر سکتی ہیں۔ مارکیٹ سے مہنگی ڈیکوریشن اشیاخریدنے کے بجائے گھر میں موجود غیر استعمال شدہ سامان کو نئے انداز میں استعمال کر کے نہایت خوبصورت اور منفرد چیزیں بنائی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر پرانے شیشے کے جار، بوتلیں یا کپڑے کے ٹکڑے، تھوڑی سی محنت اور تخلیقی سوچ کے ساتھ خوبصورت سجاوٹی آئٹمز میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

دیواروں کی سجاوٹ، دلچسپ آئیڈیاز

گھر کی دیواریں کسی بھی جگہ کی خوبصورتی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ آپ رنگ برنگے کاغذ، فیبرک یا پرانے رسالوں کے صفحات کو استعمال کرتے ہوئے وال ہینگنگز بنا سکتی ہیں۔ اسی طرح فیملی فوٹوز کو خوبصورت فریمز میں سجا کر ایک میموری وال تیار کی جا سکتی ہے، جو نہ صرف دلکش لگتی ہے بلکہ جذباتی وابستگی بھی پیدا کرتی ہے۔ اگر آپ کو پینٹنگ کا شوق ہے تو سادہ کینوس پر اپنی پسند کے ڈیزائن بنا کر دیواروں کو منفرد انداز دیا جا سکتا ہے۔

پودوں ،گملوں کی تخلیقی سجاوٹ

گھر میں ہریالی لانا ہر خاتون کی خواہش ہوتی ہے۔ آپ پلاسٹک کی بوتلوں، پرانے مگ یا ٹوٹے ہوئے برتنوں کو گملوں کے طور پر استعمال کر سکتی ہیں۔ ان پر رنگ و روغن یا ڈیزائن بنا کر انہیں مزید دلکش بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح نہ صرف آپ ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دیتی ہیں بلکہ گھر میں ایک تازگی بھرا ماحول بھی پیدا کرتی ہیں۔

پرانے کپڑے نیا استعمال

ہمارے ہاں گھروں میں اکثر پرانے کپڑے الماریوں میں پڑے رہتے ہیں۔ DIY کے ذریعے ان کپڑوں کو نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر پرانی شرٹس یا دوپٹے سے کشن کورز، بیگز یا دسترخوان تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح کپڑوں کے چھوٹے ٹکڑوں کو جوڑ کر خوبصورت پیچ ورک تیار کیا جا سکتا ہے، جو نہایت دلکش لگتا ہے۔گھر کو منظم رکھنا ایک اہم ضرورت ہے خاص طور پر خواتین کے لیے جو گھریلو ذمہ داریوں کو سنبھالتی ہیں۔ DIY کے ذریعے آپ مختلف اقسام کے آرگنائزرز بنا سکتی ہیں جیسے جیولری ہولڈر، میک اپ آرگنائزر یا کچن کے لیے سٹوریج باکسز۔ پرانے ڈبوں، کارڈ بورڈ یا لکڑی کے ٹکڑوں کو استعمال کر کے یہ اشیاآسانی سے تیار کی جا سکتی ہیں۔

بچوں کے ساتھ تخلیقی سرگرمیاں

DIY پروجیکٹس بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا بہترین ذریعہ بھی ہیں۔ آپ اپنے بچوں کو مختلف ہنر سکھا سکتی ہیں جیسے کہ کاغذی کھلونے بنانا، رنگ بھرنا یا سادہ دستکاری کے کام۔ اس سے نہ صرف بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں بڑھتی ہیں بلکہ ماں اور بچوں کے درمیان تعلق بھی مضبوط ہوتا ہے۔DIY پروجیکٹس کو صرف شوق تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک چھوٹے کاروبار میں بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک اور انسٹاگرام پر ہاتھ سے بنی اشیاکی بہت مانگ ہے۔ خواتین گھر بیٹھے خوبصورت جیولری، ہینڈ بیگز، سجاوٹی اشیایا کپڑوں کی ڈیزائننگ کر کے اپنا کاروبار شروع کر سکتی ہیں۔ یہ نہ صرف مالی خودمختاری کی طرف ایک قدم ہے بلکہ خوداعتمادی میں بھی اضافہ کرتا ہے۔DIY پروجیکٹس خواتین کو وقت کے بہتر استعمال کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ فارغ وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اسے کسی مثبت اور تخلیقی سرگرمی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ذہنی سکون کا بھی باعث بنتا ہے، کیونکہ تخلیقی کام انسان کے ذہن کو تازگی فراہم کرتے ہیں۔خود بنائیں، خود سجائیں صرف ایک رجحان نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی بنتا جا رہا ہے جو پاکستانی خواتین کو خودمختار، تخلیقی اور بااعتماد بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ نہ صرف گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ مالی بچت اور ممکنہ آمدنی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ تھوڑی سی محنت، تخلیقی سوچ اور دستیاب وسائل کے درست استعمال سے ہر خاتون اپنے گھر کو جنت نظیر بنا سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

درخواست کی کلاس!

سکول کے صحن میں ہلکی سی دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور بچے اپنی اپنی کلاسوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔

ہوا کا سفر

ایک سہانی صبح کو سورج کی پہلی کرن زمین پر پڑی تو اس کی ملاقات بارش کی ننھی سی بوند سے ہوئی۔ ہوا آج بہت خوش تھی، وہ کبھی درختوں کے پتوں سے ٹکراتی تو کبھی پھولوں کو چھیڑتی۔

جاپانی کہاوتوں میں محنت کرنے کا سبق

ہر ملک میں الگ الگ کہاوتیں مشہور ہیں جو وہاں کے رہن سہن کی عکاسی کرتی ہیں۔ جدوجہد کرنے اورعلم حاصل کرنے کی تلقین کرنے والی جاپانی کہاوتیں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

ساتھیو! کچھ جہاں میں کام کریں

ساتھیو! کچھ جہاں میں کام کریں

سنہری باتیں

٭… جنت کا حقیقی مستحق وہ ہے جو قربانی کے درجے میں اس کا طلب گار بنے۔

ذرا مسکرایئے

ایک دوست: بتاؤ دادی اور نانی میں کیا فرق ہے؟۔