جنگ بندی میں کردار، دنیا پاکستان کی معترف
امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار سے جہاں دنیا بھر میں پاکستان کو پذیرائی مل رہی ہے وہیں پاکستان بھر میں بھی اس حوالہ سے خوشی کی لہر دو ڑ گئی ہے ۔
ہر پاکستانی اس اقدام اور امن کے حوالہ سے پاکستان کے بڑے کردار کوسراہتا نظر آ رہا ہے ۔ حقائق بھی یہی ہیں کہ پاکستان کے ذمہ دارانہ کردار کے باعث نہ صرف یہ کے دنیا کو جنگی صورتحال سے نجات ملی بلکہ دنیا میں پاکستان کی سفارتی اہمیت بھی اجاگرہوئی ہے۔ فی الحال جنگ بندی دو ہفتے کے لیے ہے اور 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، لہٰذا ابھی پاکستان کا کردار ختم نہیں ہوا بلکہ یوں کہا جائے کہ اصل کرداراب شروع ہوا ہے۔ اس حوالہ سے آج کی بڑی ضرورت یہ ہے کہ عالمی سطح کے مذاکراتی عمل کے دوران پاکستان میں سیاسی استحکام ایک قومی ضرورت ہے اور اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کا کرداراہم ہے۔ بنیادی ذمہ داری حکومت کی ہو گی کہ مذاکراتی عمل کے دوران یہاں استحکام کے لیے سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کو اعتماد میں لیکر آگے بڑھے تاکہ ملک عزیزکا بہترین امیج قائم ہو اور اس ذمہ دارانہ کردار کے نتیجہ میں پاکستان کے لیے معاشی ترقی کے دروازے کھلیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ٹویٹ کے اثرات گلوبل مارکیٹ میں بہتری کی صورت میں سامنے آئے اور پٹرولیم کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کمی کے اثرات پاکستان میں بھی نظر آنے چاہئیں تاکہ پاکستان کے اس بڑے کردار پر عوام کو ریلیف مل سکے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے اثرات نے دنیا بھر کی معیشت کو ہلا ڈالا ہے خصوصاًپٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کے اثرات نے عام آدمی کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کئے ۔ وزیراعظم کے قومی بچت اور کفایت کے پروگرام پر عملدرآمد شروع ہے، اس سلسلے میں پنجاب حکومت کی جانب سے بھی کئی اقدامات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔سب سے اہم اقدام جسے مفادِ عامہ میں بروقت اور نتیجہ خیز قرار دیا جا سکتا ہے صوبہ بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کو عوام کے لیے فری کرنا ہے جس کے تحت اب میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین ، سپیڈو بسوں اور الیکٹرو بسوں میں سفر کے دوران مسافر بغیر ٹکٹ سفر کر سکتے ہیں۔ عوام کو پٹرول کی مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے موٹر سائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ بھی ہوا ہے۔موٹر سائیکل کی ملکیت کی تبدیلی پر فیس بھی معاف کی گئی۔ رجسٹرڈ گڈز ٹرانسپورٹ کو ستر ہزار ، ٹرکوں کو اسی ہزار اور پبلک بسوں کے لیے ایک لاکھ روپے کی سبسڈی کا اعلان کیا گیا۔ حکومت اپنے طور پر اقدامات تو کرتی ہے مگر پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کے اثرات زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آ رہے ہیں۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ روٹی کی قیمت 20 روپے اور دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ اس من مانی اور منافع خوری پر کوئی چیک نہیں جو کہ حکومت اور انتظامی مشینری کے لیے بڑا چیلنج ہے ۔ آج کی بڑی ضرورت سبسڈی سے زیادہ بہتر گورننس کا نفاذ ہے جس کے تحت منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں پر گرفت کی جائے ،اور یہ تبھی ممکن ہے جب انتظامی مشینری احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔
دوسری جانب زرعی شعبے میں دیکھا جائے تو حکومت نے کسانوں کی سہولت کے لیے گندم کی خریداری کے لیے جو پروگرام دیا تھا اس کے تحت امدادی قیمت3500 روپے تجویز کی گئی لیکن پٹرولیم کے بحران اور اخراجات میں اضافے کی وجہ سے شاید کسان کو ریلیف نہ مل سکے کہ گندم کی کٹائی پر اُٹھنے والے اخراجات خصوصاًہارویسٹیر مشینوں کا کرایہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافیکی وجہ سے خاصے بڑھ چکے ہیں۔ اس حوالہ سے حکومت کا اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔ جس جذبہ کے ساتھ حکومت کسان کو سہولت اور ریلیف دینا چاہتی تھی اس جذبہ کو پھر سے بروئے کار لانا ہو گا۔ حکومت کو زرعی شعبہ کے حوالہ سے یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ آج تک اگر پاکستان میں کبھی قحط کی نوبت نہیں آئی یا فاقہ کشی دیکھنے کو نہیں ملی تو اس کی بڑی وجہ پاکستان کی زراعت ہے جس کی وجہ سے روٹی دال کا سسٹم چلتا رہتا ہے، لہٰذا آج کے حالات میں زراعت خصوصی توجہ کی مستحق ہے اس لیے کہ اب زراعت پیشہ لوگ پریشان نظر آتے ہیں خصوصا ًکسان کی زندگی مشکلات سے دوچار ہے۔ جب تک اس کی زندگی میں اطمینان نہیں آئے گا ملک میں معاشی استحکام نہیں آسکتا۔ ہر حکومت کسان دوست پالیسیوں کا دعویٰ تو کرتی ہے مگر ان پالیسیوں کے اچھے نتائج نہیں ملتے، لہٰذا مشکل حالات میں کسان اور زراعت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ اس کے نتیجہ میں ملک میں غیر معمولی یا ہنگامی صورتحال پیدا نہ ہو۔ اس ضمن میں اراکین اسمبلی کو اعتماد میں لے کر زمینی حقائق کی روشنی میں بہتر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
پی ٹی آئی حسب روایت اپنی قیادت کے لیے ریلیف، رہائی اور ملاقاتوں کو بنیاد بناتے ہوئے حتجاجی پالیسی پر گامزن ہے۔ بلا شبہ یہ ان کا سیاسی و جمہوری حق ہے لیکن ابھی تک اس احتجاجی اور دباؤ کے نتائج انہیں نہیں مل پا ئے۔ اس مرتبہ اڈیالہ جیل کے لیے کال بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان کی طرف سے تھی اور دس ہزار افراد کا ٹارگٹ پارٹی تنظیموں کو سونپا گیا ہے ۔مشکل حالات کے باوجود کارکنوں کی بڑی تعداد اڈیالہ پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک کو درپیش حالات میں احتجاجی آپشن کارگر نظر نہیں آ رہا جس کی وجہ سے پارٹی میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ فی الحال بانی پی ٹی آئی کے لیے کوئی ریلیف نظر نہیں آ رہا ۔پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی لیڈر شپ سے ضرور پوچھا جانا چاہئے کہ ان کی حکمت عملی اس حوالہ سے کیا ہے اور وہ اب تک پی ٹی آئی کے بانی کے لیے ریلیف لینے میں کیوں کامیاب نہیں ہوئے، تو پتہ چلے گا کہ وہ کہاں کھڑے ہیں ۔زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو تلخ سیاسی حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی میں یکسوئی اور سنجیدگی کے فقدان نے نہ صرف پارٹی کی احتجاجی اہلیت کو متاثر کیا بلکہ خود پارٹی کی اہمیت میں بھی کمی آئی ہے۔ اب سارا احتجاجی عمل محض رسمی نظر آ تاہے ، اس کی نتیجہ خیزی نظر نہیں آ تی ، نہ ہی حکومت اب اپوزیشن کے دباؤ کو محسوس کر رہی ہے۔