علم قیمتی سرمایہ

تحریر : ملک محمد احسن(راولپنڈی)


علم انسان کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ اس عظیم اور انمول تحفہ کی قدرو قیمت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ علم ایک ایسا پھول ہے جو جتنا کھلتا ہے اتنی ہی زیادہ خوشبو دیتا ہے۔

دنیا میں لاکھوں کتابیں صرف یہ بتانے کیلئے لکھی گئی ہیں کہ علم کس قدر اہم ہے، اس سے ہمیں کتنا کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، یہ ہمیں زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھا دیتا ہے۔ 

اس موضوع پر جتنا سوچا جائے  کم ہے، کیونکہ علم ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ علم حاصل کرنے سے انسان کی زندگی میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔ علم حاصل کرنے سے انسان میں نہ صرف عمدہ خیالات تعمیری سوچ اور عقل پیدا ہوتی ہے بلکہ انسان اپنی منزل کو بھی باآسانی پا سکتا ہے۔

کسی دانا نے ٹھیک کہا ہے، جہالت تاریکی ہے اور علم روشنی ہے۔ حدیث نبویﷺ ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے۔ ہمیں بھی چاہئے کہ علم کی قدر کریں اور سچے دل کے ساتھ علم حاصل کریں تاکہ علم کے ذریعے پیدا ہونے والی صلاحیت ملک و قوم کی ترقی و خدمت میں کام آ سکے اور ہم نہ صرف ترقی یافتہ ملک کے شہری کہلائیں بلکہ تعلیم یافتہ بھی قرار پائیں۔

دوستو! آپ سکول جاتے ہیں لیکن صرف سکول کی کتاب پڑھ لینا علم نہیں۔ علم کا سب سے اچھا ذریعہ مطالعہ ہے، جو بچے مطالعہ کی عادت اپناتے ہیں، وہ دنیا بھر کی معلومات حاصل کر لیتے ہیں اور جو جانتے ہیں، سمجھتے ہیں، وہ بہتر کام کرتے ہیں اور جو بہتر کام کرتے ہیں،وہ زندگی میں بڑا مقام حاصل کر لیتے ہیں۔ 

اس لئے ہم کہتے ہیں کہ علم سے قیمتی تحفہ کوئی نہیں، آپ دل لگا کر علم حاصل کیجئے ایک دن آپ بھی اس قیمتی تحفے کی اہمیت سمجھ جائیں گے۔ دعا ہے کہ آپ پڑھ لکھ کر بڑے ہوں تو دوسروں کو تعلیم دینے کی کوشش کا آغاز بھی کریں، خود علم حاصل کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا، ہمارا اوّلین فریضہ ہونا چاہئے۔ ہمارے قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے بھی بچوں کو یہی نصیحت کی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

فیصل مسجد جدید اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

فیصل مسجد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع اسلامی طرزِ تعمیر کا وہ خوبصورت شاہکار ہے جو اپنی تعمیراتی خوبصورتی بلکہ اپنے روحانی وقار کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں جانی جاتی ہے۔

اورنج رنگ کی سائیکل

علی کے گھر کے قریب ایک بہت بڑا بازار تھا۔ اس بازار میں ایک بہت پرانی سائیکلوں کی اسلم چاچا کی دکان تھی۔ دکاندار کے پاس ہر عمر کے بچوں کی مختلف رنگوں کی سائیکلیں موجود تھیں۔

آؤ ہم بن جائیں تارے

آؤ ہم بن جائیں تارےننھے ننھے پیارے پیارے

سنہری باتیں

٭…ہر ناکامی اپنے دامن میں کامیابی کے پھول لئے ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم کانٹوں میں نہ الجھیں۔

ذرا مسکرایئے

ایک دفعہ ایک چو ہیا اپنے بچوں کے ساتھ جا رہی تھی کہ راستے میں ایک بلی آگئی۔ چوہیا نے فوراً زور سے کتے کی طرح بھونکنا شروع کر دیا۔

پہیلیاں

سر پر نور کے تاج سجائے دو راجے اک دیس سے آئے