تماشائیوں کے بغیرپاکستان سپر لیگ

تحریر : زاہداعوان


کرکٹ میلہ یا مجبوری کا سودا؟پی ایس ایل کا گیارہواں ایڈیشن کسی حد تک اداس کن منظرنامے کے ساتھ شروع ہوا، جس کی مثال ماضی میں صرف کورونا دور کی ملتی ہے:جنگ بندی اور کامیاب مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ سٹیڈیم کے دروازے تماشائیوں کیلئے مکمل طور پر کھول دئیے جائیں،تاکہ قومی لیگ روایتی جوش و خروش اورخوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو

پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل)محض ایک کرکٹ ٹورنامنٹ نہیں بلکہ پاکستان کا ایک قومی برانڈ اور جشن بن چکا ہے۔ تاہم اس سال پی ایس ایل کا گیارہواں ایڈیشن (PSL 11)ایک ایسے منفرد اور کسی حد تک اداس کن منظرنامے کے ساتھ شروع ہوا ہے جس کی مثال ماضی میں صرف کورونا دور کی ملتی ہے۔’’تماشائیوں کے بغیر کرکٹ‘‘کا فیصلہ شائقین کیلئے کسی دھچکے سے کم نہیں، لیکن اس کے پیچھے چھپے عوامل اور اس کے لیگ پر اثرات کا جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور حکومت پاکستان نے پی ایس ایل 11 کو تماشائیوں کے بغیر کروانے کا مشکل فیصلہ کن وجوہات پر کیا؟ اس کے تین بنیادی ستون نظر آتے ہیں، جن میں علاقائی کشیدگی اور سکیورٹی، کفایت شعاری مہم اورلاجسٹک حدود شامل ہیں۔

 مشرقِ وسطی میں جاری تنازعات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی غیر یقینی صورتحال نے سکیورٹی کے تقاضوں کو بدل دیا ہے۔  پاکستان کرکٹ بورڈ انتظامیہ کا موقف ہے کہ تماشائیوں کی عدم موجودگی میں کھلاڑیوں اور غیر ملکی مہمانوں کی حفاظت پر بھرپور توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔

اس کے ساتھ پی ایس ایل انتظامیہ کا یہ بھی موقف ہے کہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث حکومت نے توانائی بچانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ سٹیڈیم میں ہزاروں افراد کا اجتماع، لائٹس، ٹریفک مینجمنٹ اور اضافی پولیس نفری کے اخراجات کو کم کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا گیا۔اسی لیے ٹورنامنٹ کو صرف لاہور اور کراچی تک محدود کر دیا گیا ہے تاکہ ٹیموں کے سفر کو کم سے کم کیا جا سکے اور وسائل کی بچت ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ایس ایل 11 پہلا ایڈیشن ہے کہ لیگ کی تاریخ میں پہلی بار8 ٹیمیں مدمقابل ہیں۔ حیدرآباد کنگز مین اور راولپنڈی پنڈیز کی شمولیت نے ٹورنامنٹ کی طوالت اور مسابقت کو تو بڑھا دیا ہے، لیکن سٹیڈیم میں شائقین کا شور نہ ہونے کی وجہ سے ان نئی ٹیموں کو وہ روایتی ’’ہوم گرائونڈ ویلکم‘‘نہ مل سکا جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔ کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ تماشائیوں کے بغیر لیگ کروانے سے پی سی بی کو ٹکٹوں کی فروخت سے ہونے والی آمدن کا بڑا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ خالی سٹیڈیمزکے باعث کھلاڑیوں کا جوش بھی متاثر ہو رہاہے۔

 کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جہاں تماشائیوں کا شور کھلاڑیوں کے لئے ’’فیول‘‘کا کام کرتا ہے۔ خالی کرسیوں کے سامنے چھکا مارنا یا وکٹ لینا کھلاڑیوں کے لیے نفسیاتی طور پر ایک مختلف تجربہ ہے۔ پی ایس ایل کی پہچان اس کے رنگا رنگ شائقین اور سٹیڈیم کا ماحول ہے۔ ٹی وی سکرین پر خالی سٹینڈز دیکھ کر وہ جوش پیدا نہیں ہو پاتا جو پی ایس ایل کا خاصہ رہا ہے۔

پی سی بی نے ایک نئی امید کے تحت شائقین کی کمی کو پورا کرنے کے لئے 4K الٹرا ایچ ڈی سٹریمنگ اور انٹرایکٹو فین والز (Interactive Fan Walls)کا سہارا لیا ہے تاکہ گھر بیٹھے لوگ خود کو کھیل کا حصہ سمجھیں۔ سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل انگیج منٹ کو بڑھا دیا گیا ہے، مگر یہ ایک بڑا سوال ہے کہ کیا ٹیکنالوجی انسانی جوش کا متبادل ہو سکتی ہے؟ 

پی ایس ایل 11 ایک ایسی آزمائش ہے جہاں کرکٹ بورڈ کو کھیل کی بقا اور ملکی حالات کے درمیان توازن برقرار رکھنا پڑا۔ اگرچہ تماشائیوں کے بغیر سٹیڈیم ’’بے جان‘‘نظر آتے ہیں، لیکن ٹورنامنٹ کا انعقاد اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اپنے سب سے بڑے برانڈ کو کسی بھی صورت رکنے نہیں دینا چاہتا۔

پی ایس ایل محض ایک کرکٹ ٹورنامنٹ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی قومی شناخت، ثقافتی جوش و خروش اور بین الاقوامی سطح پر ملک کے بدلتے ہوئے تاثر کی علامت بن چکی ہے۔ جنگ بندی اور کامیاب مذاکرات کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ سٹیڈیم کے دروازے تماشائیوں کیلئے مکمل طور پر کھول دئیے جائیں۔ طویل عرصے تک بدامنی یا تنائو کے ماحول میں رہنے کے بعد، عوام کو ذہنی سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ بھرا ہوا سٹیڈیم دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ قوم میں کسی قسم کا خوف نہیں پایا جاتا۔

اس کے علاوہ کرکٹ پاکستان میں وہ واحد کھیل ہے جو لسانی اور صوبائی تفریق مٹا کر پوری قوم کو ایک جھنڈے تلے جمع کر دیتا ہے۔جنگ بندی کے بعد معاشی سرگرمیوں کی بحالی ضروری ہے، اور پی ایس ایل اس کا بہترین ذریعہ ہے۔ سٹیڈیم میں تماشائیوں کی آمد سے ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ، فوڈ انڈسٹری اور مرچنڈائز فروخت کرنے والے چھوٹے تاجروں کو براہ راست فائدہ پہنچتا ہے۔تماشائیوں کی غیر موجودگی میں فرنچائزز اور پی سی بی کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ تماشائیوں کی اجازت اس مالیاتی خسارے کو کم کرے گی۔

مذاکرات کی کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ سکیورٹی سے غفلت برتی جائے، بلکہ اب ’جارحانہ سکیورٹی‘کے بجائے ’سمارٹ سکیورٹی‘ کی ضرورت ہے۔کامیاب مذاکرات کے بعد سکیورٹی فورسز پر دبائو کم ہوگا، جس سے وہ تماشائیوں کیلئے سٹیڈیم تک رسائی کو آسان اور محفوظ بنا سکیں گی۔

دنیا بھر کے سپرسٹار کرکٹرز اور براڈکاسٹرز پی ایس ایل کا حصہ ہوتے ہیں۔جب غیر ملکی کھلاڑی کھچا کھچ بھرے سٹیڈیمز میں پاکستانیوں کا جوش دیکھتے ہیں، تو وہ پاکستان کے سفیر بن کر واپس لوٹتے ہیں۔خالی سٹیڈیم ایک ’غیر یقینی‘صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ تماشائیوں سے بھرے سٹینڈز سیاسی استحکام اور امن کا سب سے بڑا ثبوت ثابت ہوں گے۔شائقین کی جانب سے اب بھی یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اب ٹکٹوں کی فروخت شروع کردینی چاہئے۔ناک آئوٹ مرحلے یا فائنل کیلئے کم از کم 50 فیصد تماشائیوں کو اجازت دی جائے، تاکہ فائنل کا معرکہ روایتی جوش و خروش اورخوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

نیشنل سٹیڈیم کراچی :ریکارڈز کی نئی لہر

پاکستان سپرلیگ11کادوسرامرحلہ:پشاور زلمی نے سٹیڈیم کو ریکارڈز کی کتاب میں ایک نیا باب عطا کر دیا: دونوں نئی فرنچائزز حیدرآباد کنگزمین اور راولپنڈیز کی کارکردگی متاثرکن نہیں رہی ، دونوں پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے ، پلے آف مرحلے میں رسائی کے آثار معدوم

فیصل مسجد جدید اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

فیصل مسجد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع اسلامی طرزِ تعمیر کا وہ خوبصورت شاہکار ہے جو اپنی تعمیراتی خوبصورتی بلکہ اپنے روحانی وقار کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں جانی جاتی ہے۔

اورنج رنگ کی سائیکل

علی کے گھر کے قریب ایک بہت بڑا بازار تھا۔ اس بازار میں ایک بہت پرانی سائیکلوں کی اسلم چاچا کی دکان تھی۔ دکاندار کے پاس ہر عمر کے بچوں کی مختلف رنگوں کی سائیکلیں موجود تھیں۔

علم قیمتی سرمایہ

علم انسان کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ اس عظیم اور انمول تحفہ کی قدرو قیمت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ علم ایک ایسا پھول ہے جو جتنا کھلتا ہے اتنی ہی زیادہ خوشبو دیتا ہے۔

آؤ ہم بن جائیں تارے

آؤ ہم بن جائیں تارےننھے ننھے پیارے پیارے

سنہری باتیں

٭…ہر ناکامی اپنے دامن میں کامیابی کے پھول لئے ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم کانٹوں میں نہ الجھیں۔