اورنج رنگ کی سائیکل
علی کے گھر کے قریب ایک بہت بڑا بازار تھا۔ اس بازار میں ایک بہت پرانی سائیکلوں کی اسلم چاچا کی دکان تھی۔ دکاندار کے پاس ہر عمر کے بچوں کی مختلف رنگوں کی سائیکلیں موجود تھیں۔
علی اور اس کے ساتھی دوست سکول سے آتے جاتے اسلم چاچا کی دکان پر پڑی سائیکلوں کو حسرتوں بھری نظروںسے دیکھتے۔
علی اپنے دوستوں سے کہتا :درمیان والی اورنج رنگ کی سائیکل کو میں نے اپنے لئے پسند کیا ہے۔ دوسرا دوست علی کی بات سن کر جواب دیتے ہوئے کہتا کہ بلیو رنگ کی سائیکل کو میں نے اپنے لئے پسند کیا ہے۔ پھر تیسرا دوست بولتا کہ اگر اسی طرح ہم سائیکلوں کو پسند کرتے رہے تو سکول کا وقت گزر جائے گا۔
جو سائیکل علی نے اپنے لئے پسند کی تھی، وہ ان سب سائیکلوں سے زیادہ قیمتی تھی۔ اسے علی کے ماں باپ خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ کچھ دن گزرنے کے بعد ابا نے علی سے سوال کیا : کیا بات ہے تم روزانہ سکول سے دیر سے گھر آتے ہو؟۔
علی ابا کی بات سن کر خاموش ہو گیا۔ کچھ دیر بعد علی نے کہا۔’’ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جب میں پانچویں جماعت میں اوّل پوزیشن لوں گا تو آپ مجھے نئی سائیکل خرید کر دیں گے۔ علی کے ابا اس کی بات سن کر خاموش ہو گئے۔
ابا نے بیٹے کو کہا کہ ابھی تو تمہیں جماعت میں اول پوزیشن لئے ہوئے کچھ دن ہی گزرے ہیں، کچھ دن مزید انتظار کرو، میں تمہیں تمہاری پسند کی سائیکل ضرور لے کر دوں گا۔
علی مسکراتے ہوئے اپنے کمرے میں جا کر بیگ سے کتابیں نکال کر پڑھنے لگا۔ ابا جان نے بیٹے کو پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا کہ بیٹا اسی طرح شوق سے پڑھتے جائو اور آگے بڑھتے جائو۔
کچھ دن گزرنے کے بعد علی کی والدہ نے باتوں باتوں میں علی کے ابا سے سوال کر دیا کہ علی روزانہ صبح سکول جانے سے پہلے سائیکل لے کر دینے کی ضد کرتا ہے۔ علی کے ابا نے جواب دیا کہ بیگم آپ حالات سے بخوبی واقف ہیں، گھر کا نظام چلانا کتنا مشکل ہے۔ میں نے چند روز پہلے علی کے دادا کو علی کی فرمائش کا خط لکھا ہے۔ علی کے دادا نے آج تک علی کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی فرمائش پوری کی ہے۔
یوں باتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک ڈور بیل بجنے لگی۔ ساتھ ہی کسی نے بلند آواز میں کہا ’’پوسٹ مین‘‘۔پوسٹ مین کا نام سنتے ہی علی کے ابا اور والدہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اور علی کے ابا بولے : میں نے کہا تھا نا کہ علی کے دادا کا آج کل میں جواب آ جائے گا۔
علی کی والدہ جب خط لے کر اندر آئیں تو علی کے ابا کہنے لگے : اب تم جلدی سے خط پڑھ کر سنائو۔ علی کی والدہ نے خط کھول کر پڑھنا شروع کیا تو دونوں کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ دعا سلام کے بعد دادا جان نے ملکی حالات کا ذکر کرتے ہوئے بیان کیا کہ بیٹا! اس وقت کی ملکی صورتحال سے تم اچھی طرح واقف ہو بلکہ سبھی لوگ واقف ہیں کیونکہ سیلاب کی تباہ کاریوں نے کھڑی فصلوں کا تو نقصان کیا تھا، مال مویشی بھی چلے گئے اور تمہارا چھوٹا بھائی بھی لوگوں کو بچاتے ہوئے پانی کے ریلے میں بہہ گیا ہے۔خط پڑھ کر دونوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس طرح کچھ دن گزر گئے مگر دادا جان گائوں سے شہر نہیں آئے۔
ایک دن علی نے سکول سے لوٹتے ہوئے اورنج رنگ کی سائیکل جو پسند کی تھی، کوئی دوسرا لڑکا چلا رہا تھا۔ اسے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ علی اسلم چاچا کے پاس جا کر شکوہ کرنے لگا۔ اسلم چاچا آپ نے بہت اچھا کیا جو آپ نے میری پسند کی سائیکل کو فروخت کر دیا۔ مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں کیونکہ میرے ابا کے پاس اتنی قیمتی سائیکل مجھے خرید کر دینے کی طاقت نہیں تھی۔ اسلم چا چا علی کی بات سن کر آنکھیں تر ہو گئیں۔ علی روتے ہوئے سکول بیگ سے دادا جان کا خط نکال کر اسلم چا چا کے حوالے کرکے چلا گیا۔
علی کے جانے کے بعد اسلم چاچا نے علی کا دیا ہوا خط پڑھا اور دل میں احساس ہوا کہ میری وجہ سے گلی محلے کے نجانے کتنے ہی بچوں کے دل کو دکھ پہنچا ہوگا۔
یوں اسلم چاچا نے گلی محلے کے ہر بچے کو خوش کرنے کیلئے ہر لڑکے کو ایک ہفتے کیلئے فری سائیکل چلانے کی اجازت دے دی۔ یوں گلی محلے کا ہر بچہ فری سائیکل چلا کر اپنا شوق پورا کرنے لگا۔ اسلم چاچا نے کہا بچے کھلونوں سے کھیلتے ہوئے اچھے لگتے ہیں۔ آج کے بچے کل کا روشن مستقبل ہیں۔ جو لوگ اسلم چاچا کا تنہا ہونے کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ آج وہی لوگ یہ دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں کہ اسلم چاچا نے بچوں کو فری سائیکل چلانے کی اجازت دے کر پورے محلے میں خوشیاں ہی خوشیاں پھیلا دی ہیں۔