فیصل مسجد جدید اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

تحریر : دانیال حسن چغتائی


فیصل مسجد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع اسلامی طرزِ تعمیر کا وہ خوبصورت شاہکار ہے جو اپنی تعمیراتی خوبصورتی بلکہ اپنے روحانی وقار کی وجہ سے بھی پوری دنیا میں جانی جاتی ہے۔

 یہ مسجد جدید اسلامی طرزِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے اور اسے پاکستان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

اسلام آباد کی خوبصورت مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع فیصل مسجد جدید پاکستان کے عزم، بین الاقوامی اسلامی بھائی چارے اور فن تعمیر کے کمال کا سنگ میل ہے۔ یہ مسجد سعودی عرب کے سابق فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز کی محبت اور پاکستانی عوام کیلئے ان کے تحفے کی صورت میں کھڑی ہے۔ اپنی منفرد ساخت کی وجہ سے یہ روایتی گنبد والی مساجد سے مختلف ہے مگر اس کے میناروں کی بلندی اور اس کا جاہ و جلال دیکھنے والوں کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

فیصل مسجد کی تعمیر کا خیال 1966ء میں اس وقت پیدا ہوا جب شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے اسلام آباد کی خوبصورتی کو سراہتے ہوئے یہاں عظیم الشان مسجد کی تعمیر کی خواہش ظاہر کی اور اس کے تمام اخراجات خود برداشت کرنے کا اعلان کیا۔

1969ء میں عالمی مقابلہ منعقد کیا گیا، جس میں 17 ممالک کے 43 ماہر تعمیرات نے اپنے نقشے پیش کیے۔ کافی غور و خوض کے بعد ترکی کے مشہور آرکیٹکٹ ویدت دلوکے کا ڈیزائن منتخب کیا گیا۔ اس ڈیزائن پر بعض حلقوں نے اعتراض بھی کیا کہ اس میں روایتی گنبد نہیں ہے لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ ڈیزائن جدید دور کی بہترین ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔

 مسجد کی تعمیر کا آغاز 1976ء میں ہوا اور 1986ء میں یہ مکمل ہوئی۔ بدقسمتی سے شاہ فیصل اس کی تکمیل سے پہلے ہی انتقال کر گئے جس کے بعد ان کی خدمات کے اعتراف میں اسے فیصل مسجد کا نام دیا گیا۔فیصل مسجد کا ڈیزائن روایتی عثمانی یا مغلئی طرزِ تعمیر سے بالکل مختلف ہے۔ ویدت دلوکے نے اسے بدوی خیمے کی شکل میں ڈیزائن کیا جو صحرائے عرب کی یاد دلاتا ہے۔

مسجد کا مرکزی ہال آٹھ پہلوؤں پر مشتمل ہے اور اوپر سے خیمے کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ اس میں روایتی گول گنبد نہیں ہے بلکہ تکونی چھتیں ہیں جو جدید جیومیٹری کا شاہکار ہیں۔ مسجد کے چار مینار ہیں، جن میں سے ہر ایک کی بلندی 260 فٹ یا 80 میٹر ہے۔ یہ مینار قلمی شکل کے ہیں اور ترک طرزِ تعمیر کی عکاسی کرتے ہیں۔ 

 مسجد کا مرکزی ہال ستونوں سے پاک ہے۔ اس کے اندرونی حصے کی چھت کو خوبصورت پچی کاری اور خطاطی سے سجایا گیا ہے۔ ہال کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا فانوس نصب ہے جو ترکی سے منگوایا گیا تھا اور اس کا وزن کئی ٹن ہے۔ فیصل مسجد رقبے کے لحاظ سے دنیا کی بڑی مساجد میں شامل ہے۔ یہ تقریباً 5000 مربع میٹر پر محیط ہے۔ مرکزی ہال میں تقریباً 10ہزارنمازیوں کی جگہ ہے۔ اگر مسجد کے بیرونی صحن اور برآمدوں کو شامل کیا جائے تو یہاں بیک وقت 3 لاکھ سے زائد افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔

فیصل مسجد علم کا مرکز بھی رہی ہے۔ کئی سالوں تک بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا کیمپس اسی مسجد کے احاطے میں قائم رہا۔ آج بھی یہاں ایک بہت بڑا کتب خانہ، کیفے ٹیریا اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے دفاتر موجود ہیں۔ مسجد کے زیریں حصے میں شاہ فیصل مرکز برائے اسلامی علوم بھی قائم ہے جو تحقیق کے میدان میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ 

فیصل مسجد اسلام آباد کی سب سے اہم سیاحتی جگہ بن چکی ہے۔ ملک بھر سے اور بیرونِ ملک سے آنے والے سیاح اپنی فہرست میں فیصل مسجد کی زیارت کو سرفہرست رکھتے ہیں۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے سبز پس منظر میں سفید سنگِ مرمر سے بنی یہ مسجد رات کے وقت روشنیوں میں نہا کر سحر انگیز منظر پیش کرتی ہے۔ فیصل مسجد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ دوستی اور اسلامی اخوت کی لازوال نشانی ہے۔ یہ مسجد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اسلام ہر دور کا دین ہے اور اس کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اس کا فنِ تعمیر بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق جدید اور ہمہ گیر ہو سکتا ہے۔ یہ اسلام آباد کا ماتھے کا جھومر ہے اور اس کی عظمت رہتی دنیا تک برقرار رہے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

اورنج رنگ کی سائیکل

علی کے گھر کے قریب ایک بہت بڑا بازار تھا۔ اس بازار میں ایک بہت پرانی سائیکلوں کی اسلم چاچا کی دکان تھی۔ دکاندار کے پاس ہر عمر کے بچوں کی مختلف رنگوں کی سائیکلیں موجود تھیں۔

علم قیمتی سرمایہ

علم انسان کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ اس عظیم اور انمول تحفہ کی قدرو قیمت کا اندازہ اس بات سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ علم ایک ایسا پھول ہے جو جتنا کھلتا ہے اتنی ہی زیادہ خوشبو دیتا ہے۔

آؤ ہم بن جائیں تارے

آؤ ہم بن جائیں تارےننھے ننھے پیارے پیارے

سنہری باتیں

٭…ہر ناکامی اپنے دامن میں کامیابی کے پھول لئے ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم کانٹوں میں نہ الجھیں۔

ذرا مسکرایئے

ایک دفعہ ایک چو ہیا اپنے بچوں کے ساتھ جا رہی تھی کہ راستے میں ایک بلی آگئی۔ چوہیا نے فوراً زور سے کتے کی طرح بھونکنا شروع کر دیا۔

پہیلیاں

سر پر نور کے تاج سجائے دو راجے اک دیس سے آئے