مہنگائی، شہری مسائل اور حکومتی دعوے
چار اپریل کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کے ساتھ تھی، ہے اور رہے گی۔
ا نہوں نے امریکا ایران جنگ کا خاص طور پر ذکر کیا جس کی وجہ سے پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے، پٹرول مہنگا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ ہوگیا۔ انٹر سٹی بسوں کے کرایے بڑھ گئے، اندرون شہرکے اندر بھی کرایوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور عام آدمی شدید متاثر ہے۔ ایسے میں چاروں صوبے وفاق کے ساتھ کھڑے ہیں اور بحران سے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو پیشکش کی کہ وہ منی بجٹ لانا چاہتی ہے تو پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے مختلف گاڑیوں کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا لیکن مسافر گاڑیوں نے کرایہ بڑھانا تھا وہ بڑھ گیا۔ اشیائے خور و نوش کی ترسیل میں شامل گاڑیاں بھی اس میں شامل ہیں۔ اسی طرح ملک بھر میں اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ قوم سے ایک بار پھر قربانی کا تقاضا کیا گیا ہے۔ حکومت سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اورامید کی جاسکتی ہے کہ ہم بحران سے نکل آئیں گے۔
کراچی میں بھی ذوالفقار علی بھٹو شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریب منعقد ہوئی جس سے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے خطاب کیا اور مسلم اُمہ کے لیے ان کے کردار پر روشنی ڈالی۔وفاقی حکومت نے دکانوں، بازاروں اور شادی ہالوں کے لیے نئے اوقات کار کا اعلان کردیا ہے، ہماری رائے میں جو اوقات کار نافذ کیے گئے ہیں انہیں برقرار رہنا چاہیے۔ دنیا بھر میں لوگ علی الصباح کاروبار شروع کرتے اور سرشام بند کردیتے ہیں، یہ ہمارا ہی خاصہ ہے کہ کاروبار دوپہر کے بعد شروع ہوتا ہے اور اگر کبھی غلطی سے صبح کے اوقات میں بازار جانا پڑجائے تو ایک تو دکانیں کھلی ہی نہیں ہوتیں اور اگر کوئی مل بھی جائے تو سیلز مین کا رویہ یوں ہوتا ہے کہ میاں سامان لینا ہے تو لو ورنہ راستہ ناپو۔ حکومت کو اس طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔ اس سے بجلی کا استعمال کم ہوگا اور قوم ایک نظم و ضبط کی طرف راغب ہوگی۔ہم نے اپنی بات کہہ دی، حکومت مانے یا نہ مانے اس کی مرضی۔گیس کی قلت کے باعث کراچی کے شہری خاصے تنگ ہیں۔ نیا شیڈول بھی نافذ کردیا گیا ہے، ٹھیک ہے حالات ایسے ہیں لیکن گیس آنے اور جانے کا جو وقت بتایا گیا ہے اس کی پابندی لازم کی جانی چاہیے تاکہ عوام اسی لحاظ سے اپنی تیاری کررکھیں۔ گیس کا جلد چلے جانا، دیر سے آنا یا پریشر کم ہونا اچھی بات نہیں۔ مشکل صورتحال میں سب ساتھ ہیں لیکن عوام کو تنگ بھی نہیں کیا جانا چاہئے۔
ادھرمیئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور جماعت اسلامی میں نوک جھونک چلتی رہتی ہے لیکن کئی بار ایسا لگا کہ میڈیا سے گفتگو میں مرتضیٰ وہاب تحمل کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ ادھر کسی نے شہر کی حالت پر سوال کیا اُدھر میئر کراچی کو سوالی کسی سیاسی جماعت کا ورکر یا کوئی ایجنڈا لیے نظر آنا شروع ہوجاتا ہے۔ بھائی اگر آپ عوامی عہدے پر ہیں تو تنقید چاہے برائے اصلاح ہو یا تنقید برائے تنقید اسے سننے کے لیے تیار رہنا چاہیے اور حوصلہ بلند رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی سوال پوچھے گا تو اس کا ایجنڈا ہے اور وہ یہ کہ عوام کی بات آپ کے سامنے رکھی جائے۔ میئر صاحب بار بار کہتے ہیں شہر کی ترقی حاسدین کو نظر نہیں آرہی تو ایک بار تفصیل سے میڈیا کو لے کر نیو کراچی، لانڈھی، کورنگی، اورنگی ٹاؤن، بلدیہ، بنارس، پرانا گولیمار، گارڈن، لیاری، کھارادر یا جہاں میئر مناسب سمجھیں میڈیا کو لے جائیں، کوئی تو سڑک ایسی بتا دیں جو ٹوٹی پھوٹی نہ ہو، کوئی علاقہ تو بتا دیں جہاں گٹر نہ بہتے ہوں، کچھ سڑکیں اگر اچھی تھیں بھی تو گیس لائن ڈالنے کے لیے انہیں بھی کھود کر چھوڑ دیا گیا ہے۔ مثال پیش کردیتا ہوں کہ ابوالحسن اصفہانی روڈ پر مہینوں پہلے کھدائی کی گئی جو سڑک کبھی اعلیٰ ترین کہلاتی تھی آج وہاں دھول اڑتی ہے، ٹریفک جام رہتا ہے، لوگوں کا جینا دوبھر ہوچکاہے۔ میئر صاحب ہماری بات پر یقین نہ کریں ایک بار چکر لگالیں، ریکارڈ نکلوا لیں کہ سڑک کب سے ادھڑی پڑی ہے۔ ابوالحسن اصفہانی روڈ تعمیرات کا شاہکار تھی، برسوں گزر گئے، نہ کبھی ٹوٹی اور نہ کبھی بارش کا پانی جمع ہوا۔ شہری حکومت نے تین ہٹی تا گرومندر سڑک کا ایک ٹریک بنا دیا ہے، تعمیر اچھی ہے لیکن لوگوں نے اس کی کیا حالت کردی ہے، اس پر بھی نظر ڈال لیں۔ ہمارا مقصد میئر کراچی پر طنز یا تنقید نہیں نہیں صورتحال کا ادراک کرانا ہے، وہ لوگ جو میئر صاحب کو سب اچھا ہے کہ رپورٹ دیتے ہیں، مرتضیٰ وہاب کو ان سے بچنا چاہیے۔
اس دوران خیرپور سے ایک خطرناک خبر آئی ہے کہ وہاں منکی پاکس کے کیسز سامنے آرہے ہیں، اموات ہورہی ہیں، وائرس دیگر اضلاع تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔ حکومت کو جنگی بنیاد پر کام کرنا چاہیے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے۔ احتیاطی اقدامات کی فوری ضرورت ہے ورنہ بات پھر وہیں آجائے گی کہ لوگ تنقید کرتے ہیں۔ کام نہیں ہوگا تو تنقید تو ہوگی۔