گناہوں کا وبال
’’تم پر جو پریشانیاں آتی ہیں وہ تمہارے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہیں‘‘ (الشوریٰ: 30) ’’جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو اس کے رزق کوگھٹا دیا جاتا ہے‘‘ (موطا امام مالک: 1325)
قرآنِ حکیم انسان کو بار بار اپنی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے حالات و واقعات پر غور کرے اور ان کے پسِ پردہ اسباب کو سمجھے۔ ارشادِ ربانی ہے: ‘‘(لوگو) تم پر جو پریشانیاں آتی ہیں وہ تمہارے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہیں جبکہ تمہارے بہت سارے گناہوں کو تو اللہ معاف بھی فرما دیتے ہیں’’ (الشوریٰ:30)۔ یہ آیتِ کریمہ انسان کے لیے ایک واضح تنبیہ اور ایک عظیم حقیقت کا بیان ہے کہ دنیا میں پیش آنے والی بہت سی آزمائشیں اور مشکلات دراصل ہمارے اپنے اعمال کا عکس ہوتی ہیں۔جب انسان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں مبتلا ہوتا ہے، اس کے احکامات سے روگردانی اختیار کرتا ہے اور حلال و حرام کی تمیز کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے تو اس کے اثرات صرف آخرت تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا میں بھی مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ کبھی یہ اثرات ذہنی بے سکونی، قلبی اضطراب اور روحانی خلا کی صورت میں سامنے آتے ہیں، اور کبھی معاشرتی مسائل، ناانصافیوں اور اجتماعی زوال کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ جتنی پریشانیاں ہم پر آتی ہیں یہ ہمارے بعض گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہیں جبکہ اکثر گناہوں کی سزا یا تو اللہ تعالیٰ بالکل ہی معاف فرما دیتے ہیں یا ان کو آخرت پر موقوف کر دیتے ہیں۔
چند گناہوں کے برے اثرات
حضرت عبداللہ بن عباسؓ ارشاد فرماتے ہیں: ’’جب کسی قوم میں حرام مال عام ہو جائے، تو اللہ رب العزت ان کے دلوں میں خوف اور دہشت بٹھا دیتے ہیں، اور جب کسی قوم میں زنا بدکاری عام ہو جائے تو ان میں موت کی کثرت ہو جاتی ہے اور حادثاتی اموات پھیل جاتی ہیں، اور جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو ان کے رزق کوگھٹا دیا جاتا ہے اور جب کوئی قوم ظلم و ناانصافی کرنے لگے تو ان میں قتل و قتال عام ہو جاتا ہے، اور جب کوئی قوم وعدہ خلافی کے جرم کا ارتکاب کرتی ہے تو ان پر دشمن کو مسلط کر دیا جاتا ہے‘‘(موطا امام مالک، باب ماجاء فی الغلول، الرقم: 1325)
رزق میں تنگی
حدیث مبارک میں چند بڑے جرائم اور ان کے معاشرے پر پڑنے والے وبال کو ذکر کیا گیا ہے اس میں اس گناہ کی نشاندہی بھی کر دی گئی جس کی وجہ سے رزق میں تنگی آتی ہے اور وہ ہے ناپ تول میں کمی کرنا۔
ناپ تول میں کمی کا گناہ
سابقہ امتوں میں سے حضرت شعیب علیہ السلام کو جس قوم کی طرف بھیجا گیا وہ ایسی قوم تھی جو ناپ تول میں کمی والا گناہ میں مبتلا تھی اس وجہ سے ان پر اللہ کی طرف سے سخت سزا آئی، قرآن کریم میں ہے: ’’شہر مدین کی طرف ہم نے ان کے قومی بھائی شعیب علیہ السلام کو بھیجا انہوں نے اپنی قوم کو فرمایا لوگو! صرف اکیلے اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اور ناپ تول میں کمی والا جرم نہ کیا کرو۔ میں تمہیں خوشحال دیکھتا ہوں اور اگر تم اللہ پر ایمان نہ لائے تو مجھے تمہارے بارے ایسے سخت دن کے عذاب کا اندیشہ ہے جو تم کو ہرطرف سے گھیر کرہی رہے گا۔ لوگو!ناپ تول کو انصاف کے ساتھ پورا پورا تولا کرو لوگوں کو ان کی خریدی ہوئی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کروایسا جرم کر کے زمین میں فساد مت پھیلاتے پھرو‘‘(سورۃ ھود:85،84)۔
قحط سالی کی وجہ
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس اللہ کے رسولﷺ تشریف لائے اور فرمایا: اے مہاجرین کی جماعت!جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے اس پرقحط سالی مسلط کر دی جاتی ہے۔ (سنن ابن ماجہ، الرقم:4019)۔ستم دیکھیے کہ کبھی ملک میں آٹے کا بحران ہوتا ہے تو کبھی چینی کا۔ دوسری طرف تاجر برادری ذخیرہ اندوزی والا ستم ڈھانا شروع کر دیتی ہے۔ لوگوں کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا تا ہے۔ میں مسلمان تاجر بھائیوں کے سامنے اللہ کے رسولﷺکے چند فرامین ذکر کرتا ہوں تاکہ وہ اس گناہ اور معاشرتی جرم سے باہر نکلیں۔
ذخیرہ اندوزی کسے کہتے ہیں؟
ذخیرہ اندوزی اِسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص یا جماعت غلہ یا دیگر اجناس کو بڑی مقدار میں اس لیے اکٹھا کر لے یا خرید کر ذخیرہ کر لے کہ بازار میں جب وہ جنس زیادہ مہنگی ہو جائے اور لوگوں میں اس چیز یا جنس کی مانگ کا مرکز صرف وہی بن جائیں اور لوگ مجبور ہو کر ذخیرہ اندوزی کرنے والے سے اس کی شرائط اور مقرر کردہ نرخوں کے مطابق خرید سکیں۔ یہ طریقہ سراسر غلط اور ایسی ذخیرہ اندوزی شرعاً حرام اور ممنوع ہے۔ اور اگر بازار میں اس ذخیرہ کی جانے والی جنس یا چیز کی کوئی کمی نہ ہو اور کسی شخص کے کسی چیز یا جنس کو ذخیرہ کرنے کی وجہ سے قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا تو یہ اکٹھا کر لینا ’’ذخیرہ اندوزی‘‘ نہیں کہلاتا کہ جس کی شریعت نے مذمت بیان کی ہو اور اس سے روکا ہو۔
تاجر برادری اور اسلام
اسلام نے سچے تاجر کا حشر دن قیامت انبیاء اور صالحین کے ساتھ ذکر کیا ہے لیکن جب تاجر ذخیرہ اندوزی کرنے والے جرم کا مرتکب ہو تو اسلام ایسے تاجر کی سخت ترین مذمت کرتا ہے۔
ذخیرہ اندوز گناہ گار ہے
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’جس تاجر نے اس ارادے سے ذخیرہ اندوزی کی کہ وہ اس طرح لوگوں سے اس چیز کے مہنگے دام وصول کرے گا تو ایسا شخص بڑے درجے کا گناہ گار ہے‘‘(مسند احمد: 8617)۔حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’جائز طریقے سے نفع کمانے والے تاجر کو برکت والا رزق ملتا ہے جبکہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا اللہ کی رحمت سے خود کو دور کر نے والا (لعنتی) ہے‘‘ (سنن ابن ماجہ: 2153)۔
ذخیرہ اندوز کو دنیا میں سزا
حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے میں نے رسول اللہﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جس شخص نے مسلمانوں کی ضرورت کے وقت ان کے کھانے پینے(اور ضرورت کی اشیاء)کی ذخیرہ اندوزی کی ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کوڑھ کے مرض میں مبتلا کر دیتے ہیں یا پھر مفلس غریب بنا دیتے ہیں‘‘(شعب الایمان للبیہقی: 10704)
عوام کی ذمہ داری
عوام کی ذمہ داری بنتی ہے کہ گناہوں سے بچیں اور سابقہ گناہوں پر استغفار اور آئندہ نہ کرنے کا پکا ارادہ کریں۔ پھر بھی گناہ ہوجائے تو فورا توبہ کریں ورنہ ہمارے گناہوں کا وبال کسی نہ کسی صورت میں ظاہر ہوتا رہے گا کبھی آٹے کا بحران ہوگا تو کبھی کسی دوسری چیز کا۔
تاجر برادری کی ذمہ داری
مسلمان تاجروں خصوصاًمل مالکان اور دکانداروں کی ذمہ داری یہ ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی لعنت سے اپنے کاروبارکو پاک کریں۔ اس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ اور کھانے پینے کی اشیاء میں کمی آرہی ہے غریب عوام آپ کے پیدا کردہ بحران میں بری طرح پس رہے ہیں۔ اسلامی طریقہ تجارت کے مطابق جائز منافع کمائیں۔
حکومت کی ذمہ داری
ارباب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے والی کمیٹوں کو فعال کر کے آٹے اور چینی وغیرہ کے بحران اور ذخیرہ اندوزی کے مستقل سد باب کیلئے مضبوط اور منظم اقدامات کریں۔جگہ جگہ اس کی کڑی نگرانی کریں اور عوام کو معاشی پریشانیوں سے آزاد کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔
اللہ کریم ہماری تمام ضروریات کو اپنے کرم سے پورا فرمائے۔ تمام پریشانیوں اور بحرانوں سے نجات عطا فرمائے اور عافیت کے ساتھ دین و دنیا کی تمام تر بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین