غصہ…سماجی و معاشرتی ناسور

تحریر : مولانا قاری محمد سلمان عثمانی


’’اہل تقویٰ وہ ہیں جو غصے کو قابو میں رکھتے ہیں‘‘(آل عمران) غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں (سورۃ آل عمران)

غصہ کرنا انتہائی بری عادت ہے۔ اس سے بہت سارے کام بگڑ جاتے ہیں اور انسان بہت سے قیمتی رشتوں کو کھو بیٹھتا ہے۔غصہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اپنی دنیا اور آخرت بہتر بنانے کیلئے ہمیں اپنے اندرسے غصہ جیسی بری عادت کو ختم کرنا ہوگا۔ جو لوگ اپنے غصہ پر قابو رکھتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ اپنے پسند یدہ بندے قرار دیتاہے۔ انسان ناراض ہو جاتا ہے، دوسروں سے بھی اور بعض اوقات خود سے بھی۔ جب ہم ناراض ہوجاتے ہیں تو ایسا ہی ہے جیسے ہمارا دماغ کہیں اور چلا گیا ہو جب دماغ کے جذباتی مراکز انتہائی متحرک ہوتے ہیں تو، ہمیں حقیقت میں منطقی طور پر سوچنے میں سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنے غصے کو ٹھنڈا کریں، سوچ کو معتدل کریں، گہری سانس لیں، اعوذباللہ پڑھیں، کچھ دیر آرام کریں، سیر کیلئے نکل جائیں، مراقبہ کریں، ورزش کریں، دعا کریں۔ اپنے ذہنی استحکام کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی ایساکریں جو آپ کے غصے کو ٹھنڈ ا کرے پھر،آپ زیادہ واضح طور پر اور مؤثر انداز میں گفتگو کرسکیں گے۔اکثر آپ نے دیکھا ہوگا کہ کوئی غصّے میں آتاہے تو اسے فوراً پانی پلایا جاتاہے یا پانی پینے کو کہا جاتا ہے۔ 

غصیلا انسان احکام اسلام اور حدود شریعت بھی پامال کرتا ہے اور خود کو  جہنم کا ایندھن بناتا ہے اس لیے اسلامی تعلیمات میں غصے کو تمام برائیوں کی جڑ اور بنیاد قرار دے کر اس پر قابو پانے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اہل تقویٰ وہ ہیں جو غصے کو قابو میں رکھتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ عفو ودرگزر والا معاملہ رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو محبوب رکھتے ہیں‘‘( آل عمران )۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’وہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں خوشی میں اور رنج میں اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے در گزر کرنے والے اور نیک لوگ اللہ کے محبوب ہیں (سورۃ آل عمران)۔سورۃ الشوری میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی سے پرہیز کرتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر دیتے ہیں‘‘، ’’اور برائی کا بدلہ اسی کے برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنوار لیا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بیشک وہ دوست نہیں رکھتاظالموں کو (سورۃ الشوریٰ)

انسان میں دو عادتیں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں ،ایک  پیٹ کی خواہشات دوسری  غصے کے جذبات۔قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں:وہ لوگ جو تنگی اور خوشی میں خرچ کرتے ہیں اور وہ جو غصے کو پی جانے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔مذکورہ آیت میں غصے کے گھونٹ کو پی کر معاف کرنے کا رویّہ اختیار کرنے والے لوگوں کو اللہ رب العزت اپنا پسندیدہ بندہ قرار دے رہے ہیں۔

بخاری شریف میں ہے کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کیا مجھے وصیت فرمائیں، آپﷺ نے فرمایاغصہ مت کیا کرو۔ اس نے پھر عرض کی یارسول اللہﷺ مجھے وصیت فرمائیں تو آپﷺ نے پھر یہی فرمایا کہ غصہ مت کیا کرو (بخاری شریف)۔ حضرت سیدنا ابو الدردا رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کی بارگاہ اقدس میں عرض کی یارسول اللہ ﷺ مجھے کوئی ایسا عمل ارشاد فرمائیں جو مجھے جنت میں لے جائے تو آپﷺ نے فرمایا غصہ نہ کرو، تو تمہارے لیے جنت ہے (مجمع الزوائد)۔بخاری شریف میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایاکہ طاقتور وہ نہیں جو بچھاڑ دے بلکہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔

حضور ﷺنے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنا غصہ روک لے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے عذاب روک لے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذر پیش کیا اللہ تعالیٰ اس کا عذر قبول فرمائے گا۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس غصہ کے گھونٹ سے بہتر گھونٹ نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطرپی لیا گیا (اشعۃ اللمعات)۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو غصہ پی جائے گا حالانکہ وہ نافذ کرنے پر قدرت رکھتا تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دل کو اپنی رضا سے معمور فرمائے گا (کنزالعمال)۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’پہلوان وہ نہیں جو لوگوں کو پچھاڑ ڈالے بلکہ طاقت ور وہ انسان ہے جو غصے کی حالت میں اپنے آپ کو قابو میں رکھے‘‘۔حضرت انس ؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺنے فرمایا ’’جو شخص اپنے غصے پر قابو پا لے اللہ تعالیٰ اسے عذاب سے محفوظ فرما لیں گے‘‘۔ (مساوی الاخلاق، حدیث نمبر321)۔

حضرت ابوسعید خدریؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا،غصہ آگ کی چنگاری ہے، تم میں سے جو شخص اسے محسوس کرے اگر کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اور بیٹھا ہو تو لیٹ جائے۔حضرت ابوسعید خدریؓ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد مبارک بھی نقل کرتے ہیں غصہ سے بہت بچتے رہو کہ وہ ابن آدم کے دل میں آگ پیدا کرتا ہے۔حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: کیا میں تمہیں بدترین لوگوں کی نشان دہی نہ کردوں؟ صحابہ کرام علیم الرضوان نے عرض کیا: ضرور کریں۔آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اکیلا کھائے اور اپنی نفع رسانی کو روک لے اور اپنے غلام پر کوڑے برسائے۔ پھر ارشاد فرمایا: کیا ان میں سے بھی بد ترین شخص بتاؤں؟ عرض کیا گیا ارشاد فرمائیے۔ فرمایا: وہ شخص جو لوگوں سے بغض رکھتا ہے اور لوگ اس سے بغض رکھتے ہیں۔ پھر ارشاد فرمایا اس سے بھی بد ترین آدمی بتلاؤں؟ عرض کیا گیا بتلائیے۔ ارشاد فرمایا: جو شخص کسی کی لغزش کو معاف نہیں کرتا اور کوئی معذرت قبول نہیں کرتا اور کسی کو کوئی جرم نہیں بخشتا۔ پھر فرمایا: اس سے بھی بد ترین آدمی بتاؤں عرض کیا گیا بتائیے۔ ارشاد فرمایا: جس شخص سے کسی خیر کی امید نہ ہو اور اس کے شر سے کسی کو امن نہ ہو (تنبیہ الغافلین)۔

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺسے سوال کیا مجھے ایسا کام بتائیں جس کی وجہ سے میں اللہ کے غضب سے بچ جائوں آپﷺنے فرمایا : ’’ غصے سے بچو جو شخص جس قدر اپنے غصے کو قابو میں رکھے گا اسی قدر اللہ کے غضب سے محفوظ رہے گا‘‘ (مسند احمد، حدیث نمبر 6635)حضرت علاء بن شخیرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریمﷺ کے سامنے کی جانب سے آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ ﷺ!کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: حسن اخلاق۔ وہ شخص دائیں طرف سے آیا اور آکر پھر وہی بات عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: حسن اخلاق۔ وہ شخص بائیں طرف سے آیا اور آکر پھر وہی بات عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: حسن اخلاق۔وہ شخص پچھلی طرف سے آیا اور آکر پھر وہی بات عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ تو آپ ﷺنے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: کیا تم حسن اخلاق کو نہیں سمجھ رہے ہو؟ جہاں تک ہو سکے خود کو غصے سے بچائو۔حضرت امام جعفر بن محمد ؒ فرماتے ہیں کہ غصہ تمام برائیوں کی کنجی (بنیاد) ہے اور امام عبداللہ بن مبارک ؒ سے کہا گیا کہ حسن اخلاق کی جامع تعریف کریں تو انہوں نے فرمایا کہ غصے کو چھوڑ دینا۔ (جامع العلوم والحکم)اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مولائے کریم ہم سب کو حضورﷺکے مبارک نقش قدم پر چلتے ہو ئے آپ ﷺکے اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین ثم آمین

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

گناہوں کا وبال

’’تم پر جو پریشانیاں آتی ہیں وہ تمہارے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہیں‘‘ (الشوریٰ: 30) ’’جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو اس کے رزق کوگھٹا دیا جاتا ہے‘‘ (موطا امام مالک: 1325)

اسلام میں تربیت اولاد کا تصور

’’اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں‘‘ (التحریم) ’’ اپنی اولاد کو ادب سکھلاو، قیامت کے دن تم سے تمہاری اولاد کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ تم نے ان کو کیا ادب سکھایا؟ اور کیسی تعلیم دی؟(شعب الایمان للبیہقی)

مسائل اور ان کا حل

کمیٹی ڈالنا :سوال: چند افراد مل کر ماہانہ دس ہزار روپے کی کمیٹی ڈالتے ہیں، قرعہ کے ذریعے جس کا نام نکلتا ہے اسے کمیٹی دے دی جاتی ہے۔کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟ (ابوبکر، بہاولپور)

اسلام آباد مذاکرات

دنیا کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے‘ جب یہ بات کہی جاتی تھی تو کچھ حلقے اس پر تنقید کرتے یا اسے مذاق سمجھتے تھے، مگر آج عالمی سطح پر اس امر کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور عالمی طاقتیں تسلیم کر رہی ہیں کہ اہم فیصلے پاکستان میں ہو رہے ہیں۔

جنگ بندی میں کردار، دنیا پاکستان کی معترف

امریکہ ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار سے جہاں دنیا بھر میں پاکستان کو پذیرائی مل رہی ہے وہیں پاکستان بھر میں بھی اس حوالہ سے خوشی کی لہر دو ڑ گئی ہے ۔

مہنگائی، شہری مسائل اور حکومتی دعوے

چار اپریل کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام کے ساتھ تھی، ہے اور رہے گی۔