نوجوانوں کو منشیات کے اثرات سے آگاہ کرنا ضروری : وائس چانسلر
نوجوانوں کو منشیات کے اثرات سے آگاہ کرنا ضروری : وائس چانسلرانسدادِ منشیات آگاہی سیمینار، تعلیمی اداروں، معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنے پر زور
سرگودھا (سٹاف رپورٹر) وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات کے تباہ کن اثرات سے آگاہ کرکے اور ان میں درست فیصلے کرنے کی صلاحیت کو فروغ دے کر معاشرے کو اس لعنت سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ منشیات کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے تعلیمی اداروں، خاندانوں اور معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام انسدادِ منشیات مہم کے سلسلے میں منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں ڈائریکٹر پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس سرگودھا ڈویژن جواد مسعود، ڈین فیکلٹی آف کمپیوٹنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر محمد الیاس، ایونٹ کے فوکل پرسن ڈاکٹر محمد اشرف اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر تصور حیات نے کہا کہ منشیات انسانی صحت کے ساتھ خاندانی اور معاشرتی زندگی کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔
نوجوانوں کو یہ شعور دینا ضروری ہے کہ اپنی زندگی اور مستقبل محفوظ بنانے کے لیے منشیات سے دور رہنا اور دوسروں کو بھی اس سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرنا ناگزیر ہے ۔ڈائریکٹر پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس سرگودھا ڈویژن جواد مسعود نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلبہ میں سوچنے ، سمجھنے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت انہیں انسدادِ منشیات کی کوششوں میں اہم کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے ۔
انہوں نے پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے قیام کے مقاصد اور نوجوانوں میں منشیات کی لت کے اسباب بیان کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کا کاروبار کرنے والوں کی حوصلہ شکنی اور ان کی آسان دستیابی کی روک تھام ضروری ہے ۔ ان کے مطابق منشیات کے عادی افراد میں بڑی تعداد 15 سے 34 سال کی عمر کے افراد پر مشتمل ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments