کاشتکاروں نے کینوکے مقرر کردہ نرخ مسترد کردیئے
پاک افغان بارڈرز کی بندش اور سمندری راستوں پر تجارتی مشکلات سے کینو کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ، کاشتکاروں کا وزیراعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ
سرگودھا (سٹاف رپورٹر) انتظامیہ کی جانب سے کینو کا نرخ مقرر کیے جانے پر کاشتکاروں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے ۔ پاک افغان کشیدگی، ایران بارڈر کی بندش اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث سمندری راستوں سے تجارت میں بڑھتے ہوئے خطرات نے کینو کے کاشتکاروں کو شدید پریشانی سے دوچار کر دیا ہے ، جبکہ انہیں بھاری مالی نقصان کا اندیشہ بھی لاحق ہو گیا ہے ۔ذرائع کے مطابق رواں سال کینو سیزن شروع ہونے سے قبل انتظامیہ کی جانب سے کینو کا نرخ 3,200 روپے فی من مقرر کیا گیا، جبکہ کاشتکار بھاری پیداواری اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمت 6 ہزار سے 8 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔
پاک افغان کشیدگی کے بعد ایران بارڈر کی بندش اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث سمندری راستوں سے تجارت میں مشکلات کے خدشات نے ایکسپورٹرز اور بیوپاریوں کو باغات کی خریداری کے حوالے سے تذبذب کا شکار کر دیا ہے ، جبکہ کاشتکار بھی سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔ کینو کی قیمتوں میں ممکنہ کمی اور پیداواری اخراجات زیادہ ہونے کے باعث کاشتکاروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا خدشہ ہے ۔ اس صورتحال سے کینو کی برآمدات اور ملکی زرمبادلہ کے حصول پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے ۔
ذرائع کے مطابق بیشتر بیوپاریوں نے تاحال کینو کے باغات خریدنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی، جبکہ ایکسپورٹرز اور جوس فیکٹریوں کے مالکان کی جانب سے بھی خریداری کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے ۔ کاشتکاروں کو خدشہ ہے کہ موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی پیداوار کم قیمت پر خریدنے کی کوشش کی جائے گی۔کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ کینو کی قیمتوں کے تعین اور برآمدی راستوں میں رکاوٹوں نے انہیں دوہرے بحران سے دوچار کر دیا ہے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کا مناسب معاوضہ دلانے اور کینو کی برآمدات میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں، بصورت دیگر کسان کینو کے باغات کاٹنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments