اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سبزیاں‘ پھل مہنگے

رحمتوں اور برکتوں ولا ماہِ صیام پاکستان میں عوام کے لیے معاشی آزمائش کا مہینہ بن کر رہ گیا ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو جیسے پَر لگ گئے ہیں۔ گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کی افسوسناک روش ہر سال کی طرح اس بار بھی عروج پر نظر آتی ہے۔ اس صورتحال میں حکومت کی انتظامی رٹ کہیں نظر نہیں آ رہی۔ بازاروں میں سرکاری نرخ ناموں کی خلاف ورزی ایک معمول بن چکی ہے‘ مخصوص سستے بازاروں میں جہاں ریٹ کنٹرول میں ہیں‘ وہاں معیار پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ اکثر مقامات پر درجہ دوم اور درجہ سوم کی سبزیاں اور پھل فرسٹ کلاس قیمتوں پر فروخت ہو رہے ہیں۔

بازاروں میں سیب‘ کیلا‘ امرود‘ کینو‘ انار‘ خربوزہ‘ انگور اور سٹرابری سمیت پھل اور سبزیاں طے کردہ سرکاری ریٹ سے دُگنے نرخوں میں فروخت ہو رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے متعدد انتظامات کے باوجود سرکاری ریٹ لسٹ کی خلاف ورزی اور مارکیٹ پر کمزور انتظامی رِٹ حکومتی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور مجسٹریٹس کو محض ریٹ لسٹ پر اکتفا کرنے کے بجائے عملی طور پر مارکیٹ کا جائزہ لینا چاہیے اور قیمتوں اور معیار میں توازن پیدا کرنا چاہیے تاکہ عام شہری کم از کم اس مقدس مہینے میں تو مہنگائی کے وار سے بچ سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں