6سے زائد ممالک مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونا چاہتے:اسحاق ڈار
افغانستان کو دکھانا ہو گا کہ انہوں نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور فتنہ الہندوستان کیخلاف کارروائی کی ہے بحری راستے عالمی معیشت کی شہ رگ ، ہر صورت کھلے ر ہنے چا ہئیں :نائب وزیراعظم کی پریس کانفرنس
اسلام آباد (دنیا نیوز، وقائع نگار) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 6 سے زائد ممالک مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ افغانستان کو دکھانا ہوگا کہ اس نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور فتنہ الہندوستان کیخلاف کارروائی کی ہے ۔ اہم بحری راستے عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں اور انہیں ہر صورت کھلا رہنا چاہیے ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک کا دورہ کامیاب رہا۔ وزیراعظم نے عالمی رہنماؤں کے سامنے پاکستان کا مؤقف مدلل انداز میں پیش کیا اور کشمیر، فلسطین، سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں، بھارت کے ساتھ جنگ اور ایران امریکا کشیدگی سمیت اہم عالمی و علاقائی امور پر بات کی۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ وزیراعظم نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سمیت اہم بحری راستوں کے حوالے سے پاکستان کا واضح مؤقف پیش کیا۔ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کیلئے اپنی ثالثی کی کوششوں سے بھی عالمی برادری کو آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، معاشی تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ 47 سال بعد امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطح کے مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے ، جو پاکستان کی سفارتی کوششوں کی اہم پیش رفت ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستان کے بڑے حمایتی ہیں، انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی گئی ہے ۔ وزیراعظم نے بل گیٹس، پرنس رحیم آغا خان اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی ملاقاتیں کیں۔افغانستان کے حوالے سے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کابل سے صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے دے ۔ افغانستان کو ثبوت دینا ہوگا کہ اس نے ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی کی ہے ۔دریں اثنا اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے 4 پاکستانیوں کو رہا کرا لیا گیا ہے ، جو اگلے روز وطن واپس پہنچیں گے ۔ رہائی پانے والوں میں یاسر خان، عقیل خان، امین بن شمس اور عثمانی غنی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید ہونے والے 3 پاکستانیوں کے جسد خاکی بھی وطن واپس لانے کیلئے اقدامات جاری ہیں جبکہ جبوتی میں پاکستانی سفارتخانہ رہائی پانے والوں کی واپسی کیلئے کوششیں کر رہا ہے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments