امریکا نے ایرانی ایٹمی پروگرام کی معلومات پر 2 کروڑ ڈالر انعام مقرر کردیا، سرحدی نگرانی کیلئے ٹاسک فورس قائم : ایران کے پاکستان سمیت 12 ممالک سے رابطے
حملے نہ کرتے تو تہران ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا ،پھر اسرائیل کا وجود ختم،مشرق وسطیٰ باقی نہ رہتا:ٹرمپ ، زیرزمین میزائل اڈوں ، تنصیبات کا نیٹ ورک قائم کر لیا:ایران خطے کی سلامتی میں بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیے :ایرانی وزیر خارجہ ،بحری ناکہ بندی سے ایران خام تیل کی 25ارب ڈالر برآمدات سے محروم رہا:امریکی سنٹرل کمانڈ
تہران،واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ خطے کی سلامتی کے انتظامات میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پاکستان سمیت خطے کے 12 ممالک کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں یہ موقف پیش کیا۔عراقچی نے ہفتے کو انسٹاگرام پر ایک بیان میں بتایا کہ ان رابطوں میں علاقائی اور عالمی صورتحال، امریکا اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اقدامات کے نتائج اور خطے میں مزید عدم استحکام روکنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق انہوں نے عمان، مصر، اردن، سعودی عرب، قطر، قبرص، ترکیہ، کویت، متحدہ عرب امارات، تیونس، عراق اور پاکستان کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ بات چیت کی۔عراقچی نے کہا کہ انہوں نے ان رابطوں میں ایران کے اصولی مو قف کی وضاحت کرتے ہوئے قومی خودمختاری کے احترام، جارحیت اور دھمکیوں کے خاتمے اور نقصان دہ بیرونی مداخلت سے گریز کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے علاقائی ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام پھیلنے سے روکنے کی ذمہ داری ادا کریں۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے ملک کے قومی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے جائز حق کو دہراتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کو بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر اپنے سلامتی کے انتظامات خود طے کرنے چاہئیں۔امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کیلئے 2کروڑ ڈالر تک کے انعام کا اعلان کیا ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کے پروگرام ریوارڈز فار جسٹس نے اپنے اعلان میں کہا ہے کہ یہ پیشکش ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ تنصیبات، آلات، سائنسدانوں اور دیگر افراد کے بارے میں معلومات پر لاگو ہوتی ہے ، جبکہ ایسے آلات کی منتقلی سے متعلق معلومات بھی اس میں شامل ہیں۔پروگرام کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکی قومی سلامتی اور مفادات کا تحفظ ہے ۔
اعلان میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے )کی 2025 کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے ، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کیا ہے ۔امریکی محکمۂ خارجہ کا یہ پروگرام ماضی میں بھی ایرانی تیل کی فروخت، نقل و حمل کے نیٹ ورکس اور پاسدارانِ انقلاب سے متعلق معلومات پر انعامات کی پیشکش کر چکا ہے ۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران کو جدید ہتھیاروں کے نظام اور دیگر ممنوعہ یا منظور شدہ اشیا کی منتقلی سے روکنے کیلئے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔سینٹکام کے مطابق ’آئرن گیٹ‘نامی اس ٹاسک فورس میں تقریباً 20 فوجی اور سویلین اہلکار شامل ہوں گے ۔ یہ فورس امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹیمپا میں قائم ہوگی اور اپنی سرگرمیوں کو امریکی حکومت کے دیگر اداروں کے ساتھ مربوط کرے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹاسک فورس ایران سے زمینی سرحدوں اور بحیرہ کیسپین کے راستے ہتھیاروں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے علاوہ جوہری استعمال کے سامان، غیر قانونی مالی ذرائع اور آمدنی کے نیٹ ورکس پر بھی توجہ دے گی۔
سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کا کہنا ہے کہ امریکی حکومتی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنا کر ایران کی دہشت گردی کی مالی معاونت، ہتھیاروں کی پیداوار اور اپنے فوجی ذخائر کی دوبارہ بحالی کی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے گا۔امریکی سنٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ ایران کے خلاف کئی ماہ سے جاری بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران 25 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا خام تیل برآمد کرنے سے محروم رہا ہے ۔امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ امریکاایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور تہران اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے گا۔فلوریڈا میں ناسا کے مرکز میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا امریکااس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے ۔جون 2025 میں امریکی بی ٹو بمبار طیاروں کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ حملے نہ کیے جاتے اور ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا تو اسرائیل کا وجود ختم ہو چکا ہوتا اور مشرقِ وسطٰی بھی باقی نہ رہتا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکاایسا کبھی نہیں ہونے دے گا اور ایران کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔پاسداران انقلاب کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ملک کے وسیع جغرافیے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیرِ زمین میزائل اڈوں اور تنصیبات کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا ہے جنہیں مقامی مہارت سے تیار کیا گیا ہے ۔ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محبی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع کے دوران آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس نے دشمن کے 260 طیارے مار گرائے ۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے دشمن کی بمباری کے باوجود میزائلوں اور ڈرونز کی پیداوار جاری رکھی اور پیداواری تنصیبات کو زمین کے اوپر سے زیرِ زمین منتقل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے ایرانی بحریہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار بحری جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ایرانی بحریہ کا کہنا ہے کہ یہ جہاز آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ایک ممنوعہ اور غیر محفوظ علاقے سے گزر رہا تھا اور اسے بار بار تنبیہ کیے جانے کے باوجود اس نے انتباہات پر توجہ نہیں دی تھی۔ایرانی بحریہ کے مطابق جہاز نے اپنا نیویگیشن سسٹم بھی بند کر رکھا تھا اور بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments